پاکستان:امن کاضامن

(Sami Ullah Malik, )

جب سے ٹرمپ نے افغان پالیسی کااعلان کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہے،خودامریکامیں سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکاکی جنگ ہنسائی میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔ٹرمپ نے اپنی تقریرمیں امریکی فوج کی بے حد ستائش بلکہ خوشامدکرتے ہوئے اپنی افواج کے سابقہ طرزِ عمل کی نفی کی ہے۔اپنی فوج کی قربانیوں کاذکرکرتے ہوئے ان کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے یہ سوال کرنا بھی ضروری تھاکہ آخردنیاکی سب سے بہترین ٹیکنالوجی اورجدیدترین ہتھیاروں سے لیس فوج پچھلے سولہ سال سے اب بھی شکست سے کیوں دوچارہے؟ دنیا بھرسے اتحادی ممالک کی زمینی افواج کی بھرپورمدد اورآسمان سے بارش کی طرح خطرناک بموں کی بارش کے باوجودطالبان کی فتوحات کاسلسلہ درازہی ہوتاجارہاہے۔خودامریکی اطلاعات کے مطابق صرف افغانستان میں دس کھرب ڈالرسے زائدکے جنگی اخراجات کے علاوہ ۳۴۸۷/امریکی اوراتحادی افواج کے تابوت اورپندرہ ہزار سے زائدزخمیوں میں آٹھ ہزار مستقل معذورفوجیوں کی گراں قدرقیمت اداکرنے کے باوجودجاری جنگی جنون کوپاگل پن کے سواکیانام دیاجائے؟

ٹرمپ نے پاکستان پرتوقع کے مطابق دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ ترجیحی سلوک کاواضح تاثردیاہے۔ ٹرمپ نے بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پاکستان پراس لزام کودہرایاکہ بیس دہشتگردوں کی تنظیمیں نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ ان کی محفوظ پناہ گاہیں بھی موجودہیں جو افغانستان کے علاوہ دنیابھر میں دہشتگردی میں مطلوب ہیں۔اس دوران لیپاپوتی کرتے ہوئے اس دہشتگردی کے خلاف پاکستانی قوم کی قربانیوں کابھی اعتراف کیا لیکن ضربِ عضب اور ردّالفساد ایسے کامیاب آپریشنزکے ذکرسے گریزکرتے ہوئے ''ڈومور''کافوری مطالبہ کردیا۔ٹرمپ نے پاکستان پر دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی اور دہشتگردوں کے ساتھ پاکستان کے مبینہ نرم سلوک کاالزام تولگادیامگرپوری دنیا جانتی ہے کہ امریکابہادربرسوں سے عالمی سطح پر انسداددہشتگردی کے نام پر سب سے بڑے دہشتگردکا کردارادا کر رہاہے۔

اس حقیقت کوہرمتوازن اورسنجیدہ فکرمبصرتسلیم کرتاہے کہ صد رٹرمپ خود ایک عالمی دہشتگردہے جواقوام متحدہ کی قراردادوں کوردکرتے ہوئے بھارت کومقبوضہ کشمیرمیں کشمیریوں کوحق خودارادیت کامطالبہ کرنے کی بجائے ان کودہشتگردقراردے رہاہے جومودی سرکارسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پرعمل درآمدکامطالبہ کررہے ہیں۔امریکاکی جانب سے کشمیری عسکری کمانڈر سید صلاح الدین کے بعدکشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کو دہشتگردتنظیموں میں شامل کرنے کے خلاف مقبوضہ کشمیراورآزادجموں وکشمیرمیں احتجاج، اضطراب اوراشتعال کی جونئی لہراٹھی ہے،وہ بھی ٹرمپ دہشتگردی کا ردِّعمل ہے۔صدرٹرمپ نے قیام امن کیلئے پاکستان،بھارت اورافغانستان سے مددکی اپیل کی ہے۔انہوں نے پاکستان سے مزیدتعاون(ڈومور)کا مطالبہ کیاہے توبھارت اور افغانستان کوبھی غیرمبہم الفاظ میں یہ تاثردے دیاہے کہ انہیں'جنگ'میں مالی امداد کیلئے تمام ترانحصارامریکاپرنہیں کرناہوگا۔ افغانستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے ہماری طرف سے بلینک چیک کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔

