دھمکی اورتھپکی

(Sami Ullah Malik, )

امریکی جریدے ''دی ہیل''نے اپنے اداریے میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی جنوبی ایشیاسے متعلق تقریرپرمتنبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی نئی پالیسی پاکستان کو غصہ دلاسکتی ہے جو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود محسوس کر رہا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں ستر ہزار جانیں قربان کرنے کے ساتھ سوارب ڈالر کے بالواسطہ اور بلاواسطہ اقتصادی نقصانات سے دو چار ہوا ہے جبکہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمت عملی مستقبل میں نئی دہلی کو پاکستان کے ساتھ نئی پراکسی وار شروع کرنے کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔امریکی جریدے کے مطابق بھارت کو افغانستان میں وسیع کرداردینے کاجو اشارہ کیا گیا ہے کہ ''ہماری جنگ میں ہماری مزید مدد کرو "کے جواب میں ٹرمپ کو نئی دہلی کی جانب سے مسکراہٹ کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ٹرمپ کی طرف سے بھارت کو افغانستان میں بڑا کردار دینے کا عندیہ بھارت کو افغانستان میں پاکستان کے خلاف نئی پراکسی وار میں گھسیٹ لانے کا لائسنس ہوگا۔ پاکستان اس بات سے پریشان ہے کہ اسے مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر گھیرے میں لینے کی بات کی جارہی ہے۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی نئی پالیسی دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ہمسایوں کو آپس میں لڑا سکتی ہے جبکہ اس سے قبل سترسال سے امریکا کی پالیسی جنوبی ایشیا میں امن کو استحکام دینے کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے روکنے کی تھی جبکہ ٹرمپ کی نئی پالیسی یکسریوٹرن کے مترادف ہے ۔

دوسری طرف برطانیہ کے مشہورزمانہ تھنک ٹینک''رائل یونائیٹڈسروس انسٹیوٹ "نے بھی ٹرمپ کی تقریرپراپنی ناپسندیدگی کااظہارکرتے ہوئے مشورہ دیاہے کہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمت عملی پرپاکستان کودہمکی اور بھارت کوتھپکی دینے سے ناقابل یقین مشکلات پیداہوسکتی ہیں جبکہ افغانستان کے پرامن حل اوردیگرمعاملات پرپاکستان کی اشدضرورت ہے اورٹرمپ کی تقریرکے بعدپاکستان میں عسکری اداروں اورتمام سیاسی جماعتوں میں امریکاکے خلاف مکمل آہنگی واتفاق ہوگیاہے جس کے جواب میں مستقبل میں پاکستان کی طرف سے جاری تعاون ختم ہونے کا بھی امکان ہے ۔ادھر اسلام آبادمیں موجود امریکی سفیرروزانہ کی بنیادپرواشنگٹن کواپنی رپورٹس میں مطلع کررہاہے کہ نہ صرف پاکستانی اورعسکری حکام بلکہ پاکستانی عوام بھی امریکی رویے پر سخت برہم ہیں اورملک بھرمیں امریکاکے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی شروع ہوگئے ہیں جس میں حکومت سے مطالبہ کیاجارہاہے کہ اس مرتبہ امریکاسے کسی نرمی کامظاہرہ نہ کیاجائے۔اسلام آبادمیں موجوددیگر٦٣ممالک کے سفارتکاربھی اسی نوعیت کی رپورٹس بھیج رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیرخارجہ خواجہ آصف کی جانب سے امریکاکادورۂ ملتوی کرنے پربھی امریکی تشویش کاشکارہیں کیونکہ انہیںپاکستان کی طرف سے اس قدرسخت ردّعمل کی توقع نہیں تھی۔امریکی قائمقام نائب وزیرخارجہ برائے جنوبی اوروسطی ایشیاایلس ویلزنے اس سلسلے میں ہی پیرکواسلام آبادپہنچنا تھا جنہیں دورے سے روک دیاگیاہے۔واشنگٹن کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح امریکی دورے سے قبل پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف کوچین،روس اور ترکی کے دورۂ کرنے سے روک دے۔ذرائع کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کوقائل کرناتھاکہ امریکاکودورۂ ملتوی کرکے روس اورچین کوترجیح دینے سے غلط فہمیاں مزیدجنم لیں گی۔دفترخارجہ کی جانب سے امریکی حکام کویہ پیغام بھیجاگیا کہ پاکستانی حکام مصروف ہیں،جس پرامریکی خاتون نائب وزیرخارجہ کودورۂ ملتوی کرناپڑا۔

