مادیت تباہی کا سبب بنتی ہے؟؟قسط نمبر 2

(Shafqat Ullah, )

یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ بادشاہ بننے کے بعد خوفِ خدا کتنے لوگوں میں رہ جا تا ہے ؟ لیکن میں مزاج کی بات کر رہا ہوں ۔ان ستر برسوں میں ہم نے جمہوریت دیکھی ہے سیاسی جوڑ توڑ اور حمایت کی خریدو فروخت! کیا تھا اس میں ،نتیجہ یہ کہ آئے دن حکومتیں بدلتی ہیں اور دنیا بھر میں تمسخر بن کر رہ گئے ہیں ہم ۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری قوم کا مزاج جمہوری نہیں ہے ۔عام لوگوں کو دیکھو ! ذرا سی بات پر لڑنے لگتے ہیں مسلمانوں کی تاریخ مناظروں سے بھری پڑی ہے کوئی ایک مثال سامنے لے آؤ کہ کسی ایک مناظرے کا کوئی مثبت نتیجہ نکلا ہو؟ آخر میں دونوں فریق اپنے نقطۂ نظر پر اٹل اور حامیوں کے مابین مارپیٹ اور سر پھٹوں ۔سیاسی لوگوں میں اختلاف تو ہوتا ہے اس پر بات ہوتی ہے اور دلیل سے ہوتی ہے ،معقولیت سنی جاتی ہے کوئی کسی کی بات تسلیم بھی کرتا ہے کبھی دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف میں لچک پید ا کرتے ہیں ،کچھ سمجھوتے کرتے ہیں بعض دفعہ کوئی رفع شر کیلئے مصلحت سے کام لیتے ہوئے دوسروں کی بات مان لیتے ہیں لیکن ایسا صرف اصولی اختلاف کی صورت میں ہوتا ہے اور ملک و قوم کے مفاد میں ہوتا ہے۔جہاں دو فریقوں میں اختلاف صرف اقتدار پر ہو وہاں کوئی سمجھوتا نہیں ہوتا۔اپنے ہاں کی مثال دیکھ لو بیالیس سال پہلے جمہوریت کیلئے الیکشن ہوا ، عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی اب دوسری اکثریتی پارٹی کو کیا حق ہے کہ وہ اکثر یتی پارٹی کو مجبور کرے جبکہ مرکز میں حکومت بنانا ان کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہئے ۔۔۔ اور وہ بھی غیر مشروط طور پر جبکہ آپ کی کسی ایک صوبے میں اکثریت ہے تو آپ وہاں حکومت بنا لیں ،یہی جمہوریت ہے ۔لیکن کیا ہوا۔۔۔؟؟ بھٹو صاحب کی باتیں اخبارات کی شہہ سرخیوں کی صورت میں آج بھی موجود ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی اور آگے فرمایا ۔۔۔۔ ادھر ہم ادھر تم۔۔۔ یہ پاکستان کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ سربراہ کا فرمان تھا ۔ کیا یہ طرزِ عمل جمہوری ہے ؟؟ جمہوری کیا ۔۔۔؟؟ یہ رویہ تو سیاسی بھی نہیں تھا ۔ کیونکہ جب انہوں نے ۔۔ادھر ہم ادھر تم ۔۔۔ کا نعرہ لگایا تو گویا نہ صرف ملک توڑنے کی دعوت دی بلکہ اپنی طرف سے اعلان بھی کر دیا! اور یہ ملک سے غداری ہے اور اب دیکھیں جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو اسے شہید کا لقب بھی لگایا گیا اور سارے غریب مر گئے ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے۔۔۔۔۔کوئی سیاست دان اتنا بے وقوف نہیں ہو سکتا ۔ میرے خیال میں بھٹو صاحب سیاست دان بھی تھے اور بے وقوف بھی نہیں تھے ۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو لیکن اقتدار کی شدید ترین خواہش نے انہیں کچھ بھی نہیں رہنے دیا انہوں نے سمجھ لیا کہ مشرقی پاکستان کے پاس اکثریت ہے لہٰٗذا انہیں کبھی چانس نہیں ملے گا ۔