پاکستان اوربھارت کاذکرکرتے ہوئے صدرٹرمپ بھارت سرکارکی ستائش کرنا نہیں بھولےکہ یہ ملک دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت ہے ۔اسے افغانستان میں پاکستان کے مقابلے میں اہم تراورنسبتاًزیادہ کرداراداکرناہوگا۔پوری دنیااس حقیقت سے آگاہ ہے کہ افغانستان میں بھارت پہلے ہی اپنے مکروہ پنجے گاڑ چکا ہے، وہاں''را''پوری طرح مصروفِ عمل ہے اور۱۸سے زائدبھارتی سفارت خانوں کا قیام سفارت کاری کی بجائے کھلم کھلاجاسوسی ہے اوریہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ جاسوسی پاکستان کے خلاف ہورہی ہے ۔ پاکستان بھرمیں بالخصوص بلوچستان میں دہشتگردی براستہ افغانستان ''را''کی کارستانیوں کازندہ ثبوت ہے جس کی تائیدو تصدیق کیلئے بھارت کا رسوائے زمانہ جاسوس کلبھوشن اعلانیہ کرچکا ہے۔

صدرٹرمپ کی طرف سے افغانستان کوبااضابطہ اتھارٹی دے دینے پرہرامن پسند اورذی شعورشخص پریشان ہے،اس اتھارٹی کے تحت بھارت کوبھی افغانستان میں مکمل مداخلت کا اذن مل گیاہے۔ٹرمپ نے بھارت کوجورول دیاہے اس پرعمل توپہلے ہی ہورہاہے مگراب بھارت پاکستان کازیادہ خطرناک دشمن بن کرسامنے آئے گا۔سچ یہ ہے کہ صدرٹرمپ کی افغان حکمت عملی پرتقریرپاکستان کیلئے واضح طورپر خطرے کی علامت ہے۔جہاں تک اس کایہ کہناہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کامقابلہ کرتے ہوئے پریشانیاں اٹھائی ہیں، یہ محض اشک شوئی کی بھونڈی کوشش ہے جسے پرپاکستانی بخوبی جانتا ہے۔ ٹرمپ کی تقریرسے ایک اوربات واضح ہوگئی ہے کہ امریکاکی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے جس کے تحت امریکی فوج کومقامی سطح پر آزادانہ کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔قبل ازیں افغانستاان وغیرہ میں لڑنے والی امریکی فوج کو واشنگٹن سے ملنے والی ہدایات کے مطابق کام کرنا ہوتاتھا،اب بیرون ملک کارفرماامریکی فوج کاسربراہ ہرقسم کافیصلہ واشنگٹن سے ہدائت حاصل کیے بغیرخودہی کر لیاکرے گا،جوبے حدخطرناک ہے کیونکہ فوج کا مخصوص ذہن ہوتا ہے جسے متوازن بنانے کیلئے حکومت سے مشاورت بلکہ حکم کی تعمیل ضروری ہوتی ہے۔اب توواضح طور پرنظرآرہاہے کہ امریکی فوج مرضی کے مطابق کھیلیں گے اور دوسری اقوام کے قتل عام میں اسے ذرّہ بھردریغ نہیں ہوگا۔