ادھرنئی امریکی افغان پالیسی کامؤثرجواب دینے کیلئے باقاعدہ طورپرسیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے گائیڈلائن دی جائے گی۔فی الحال پاکستان نے امریکی الزامات کافوری جواب دیاہے تاہم اس سلسلے میں باقاعدہ ریاستی پالیسی بننے کیلئے ایک سے ڈیڑھ ماہ لگے گاکیونکہ مستقل اورجامع پالیسی کیلئے پارلیمنٹ اورقومی سلامتی کے اداروں کی گائیڈلائن کے علاوہ یہ بھی دیکھاجائے گاکہ اس سلسلے میں روس،چین ،ترکی اورایران سے مکمل مشاورت ہوگی۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف اسی تناظرمیں اگلے چنددنوں میں ان ممالک کادورۂ کرنے کیلئے روانہ ہورہے ہیں،اس کے بعدہی پاکستان ایک جامع پالیسی مرتب کرے گا۔ اس پالیسی میں ہی یہ فیصلہ کیاجائے گاکہ ممکنہ جارحیت پرنیٹوسپلائی بندکرنے کے علاوہ اورکون سے آپشن اختیارکئے جاسکتے ہیں اوریہ کہ پاکستان کے خلاف اگرامریکااپنے ڈرون حملوں کاآغازکرتاہے توفوری جوابی ردّ ِعمل کیا ہونا چاہئے۔

اسٹیبلشمنٹ سے جڑے ذرائع کے مطابق پاکستان کے خلاف ٹرمپ کے پس پردہ عزائم سے یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ امریکا(ہاٹ پرسوٹ ) گرم تعاقب سے متعلق اپنی پرانی خواہش پربھی عملدرآمدکراناچاہتاہے تاہم متعلقہ چینلزکےذریعے امریکاکویہ پیغام پہنچادیاگیاہے کہ ماضی کی طرح اس باربھی کسی قسم کاایڈونچرکوقطعاًبرداشت نہیں کیا جائے گاکیونکہ پاکستان کی سرزمین سے کوئی دہشتگردسرحدپارکرکے کاروائی نہیں کررہاتاہم افغانستان کی سرزمین سے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے جس کی تازہ مثال عیدکے دن کراچی میں ایک سیاسی پارٹی کےایک رہنماء پرافغانستان سے تربیت یافتہ''انصارشریعہ'' کےافرادکے قاتلانہ حملے کی صورت میں سامنے آچکاہے۔ سابق صدراوبامانے جواے ایف پاک پالیسی بنائی تھی،اس میں گرم تعاقب کاآپشن رکھاتھاکہ ڈیورنڈلائن کو"نل اینڈ وائٹ"سمجھاجائے۔جب بھی امریکیوں کوٹارگٹ ملے گاوہ اس کاتعاقب کریں گے اوراس کیلئے فاٹامیں بھی داخل ہوسکتے ہیں تاہم اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی نے اس کے خلاف بھرپوراسٹینڈلیتے ہوئے کہاتھاکہ امریکاافغانستان میں اپنی جنگ لڑے اورپاکستان اپنی سرزمین پر دہشتگردوں سے خودنمٹے گا۔جنرل کے اس بیان کے بعداوباماکوگھٹنے ٹیکناپڑے اورپھر''ڈھال اور ہتھوڑا پالیسی پر اتفاق رائے ہوگیاتھا۔اگرپاکستان اپنے علاقے میں اس پالیسی پرعمل کرتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کرتاہے اوردہشتگردفرارہوکر افغانستان میں داخل ہوتے ہیں توپھرامریکااس سے نمٹے گا اوراگرامریکی افغانستان میں کاروائی کرتے ہیں اوروہ فرارہوکرپاکستان داخل ہوتے ہیں تو پاکستان ان کے خلاف کاروائی کرے گا۔ تاہم اہم ذرائع کے مطابق آج تک امریکی فورسزنے اس پالیسی پرایک مرتبہ بھی عملدرآمدنہیں کیا اور پالیسی کی سب سے بڑی خلاف ورزی اس وقت کی جب پاکستان نے اکتوبر٢٠٠٩ء میں آپریشن''راہِ نجات''شروع کیا۔ ٹھیک اس موقع پر امریکانے جنوبی وزیرستان کی دوسری طرف افغان سرحدپر قائم اپنی ساری چیک پوسٹیں ہٹالی تھیں اورپاکستان سے فرارہونے والےدہشتگردوں نے افغانستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنالئے۔ اوباماتومشاورت سے''گرم تعاقب''کی پالیسی اختیار کرناچاہتے تھے تاہم ٹرمپ دھونس کے ذریعے اس نوعیت کے اقدامات کے اشارے دے رہاہے جوکسی صورت قبول نہیں کئے جائیں گے۔

