ستر سال اور کھوٹے سکے۔۔۔۔

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)

ستر سال گزر گئے،کیا کھویا کیا پایا؟کہاں سے چلے تھے اور اب کہاں کھڑے ہیں؟سیاسی نظام سے شروع کرتے ہیں جو کہ تمام نظام اور شعبہ جات کو کنٹرول کرتا ہے،تو شروع سے آج تک" کھوٹے سکوں"کا راج رہا، یہ کھوٹے سکے اپنا مال بناتے رہے، یہ کھوٹے سکے فوجی اور سول بیورو کریسی میں بھی اسی مقدارو معیار کے موجود تھے جیسا کہ سیاسی گروہوں میں موجود تھے،ملک کی تقدیر سچے اور محب وطن افراد کی بجائے ان "کھوٹے سکوں" کے ہاتھ میں چلی گئی۔ سیاسی عدم استحکام کو انہوں نے ہر دم قائم و دائم رکھا، جمہوریت کے نام پہ انہوں نے خاندانی گروہ بنا لئے،اور ملک کی زمینوں ، کارخانوں، تجارت اور وسائل پہ قبضے کر کے انہیں صرف اپنی خاندانی جائدادوں کی ترقی کے لئے استعمال کیا۔

فوجی اور سول بیرو کریسی نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے، لیکن اس" بہتی گنگا" میں ان کروڑوں انسانوں کی آہیں اور سسکیاں شامل تھیں ،جو غربت و افلاس، جہالت اور محرومی کی صورت میں ملتی رہیں۔ یہ "کھوٹے سکے" اور ان کے خاندان ترقی کی منازل طے کرتے رہے لیکن کروڑوں کا جم غفیر جاہل اور بیمار، غریب اور محروم رہا ۔ ان کھوٹے سکوں کے بچے اعلی تعلیم کے بعد حکمرانی کے اہل بنا دئے جاتے ہیں لیکن قوم کے کروڑوں ثپوتوں کے مقدر میں ذلت اور مایوسی کے سوا کچھ موجود نہیں۔
اب یہ "کھوٹےسکے"اس ملک کو "مکمل کھوٹہ" کرنے میں مصروف ہیں، تجارت بھی کھوٹی کر دی، صنعت کو بھی کھوٹہ کر دیا، تعلیم کی بجائے جہالت کو اس قدر فروغ ملا کہ آج انسانی تہذیبی اقدار بھی معاشرے میں ادنیِ سے اعلی سطح تک ناپید ہیں۔

انصاف کے نام پہ ذلتوں کا گھن چکر ہے، جس کی ڈور انتہائی کرپٹ مافیا وکلاء کے ہاتھ میں ہےجو بے رحمی سے عام لوگوں کا خون چوستے ہیں،کیا منصفی اور کیا منصفوں کے ایوان،ایک عام آدمی انصاف کی جستجو میں عمر کاٹ دیتا ہے،بے انصافی اور انصاف تک عدم رسائی کے نتیجے میں "مزید کھوٹے"لوگ معاشرے میں پیدا ہو رہے ہیں۔

بنیادی ضروریات،صاف پانی،سینی ٹیشن، صاف آب وہوا، صاف خوراک، مناسب لباس ، مناسب رہائش،روزگار یہ سب کچھ صرف یا تو""کھوٹے سکوں"کے لئے موجود ہے،یا اس کے لئے کھوٹا سکہ بننا پڑتا ہے۔
کھوٹہ سکہ بننا انتہائی آسان ہے،بس حکمران مافیا یا بدمعاشیہ کے ساتھ مل جائیں، ان کی خدمت کریں، ان کی خوشامد کریں، جس ادارے میں ملازم ہیں اس ادارے میں رہتے ہوئے ریاست یا ملک کی خدمت کی بجائے ان کھوٹے سکوں کی غلامی کریں ان کے مفادات کا تحفظ کریں، اس طرح ملک پہ قابض "کھوٹے سکے" تمام ذیلی اداروں کو کھوٹہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔

