اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ٹرمپ کی گیدڑ بھپکی

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گفتگو ، انداز ، لہجے ، شوخ وچنچل حرکتوں ، اپنی پالیسیوں ، حتیٰ کہ اپنی شکل و صورت سے دنیا کی سب سے بڑی اور طاقت ور ریاست کا سربراہ ہونا تو دور کی بات ہے وہ ایک عام سیاست داں بھی نظر نہیں آتا ۔ حیرت اور افسوس اس بات کا ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی جماعت نے اس میں کون سی صفات اور وصف دیکھا اور اتنا بڑا فیصلہ کیا کہ اسے اپنا صدارتی امیدوار بنالیا اور امریکی عوام پر بھی افسو س کہ انہوں نے اس شخص کے ماضی اور حال کو دیکھے بغیر ہیلری کلنٹن جیسی شائستہ، ملنسار، خوش اطوار، خوش مزاج، خوش خلق، خوش بیان، مؤدب، مہذب، سیاسی سوچ ، سیاسی فکر اور سیاسی سمجھ بوجھ کی مالک ، امریکی سیاست اور عالمی تعلقات کاادراک رکھنے والی ، سیاسی خاندان کی بہو یعنی سابق امریکی صدر کی شریک حیات، امریکی حکومت میں اہم عہدوں پر خوش اسلوبی سے خدمات انجام دینے والی کے مقابلے میں امریکہ کے ایک ارب پتی شخص ڈونالڈ ٹرمپ جسے پیسے بنانیکی مشین کہا جاتاتھا ،وہ بزنس کوترقی دینے کے گُر تو جانتا ہے لیکن سیاست میں کوراتھا، اس کے اثاثوں کی مالیت 3.7 ارب ڈالر بتائی جارہی تھی ،دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں اس کا نمبر 324واں تھا جب کہ امریکہ میں امارت کے اعتبار سے وہ 156ویں نمبر پر تھا ۔ عادات و اطوار کے اعتبار سے وہ بد تہذیب، بد اطوار، اوچھے پن کا مالک، فحش کلامی کرنے والا، دشنام طراز، دریدہ دہن، کثیف الطبع، کرخت، اجڈ، شیخی خورا اورچھچورا قسم کا انسان سمجھا جاتا تھا ،عمر کے اعتبار سے اب72 سے اوپر کا ہوچکا ہے ،غیر امریکیوں کو پسند نہیں کرتا حتیٰ کہ اس نے انتخابی مہم کو اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے گورے اور کالے امریکیوں میں نفرت کی دیوارکھڑی کرنے جیسا حربہ بھی استعمال کیا تھا، گویا متعصب ذہنیت کا حامل بھی ہے۔ اس کی رائے میں امریکہ میں موجود اقلیتی عوام امریکہ پر بوجھ ہیں اور مسلمان دہشت گرد ۔ گزشتہ تین دہائیوں میں وہ بے شمار مقدمات میں ملوث رہا،یہ مقدمات اس کے کاروبار کے حوالے سے تھے۔ اس کی آمدنی کا کوئی ٹھکانا نہیں 2015میں ٹرمپ نے اپنے آپ کو کوئی 38کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا مالک ظاہر کیاتھا۔ اس کی اچھی عادتوں میں ایک اچھی عادت یہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا نشہ نہیں کرتا۔ نیویارک میں پیدا ہوا ،ٹرمپ کا باپ جرمن اور ماں اسکاٹش تھی، ٹرمپ نے تین شادیاں کیں تینوں کا تعلق شوبیز سے ہے ، وہ خود بھی شوبیز کا آدمی ہے، موصوف ٹی وی نیٹ ورک میں پروڈیوسر اور میزبان بھی رہ چکے ہیں۔تعلیم کوئی خاص نہیں 1968 میں معاشیات میں گریجویشن کیا تھا ۔ اپنے والد کے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کاجانشین ہے ۔ میں نے ٹرپ کی زندگی کی کہانی میں بہت کھوج لگایا کہ کہیں اس کا تعلق سیاسی معاملات، حکومتی مشینری سے وابستگی ، فلاحی اور عوام کی بہتری کے لیے اس کا کوئی کام سامنے آئے لیکن کہیں بھی ایساکچھ نہیں ملا۔اس کے برعکس ہیلری کلنٹن ایک پڑھی لکھی ، Wellesley Collegeسے گریجویشن کیااور Vale Law Schoolسے J.D کی ڈگری حاصل کی ، عملی زند گی کا آغاز قانون کے پیشے سے کیا، 1975میں بل کلنٹن سے شادی ہوئی، وہ 1993سے 2001 تک امریکہ کی خاتون اول رہیں، اس دوران انہوں نے اپنے شوہر بل کلنٹن کے ساتھ مختلف سیاسی، غیر سیاسی،فلاحی اور صحت و طب کے مختلف کاموں میں عملی حصہ لیا،یہ ان کی سیاسی تربیت کا دور تھا، صدر اوباما صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے ہیلری میں سیاسی سوجھ بوجھ دیکھتے ہوئے انہیں سیکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول کر لی اور وہ 2009سے 2013تک اس اہم امریکی عہدے پر کام کرتی رہیں۔ اس اعتبار سے ہیلری امریکہ کی سیاست ، عالمی سیاست ، مسائل اور انتظامی امور میں مہارت کے درجہ پر پہنچ چکی تھیں۔ وہ ایک تخلیق کار بھی ہے۔ کالم نویس بھی اور کتابیں بھی لکھیں۔ 1995سے 2000کے درمیان Talking it Overکے عنوان سے کالم لکھے۔1996میں بچوں کے حوالے سے ایک کتاب تحریر کی جسےbest seller listمیں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ ہیلری کی دیگر تصانیف میں کئی کتابیں شامل ہیں 2003میں ہیلری نے اپنی سوانح حیات Living Historyکے عنوان سے تحریر کی، ہیلری کی اس کتاب پراُسے کتاب کے پبلشر کی جانب سے8ملین ڈالر معاوضہ ادا کیاگیا، اس سوانح حیات کی خصوصیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ پہلے ابتدائی مہینے میں اس کتاب کی ایک ملین کاپیاں فروخت ہوچکی تھیں۔ اس کتاب کے کوئی 12 زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود امریکی عوام نے امریکہ کی صدارت کے لیے ٹرمپ جیسے شخص کا انتخاب کیا۔ اب جیسا وہ ہے ، جو قابلیت، سیاسی تجربہ و بصیرت وہ رکھتا ہے ،وہ جو بھی فیصلے بھی ایسے ہی کریگا، اس کی باتوں میں پختگی نہیں ، سنجیدگی نہیں ، بردباری نظر نہیں آتی۔ اس کی واضح مثال منگل 19ستمبر 2017کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے اس کا خطاب ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے اس نے جس بھونڈے انداز سے کئی ملکوں کے بارے میں امریکی پالیسی کا اظہار کیا اس سے اس کے سیاسی تدبر اور سوچ کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ’ امریکی سلامتی سب سے اہم ہے‘ ، چلیے اس بات میں کوئی برائی نہیں ، امریکیوں کو اپنے سپر ہونے کا گھمنڈ ہمیشہ سے رہا ہے۔ پھر شمالی کوریا اور ایران کے بارے میں کہا کہ ایران سرکش اور کرپٹ ، شمالی کوریا خود کش باز نہ آیا تو تباہ کر دینگے، تہران سے جوہری معاہدہ شرمناک تھا، ختم کر دینگے، طالبان کے خلاف جنگ میں رولز تبدیل کردیے، ان کے خلاف آپریشن ہوگا، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں دوبارہ نہ بننے دی جائیں، القاعدہ، داعش اور اسلامی دہشتگردی ختم کردیں گے، شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر شمالی کوریا نے امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو اپنے دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ اسے صفحہ ہستی سے مٹادے گا۔ افغانستان کے بارے میں انہوں نے طالبان کے خلاف جنگ کے رولز تبدیل کردئے اور اب ان کے خلاف ملٹری آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ’راکٹ مین خود کش مشن پر ہے ۔ ایران کے بارے میں کہا کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ٹرمپ نے وینزویلا کو بھی امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا۔ وہ پاکستان کے بارے میں بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کر چکے ہیں۔ لیکن یہ سب باتیں ٹرمپ کی گیدڑ بھپکی سے زیادہ کچھ بھی نہیں وہ ایک چرب زبان ، ڈرپھوک لیڈر ہے، باتوں سے کام چلا تا ہے، شیخی خورہ ہے، بھڑکیا مار نے میں ماہر ہے۔ٹرمپ نے پہلے بھی شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے بعد جس قسم کے بیانات دیے ایسا لگتا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کو دنیا کے نقشے سے مٹادے گا لیکن اس وقت بھی ٹرمپ کے بیانات بھڑکیا ں ہی ثابت ہوئیں اور اب بھی ایسا ہی نظر آتا ہے کہ ٹرمپ کے اندر کچھ اور ہے اظہار کچھ اور کرتا ہے۔اب زمانہ بدل چکاہے دنیا کے نقشے پر صرف امریکہ ہی جوہری طاقت نہیں، بڑی طاقت نہیں اور بھی ہیں، امریکہ نے اگر کسی ملک پر چڑھائی کی تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چین جیسا ملک امریکہ سے کم طاقت کا مالک نہیں اور وہ پاکستان کا قدیم دوست بھی ہے۔ اس لیے ٹرمپ کو بلا وجہ کی دھونس دھمکی کے بجائے افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔امریکہ نے ایران کا کیا بگاڑ لیا، اس کی تمام تردھونس و دھمکی ، زبانی جمع خرچ ہی ثابت ہوئی ہیں۔ امریکہ کی تاریخ تو یہ رہی ہے کہ امریکہ کے صدر کو جب کبھی کسی بھی ملک کو حتیٰ کے پاکستان کو کوئی سخت پیغام دینا ہوتا تو وہ از خود یہ کام کرنے کے بجائے اپنے کسی وزیر، سفیر، سیکریٹری آف اسٹیٹ کے توسط سے بہت ہی شائستہ طریقے سے کہلوایا کرتے تھے لیکن ٹرمپ نے تمام تر شائستگی ، لحاظ مروت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے از خود پاکستان کی تذلیل کی ، اسے سخت تنقید کا نشانہ بنا یا۔ اس قسم کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان کا وفد وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں شرکت کررہا ہے۔ اس قسم کی خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے شاہد خاقان عباسی سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج وزیر اعظم نے امریکہ کے نائب صدر سے ملاقات ضرور کی ہے لیکن تاحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا شیڈول سامنے نہیں آیا۔ موجودہ وزیر خارجہ نے بھی اس حوالے سے کوئی واضح بات نہیں بتائی کہ صدر ٹرمپ وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔ سینٹ کے چیئ مین رضا ربانی کا کہنا درست ہے کہ صدر ٹرمپ کا وزیر اعظم سے ملاقات نہ کرنا توہین آمیز ہے۔ اگر ٹرمپ دیگر ممالک کے سربراہان سے ملاقات کرتا ہے لیکن پاکستان کو خاطر میں نہیں لاتا توپاکستان کو احتجاج کرتے ہوئے کسی بھی امریکی عہدیدار سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 656716 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
20 Sep, 2017 Views: 491

Comments

آپ کی رائے