جو بات مجھ جیسا سادہ اور غیر سیاسی آدمی سمجھ سکتا ہے ممکن نہیں کہ ان جیسا زیرک سیاستدا ن نہ سمجھ پایا ہو ۔ اور وہ بات یہ ہے کہ جب کوئی پارٹی حکومت بناتی ہے تو اس کی مقبولیت میں کمی کا آغاز ہو جاتا ہے عوام کو اس سے شکایات ہوتیں ہیں جو بتدریج بڑھتی جاتی ہیں ادھر اپوزیشن کی مقبولیت بڑھتی ہے یہ جمہوریت کا اصول ہے بھٹو صاحب اگر شیخ مجیب الرحمٰن کو حکومت بنانے دیتے اور مشرقی پاکستان میں اپنی پارٹی کی رکنیت سازی کرتے عوا م سے رابطہ ہوتا اور پانچ سال میں کم سے کم اتنا ضرور ہوتا کہ عوامی لیگ اکثریت بہر حال حاصل نہ کر سکتی اور یہ بھی ممکن تھا کہ اگلے انتخابات میں پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کر لیتی ۔لیکن بھٹو صاحب نے ایسا نہیں کیا اور وہ اس لئے کہ مادیت کی آگ ان کے دل و دماغ کو جلائے جا رہی تھی وہ ہر صورت جلد از جلد اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے اور اقتدار مل بھی گیا انہیں لیکن اس کے بعد جو انہوں نے کیا وہ اور بھی برا کیا۔ اپنی پارٹی کو مضبوط بنانے ، اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے بلکہ اسے دوام بخشنے کی خاطر پاکستانی اداروں کے استحکام کو داؤ پر لگا دیا ۔اس کوشش میں وہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر ان ادارو ں کو نقصان پہنچا یا جو جو ملک کے استحکام اور ترقی کے ضامن ہیں ۔فوج کو وہ اپنے اقتدار کیلئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے اس لئے وہ سب سے پہلے فوج پر حملہ آور ہوئے ۔یحیٰ خان کے بارے میں جو اخبارات میں داستانیں شائع ہوئیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ افسانہ نہیں تھیں ، کہیں مبالغہ آرائی ضرور ہوئی ہو گی ۔لیکن بہر حال یحیٰ خان فوج کیلئے کوئی قابل فخر جنرل ہر گز نہیں تھے ۔ان کے بارے میں جان کر صرف محمد شاہ رنگیلا کا خیال ذہن میں آتا ہے لیکن ایک فرد کی ذاتی کمزوریوں سے ادارے رسوا نہیں ہوتے ۔سقوطِ ڈھاکہ کے بعد فوجیوں کے ہتھیار ڈالنے کی ویڈیو ٹی وی پر دکھا کر فوج کی تذلیل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔فوج پر دباؤ بڑھانے کی خواہش میں بھٹو صاحب ضرورت سے زیادہ آگے چلے گئے اگر وہ اچھے سیاستدان ہوتے تو اس کی جگہ فوج کا مورال بلند کر نے کی کوشش کرتے ۔فوج ان کی احسان مند بھی ہوتی اور حکومت کا کام سیاستدانوں پر چھوڑ کر خود عزت سے اپنا وقار بحال کرنے میں لگ جاتی ۔لیکن مسلسل تذلیل کی وجہ سے فوج کے اندر پیپلز پارٹی کے بارے میں معاندانہ جذبات ابھرے اور بھٹو صاحب کے اقدامات کے نتیجے میں یہ جذبات بڑھتے ہی رہے جو کہ ملک و قوم کے مفاد میں نہیں تھے اور پھر جنرل ضیا ء الحق کے مارشل لاء کے طور پر سامنے آیا۔میاں صاحب اقامہ میں پھنسے تو انہوں نے بھی عوام کے سامنے سچا ثابت ہونے کیلئے اداروں کی تذلیل کرنے میں کوئی کثر اٹھا نہیں رکھی۔۔۔ جاری ہے۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 213 Articles with 91533 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
27 Sep, 2017 Views: 354

Comments

آپ کی رائے