روس اورچین کی جانب سے پاکستان کاساتھ دینے میں ان کے اپنے مفادات بھی ہیں۔چین کے ''ون بیلٹ ون روڈ'' اور''سی پیک''پروجیکٹ میں افغانستان کابھی کلیدی کردار ہے ۔ سنٹرل ایشیامیں ساری آمدورفت افغانستان کے راستے ہونی ہے لہنداچین نہیں چاہتاکہ کابل میں امریکی وبھارتی اثرورسوخ قائم رہے اوریہ کہ افغانستان عدم استحکام سے دوچاررہے۔دوسری جانب روس کوخدشہ ہے کہ امریکاداعش کی سرپرستی کرکے جنوبی ایشیائی ریاستوں میں دہشتگردی کو فروغ دینے کاپروگرام رکھتاہے تاکہ اس کااثرروس کے اندر تک پہنچایاجا سکے۔ اس سلسلے میں وہ ازبک اورچیچن موومنٹ کو استعمال کرسکتاہے۔ ماسکوکے پالیسی سازوں کااس پراتفاق ہے کہ داعش خراسان کے آئیڈیاکے پیچھے امریکی ہاتھ ہے۔ پراناخراسان جنوبی ایشیائی ریاستوں اورپاکستان وایران کے کچھ علاقوں پرمشتمل تھا۔روسی پالیسی سازوں کے خیال میں امریکانے داعش کی خراسان خلافت کاشوشاچھوڑکربیک وقت روس،ایران اورپاکستان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے۔

کیااب وقت نہیں آگیاکہ ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی عہدشکنی کیلئے استغفارطلب کرتے ہوئے وطن عزیز میں اللہ کی حاکمیت کاعملی اعلان کرکے ہمیشہ کیلئے ان تمام پریشانیوں،رسوائیوں اورمصائب سے نجات حاصل کرنے کیلئے قرآن کے نفاذکااعلان کریں تاکہ ان تمام فتنوں سے بیک وقت نجات مل جائے جواسلامی نظام کی آڑمیں دشمن کے آلۂ کاربنے ہوئے ہیں۔یادرکھیں کہ وطن عزیزکاخواب دیکھنے والے بابااقبال بہت پہلے یہ کہہ گئے!
وہ ایک سجدہ جسے توگراں سمجھتاہے
ہزارسجدوں سے دیتاہے آدمی کونجات

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 149038 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2017 Views: 300

Comments

آپ کی رائے