جرمن سیاسی نظام اور پارلیمانی انتخابات!

(Mirza Rohail Baig, Germany)

جرمنی دنیا کے اہم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یورپ کے قلب میں واقع جرمنی کو یورپ کی اقتصادی شہ رگ کہنا غلط نہ ہو گا۔ 82 ملین کی آبادی کے ساتھ جرمنی یورپی یونین کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک بھی ہے۔ جرمنی اس وقت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہے۔ جرمنی کل سولہ صوبوں پر مشتمل ہے۔ ہر صوبے کی اپنی حکومت ہے اور اپنی پارلیمنٹ بھی۔ صوبوں کو بہت سے معاملات میں پالیسی سازی کے اختیارات حاصل ہیں۔ جرمنی میں کثیرالجماعتی نظام پایا جاتا ہے۔ جرمن عدلیہ ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔ اور کسی قسم کے حکومتی یا انتظامی دباؤ سے آزاد ہے۔ 1949 سے ہی جرمنی میں کرسچن ڈیمو کریٹک یونین (سی ڈی یو) اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کا غلبہ رہا ہے۔ جرمنی میں اب تک زیادہ تر مخلوط حکومتیں ہی بر سر اقتدار رہی ہیں۔ 1967 سے 1969 تک، 2005 سے 2009 تک اور 2013 سے تاحال جرمن حکومتیں کرسچن ڈیمو کریٹک یونین (سی ڈی یو) اور سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) پر مشتمل رہیں ہیں۔ اس کے علاوہ چند چھوٹی سیاسی جماعتوں نے بھی گذشتہ چند عرصے میں عوامی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ان میں فری ڈیمو کریٹک پارٹی، لیفٹ پارٹی دی لنکے اور ماحول دوست پارٹی گرین پارٹی شامل ہے۔ انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسیوں کے ردعمل میں ایک اور سیاسی جماعت وجود میں آئی۔ اس جماعت کا نام (اے ایف ڈی) آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ یا جرمنی کے متبادل ہے۔ موجودہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل اپنی تیسری مدت پوری کر کے چوتھی مدت کے لیئے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ انگیلا میرکل کا مقابلہ سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے رہنما مارٹن شلس سے ہے۔ جرمنی کا سیاسی نظام ترقی پذیر ممالک کے لیئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان دنوں جرمنی میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے جہاں پارلیمانی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ جرمن عوام چانسلر کا انتخاب براہ راست نہیں کرتے بلکہ وفاقی پارلیمان کو منتخب کرتے ہیں۔ ہر ووٹر کو دو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ ووٹر پہلا ووٹ اپنے حلقے سے براہ راست رکن پارلیمان کو منتخب کرنے کے لیئے ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار پارلیمان کا رکن بن جاتا ہے۔ ووٹر دوسرا ووٹ اپنی پسندیدہ پارٹی کو دیتے ہیں۔ ہر پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کی شرح اس کی پارلیمانی نشستوں کا تعین کرتی ہے۔ حکومت بنانے کے لیئے پارلیمانی اکثریت ضروری ہے۔ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں سیاسی پارٹیوں کو مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔ وفاقی الیکشن سے 69 دن پہلے تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ان کا کونسا امیدوار کونسے حلقے سے انتخابات میں حصہ لے گا۔ جرمنی میں سیاسی پارٹیاں اپنی انتخابی مہم کا آغاز تبھی کر سکتی ہیں جب الیکشن کی تاریخ میں چھے ہفتے رہ جائیں۔ کئی ممالک میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ وفاقی الیکشن سے ایک ماہ قبل ووٹر لسٹیں تیار کر لی جاتی ہیں۔ جرمنی میں اٹھارہ برس یا اس سے زائد عمر کا ہر شہری جنرل الیکشن میں ووٹ ڈالنے کا اہل ہوتا ہے۔ اس وقت جرمنی میں اہل ووٹرز کی تعداد 61.5 ملین ہے۔ الیکشن سے تین ہفتے قبل تمام ووٹرز کو بذریعہ ڈاک مطلع کر دیا جاتا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ الیکشن سے ایک ہفتہ قبل بیلٹ پیپرز کی تقسیم، پولنگ بوتھ کے قیام اور دیگر سازو سامان کے حوالے سے تیزی آ جاتی ہے۔ پولنگ کے 36 گھنٹے قبل تک شہریوں کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرا لیں۔ رواں ماہ چوبیس ستمبر کے دن جرمنی میں وفاقی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ اس دن اسکول، کمیونٹی سینٹرز اور بڑے بڑے ہالوں کو پولنگ سینٹرز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ پولنگ کا یہ عمل صبح آٹھ بجے تا شام چھ بجے تک جاری رہے گا۔ اسی رات ہی الیکشن کے نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ پچیس ستمبر کو الیکشن حکام کی جانب سے حتمی گنتی کے بعد سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ انگیلا میرکل اور مارٹن شلس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق انگیلا میرکل کو اپنے حریف مارٹن شلس پر برتری حاصل ہے۔ چند عرصہ قبل یورو زون کے مستقبل کے حوالے سے سوالات پیدا ہو چکے تھے مگر انگیلا میرکل نے اس معاملے کو بڑی خوش اسلوبی سے سلجھایا۔ انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ یورو زون کی تمام ریاستوں بشمول یونان میں اقتصادی ترقی جاری ہے۔ جرمن چانسلر نے 2015 میں مہاجرین کے لیئے اپنی سرحدیں کھولنے کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں۔ جرمن چانسلر کو اس پالیسی پر ملک میں کافی تنقید کا سامنا بھی رہا ہے۔ دوسری طرف انگیلا میرکل کے حریف چانسلر کے امیدوار مارٹن شلس نے الیکشن میں حصہ لینے کے لیئے یورپی پارلیمان کی سربراہی چھوڑی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مارٹن شلس سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے تین امیدوار میرکل کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mirza Rohail Baig

Read More Articles by Mirza Rohail Baig: 19 Articles with 7835 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Sep, 2017 Views: 460

Comments

آپ کی رائے