امریکی حکومت فوج کی عملاًنگران رہتی تواسے سیاسی صورتحال بھی مدنظر رکھناہوتی تھی،اب امریکی فوج سیاست کے مصالح نظراندازکرتے ہوئے محض غارت گری ہی کی' 'خد ما ت" انجام دیاکرے گی۔افغانستان وجنوبی ایشیا کے خطے کیلئے نئی پالیسی کے اعلان کے موقع پرٹرمپ نےپاکستان کےخلاف بڑھ چڑھ کرہرزہ سرائی کیلئے غنی اورمودی کی زبان استعمال کی اوربھارت سے اپنا اشتراک عمل بڑھانے کی بات کی۔امریکی ریاست ورجینیا کے فورٹ مائرآرلنگٹن میں فوجی اڈے پرتقریب کے دوران کہاکہ امریکا پاکستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں پرخاموش نہیں رہے گا۔پاکستان اور افغانستان کے معاملے کیلئے امریکی اہداف واضح ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں دہشتگردوں اوران کی پناہ گاہوں کا مکمل صفایاہو ۔ہماری پوری کوشش ہے کہ جوہری ہتھیاریاان کی تیاری میں استعمال ہونے والاموادبھی دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگے۔دنیاکی بیس غیرملکی دہشتگردتنظیمیں پاکستان اورافغانستان میں ہیں۔ پاکستان کیلئے ہم سے شراکت داری بہت سودمندرہے گی لیکن اگروہ مسلسل دہشتگردوں کاساتھ دے گاتواس کیلئے مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔ماضی میں پاکستان ہمارابہت اہم اتحادی رہاہے اورہماری فوجوں نے مل کرمشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی کی ہے۔پاکستانی عوام نے بھی دہشتگردی کی اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایاہے۔ ہم ان کی قربانیوں اورخدمات کوفراموش نہیں کرسکتے ۔اب وقت آگیاہے کہ پاکستان ان تمام فسادیوں کاخاتمہ کرے جووہاں پناہ لیتے ہیں جو امریکیوں کونشانہ بناتے ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف پاکستان کوایک کھرب ڈالرسے زیادہ کامعاشی نقصان پہنچانے والے امریکی صدرنے مونگ پھلی کے برابردی جانے والی مدد کو بڑھا چڑھاکرپیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستان کواربوں ڈالردیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انہی دہشتگردوں کوپناہ دیتاہے جوہمارے دشمن ہیں ۔ہم افغانستان میں عراق والی غلطی نہیں دہرائیں گے جس کے نتیجے میں داعش پیداہوئی۔وریں اثناء عالمی میڈیاکاکہناہے کہ ٹرمپ کی پالیسی کے امکانات بہت کم ہیں۔ امریکی حکام پاکستان کی رائے واسٹرٹیجک اندازوں کوتبدیل کرنے میں ناکام رہیں گے تاہم امریکانہیں چاہے گاکہ وہ پاکستان کوکھودے۔ بھارت کوساتھ ملانے کی کوشش کے نتائج خواہش کی نسبت برعکس نکلیں گے۔اوبامادورمیں نیشنل سیکورٹی سے وابستہ جوشووائٹ کاکہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کے بارے میں روّیے پرخودٹرمپ انتظامیہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔

امریکاکی جانب سے پاکستان کودہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سےچین نے پاکستان کادفاع کرتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کودہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی کوششوں کوتسلیم کرناچاہئے۔چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوچن ینگ کاکہناتھاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اوّل میں کھڑاہے اورامن دشمنوں سے جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کوعالمی برادری کواعتراف کرناچاہئے۔چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ پاکستان نے علاقائی اورعالمی سلامتی اوراستحکام کیلئے عظیم قربانیاں دیں جبکہ جنوبی ایشیامیں امن کے قیام کیلئے پاکستانی کردار کا ادراک کیاجانا چاہئے۔امریکی صدرکے الزامات پرچینی وزیرخارجہ وانگ ای نے پاکستان کی بھرپور حمائت کے عزم کااعادہ کرتے ہوئے پاکستان سے چینی محبت کے رشتے کودوام بخشاہے۔

اس خطے کی دوسری بڑی عالمی طاقت روس کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیرکابلوف نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کوتسلیم کرنے پرزور دیتے ہوئے ٹرمپ کی حالیہ دہمکی آمیزتقریرکی مذمت کی ہے۔خودا یک انٹرویو میں امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے کہاکہ امریکاکاپاکستان پرناجائزدباؤکاحربہ کارگرنہیں ہوگا البتہ اس دباؤسے امریکاکو نقصان پہنچ سکتاہے پاکستان کونہیں کیونکہ پاکستان امریکی امدادسے آزادہوچکا ہے،اسے چین جیسے طاقتوردوست کی مکمل تائیداورامداد حاصل ہے اور امریکا پاکستان کی فضائی اورزمینی راستوں کامحتاج ہے جس کے تعاون کے بغیریہ جنگ امریکاجیت ہی نہیں سکتا۔مائیکل موریل نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح ہے نہ ہی انھوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائے گی اور اس کا کردار کیا ہوگا۔

ادھرپاکستان کی قومی اسمبلی اورسینٹ کے اجلاس میں احتجاجی متفقہ قرارداد، قومی مکمل یکجہتی کااظہاراورامریکی سفیر کوبلاکراحتجاجی مراسلہ دینے کی تجویزمنظورہوئی ہے۔ خطے میں امریکی اوربھارتی بالادستی نامنظوراورپہلی مرتبہ "ڈومور"کے جواب میں"نومور"کاواضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کوویت نام یاکمبوڈیا نہ سمجھاجائے۔ قومی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے بعدوزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قربانی کابکرابنانا افغانستان میں استحکام کی کوششوں کیلئے مددگار ثابت نہیں ہوسکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226088 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Sep, 2017 Views: 319

Comments

آپ کی رائے