نو مور --- امریکہ

(Najam Us Saqib, )

امریکی ونیٹو افواج نے افغانستان میں گزشتہ پندرہ سالوں سے امن کے نام پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ اپنی پوری طاقت، صلاحیتیں صرف کر چکے کہ کسی بھی قیمت پر افغانستان کو زیر کر لیں۔ افغانستان کے 45 فیصد علاقے طالبان کے انڈر کنٹرول ہے جو امریکی و نیٹو افواج کے لئے بہت بڑالمحہ فکریہ ہے۔ دُنیا کی جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی کےہونے کے ساتھ بے پناہ جنگی و سازو سامان سے لیس فضائی اور بری افواج کیوں طالبان اور داعش کوافغانستان میں شکست نہیں دے پارہی ہیں ۔متعدد بارامریکی حکومت اپنی ناکامی کا الزام پاکستان پرلگا تے رہے ہیں۔

کرم ایجنسی میں ہونے والا ڈرون حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےپاکستان مخالف بیان اورجاری کردہ پالیسی کے بعدکیا گیا جس کے بعد پاک امریکہ تعلقات مزیدکشید ے ہو گئے۔ پاکستان نے جہاں ڈرون حملے پر امریکہ سے بھر پور احتجاج کیا وہاں امریکی سے ملنے والے وفود اور شخصیات کے لئے پروٹوکول پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ بھی دیا ہے۔ امریکی سینٹ کام کمانڈر جنرل جوزف وٹل نے متعدد مرتبہ سرکاری طور پر وزیر دفاع خرم دستگیر سے ملاقات کا وقت مانگا جو ان کو نہیں دیا گیا۔ پاکستانی عوام نے ٹرمپ کی پالیسوں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ۔ دنیا باخوبی جانتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کےلئے بڑی جانی ومالی قربانیاں دی ہیں، ہماری عسکری افواج کے ساتھ عوام نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اپنے آپ کو فرنٹ لائن پر پیش کیا اور قربانیوں کا یہ نا روکنے والا سلسلہ جاری ہے۔

ہمارے ملک کا یہ المیہ رہا ہے کہ حکمرانوں نے کبھی عوامی سوچ و ہم آہنگی کو خاطر ہی نہیں لایا اورماضی میں حکمرانوں کے فیصلے ملک کے وقار کے منافی ہونے کے ساتھ قومی سلامتی کے لئے بھی خطرہ ثابت ہوئے۔ سابق صدر جنرل مشرف نے امریکہ کی ایک ٹیلی فون کال پرملکی سلامتی اور وقار کو داو پر لگاکرامریکہ اور نیٹو افواج کے ساتھ سہولت کار کا کردار ادا کیا ۔جس کے بعد امریکہ نے طالبان ، داعش اور دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے آڑ میں پاکستان کےکئی معصوم خاندانوں اور عوام کو ڈورن حملوں میں نشانہ بنا یا ۔ ایبٹ آباد آپریشن میں امریکی افواج کی کھلم کھلا غنڈہ گردی کی تاریخ بھی رقم ہوئی ۔ سلال حملے میں پاک آرمی کی چیک پوسٹ پرامریکی افواج کی جارحیت کی بدترین مثال ہے۔ ڈومور کے نام پر پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون جاری رکھا کیا لیکن اس کے جواب میں پاکستان کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ ماضی کے یہ شدید ترین تلخ تجربات وواقعات پاکستان صرف اس پورے خطے کی امن و سلامتی کے لئے برداشت کرتا رہا۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے اپنے مفاد کو بالا طاق رکھتے ہوئے صرف مفادات اورضروریات کی حد تک پاکستان کو من پسند دوست قرار دیا جب کہ دوسری طرف اپنی تمام تر تعاون اور مدد بھارت کے ساتھ اسٹیجک و اقتصادی و معاشی معاہدوں کی شکل میں قائم کئیں۔

امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان اور چین کے صدیوں سے تعلقات بہت گہرے اور دوستانہ ہیں اسلئے وہ بھارت کو چین کے مد مقابل لا کر پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کو بھی معاشی و اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ امریکہ کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اپنی ڈبل گیم کے ذریعے پاکستان پر دبائو اور پریشرقائم رکھےتاکہ پڑوسی ممالک سے تعلقات کو استوار کرنے سے روکے جا سکے ۔ امریکہ کو یہ معلوم ہے کہ پاکستان کی عوام و افواج ان کے حربوں سے خوف زدہ ہونے والی نہیں ، پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جو ہر قسم کے دبائو کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے کبھی بھی پاکستانی افواج و عوام کی جان و مال کے ضائع ہونے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنے مفادات و ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ کو نو مور کا واضح پیغام دے ۔

اسلامتی کونسل کے تمام ممالک کو چاہیئے کہ دنیا میں امن و سلامتی کے لئے حقیقی اورمثبت طور پر صحیح معنوں میں اپنا کردار ادا کرے ۔ آج پوری دنیا کے ممالک میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ کشمیر، فلسطین، برما، شام اور عراق میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔بھارت اپنی فوج کے ذریعے کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کا حق خو د ارادیت طاقت کے بلا بوتے پر کچلنے کے لئے عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کو ختم کر رہا ہے۔ برما (میانمیار) میں اقلیت کی بنیاد پر مسلمانوں کو دہشتگرد ثابت کر کے سر عام قتل کیا جا رہا ہے، برمی مسلم کیمونٹی کو جبراً ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جار ہا ہے۔اس وقت ضرورت صرف اس امر کی ہے تمام امت مسلمہ کی ضرورت ہے کہ وہ تمام اختلاف کو بالا طاق رکھ کر ایک صف میں کھڑے ہو جائیں اور سب مل کردہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اپنا بھر رول ادا کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Najam Us Saqib

Read More Articles by Najam Us Saqib: 17 Articles with 9438 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Sep, 2017 Views: 490

Comments

آپ کی رائے