پولیس جو کہ عوام کے جان و مال و آبرو کے تحفظ کے لئے ہوتی ہے،لیکن "کھوٹے سکوں"نے ملک کے چاروں صوبوں میں اسے اس قدر کھوٹہ کر دیا ہے کہ اب ایک سپاہی سے لے کر تھانیدار اور افسر تک سب ہی اس قدر کھوٹے ہو چکے ہیں کہ ان کو ایک باقاعدہ منظم انداز سے عوام کو ہر طرح سے عدم تحفظ میں رکھنے کا، انہیں تھانے، کچہری اور جب چاہیں جہاں چاہیں ان کی عزتوں کو تار تار کرنے کا،ان پہ ہر طرح کے ظلم کا کھلا لائسنس دے دیا گیا۔اب یہ حکمران کھوٹے سکوں کی ایک منظم مافیا ہے جوتنخواہ تو اس بے بس قوم کے ٹیکسوں سے لیتی ہے لیکن کام""بڑے کھوٹے سکوں" کے مفادات کے لئے کرتی ہے۔

یہ تو ایک مثال ہے،ہر ادارہ وطن عزیز کا ان کھوٹے سکوں کے رحم و کرم پہ،اگر کسی ادارے میں کوئی دیانت دار فرد آ بھی جائے تو اسے کھوٹہ بنانے میں دیر نہیں لگائی جاتی،ورنہ اس کا کام تمام کر دیا جاتا ہے۔
"کھوٹے سکوں"نے اب اتنے کھوٹے سکے بنا لئے ہیں کہ ہرادارے میں اوپر سے لے کر نیچے تک سب اس ملک کی تباہی میں بھرپور شراکت دار ہیں، مثلاً کوئی الیکشن میں دھاندلی کرواتا ہے، تو کوئی ریکارڈ ٹیمپر کرتا ہے، تو کوئی جعلی اکائونٹ بنا کر دیتا ہے، تو کوئی جعلی ادویات بناتا ہے، تو کوئی ملاوٹ شدہ اشیاء بنا کر کھلے عام بیچتا ہے، تجارت تباہ، صنعت تباہ، تعلیمی نظام ناگفتہ بہہ، صحت کا نظام ناگفتہ بہہ،جس طرف دیکھو "کھوٹے سکوں"نے اپنا کام دکھایا ہوا ہے۔

حیرت یہ ہے کہ بڑے کھوٹے سکوں نے اس قدر معاشرے کو پراگندہ کر دیا ہے کہ ایک چپڑاسی اور کلرک کو بھی وحشی بنا دیا،وہ بھی بے رحمی سے اس ملک کی جڑوں کو کاٹتا ہے، اور ایک سیکرٹری اور جنرل اور ایک سیاستدان سب ایک ہی طرح کی کھوٹی سوچ کے مزاج شناس بن چکے ہیں۔

اب ان کھوٹوں سے کیسے چھٹکارا ملے گا، کیسے سب کچھ ٹھیک ہو گا؟ان کھوٹے سکوں نے وطن عزیز کو امریکی سامراج کے ہاتھوں گروی رکھ کر پوری قوم کے مقدر کومزید کھوٹہ کر دیا ہے، ایک محروم محکوم قوم بنا کر ذلت کے گڑھے میں گرا دیا ہے۔ستر سال میں ان کھوٹے سکوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔آج نوجوانوں کو ضرور سوچنا چائے اور یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ آیا وہ بھی کھوٹہ سکہ بنیں گے یا سچائی، حب الوطنی اور ایمانداری سے اپنے وطن عزیز اور اس بدنصیب قوم کو سامراجی چنگل اور ان "کھوٹے سکوں"سے نجات دلانے کی جدو جہد کریں گے۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68698 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
28 Aug, 2017 Views: 408

Comments

آپ کی رائے