لاہور سے و ادی ہنزہ اور درہ خنجراب تک( سفرنامہ)

(Muhammad Raza, )

اﷲ تبارک تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کرتے ہوئے دنیا کو خوبصورت نظاروں سے نوازا ۔رسول اﷲ ﷺکے صدقے پروردگار عالم نے ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا کی۔ حسن اور رنگوں کی عطاؤں کا ذکر ہو تو سر زمین پاک کو ایسے دلکش نظاروں سے مزین کیا جسے دیکھتے ہوئے ہر آنکھ دنگ رہ جاتی ہے،شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی کوسمیٹنے کا اعزاز دشوار گزار پہاڑوں میں تراشی ہوئی اور بل کھاتی ہوئی دریائے سندھ اور کنہار کے کنارے شاہراہ قراقرم پر دریائے ہنزہ کے دامن میں وادی ہنزہ اور درہ خنجراب کو حاصل ہے جسے ہر سال ہزاروں ملکی اور غیر ملکی سیاح فطر ت کے حسین نظاروں کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے کھچے چلے آتے ہیں۔ ہر سال کیطرح اگست کی چھٹیوں میں جنت نظیر وادی ہنزہ جسے پاکستان کا سویزر لینڈ بھی کہا جاتاہے۔اس سے متاثر ہو کر وکلا نے متفقہ طور پروادی ہنزہ اور درہ خنجراب کے ٹور کا پروگرام تشکیل دیا ۔پاور گروپ آف لائیرز لاہور بار اور ہائیکورٹ بارکے پروفیشنل وکلا ء پرمشتمل وفد جس میں محمد رضا ایڈووکیٹ (راقم) ،محمد صدیق ،ملک محمد انور، ملک محمد دلاور،میاں محمود احمد،محمد کلیم اختر مغل ،جعفر حسین ملک زادہ ، سیٹھ محمد وسیم بوٹا ،چوہدری ریاست علی،اصغر علی،ملک عمر جان کھوکھر ، محمد آصف جمیل بھٹی ایڈووکیٹس ہائی کورٹ پر مشتمل لائیرز کاقافلہ ملک محمد دلاور ایڈووکیٹ کے آفس گجومتہ سے سات اگست گیارہ بجے را ت بذ ریعہ موٹروے وادی ہنزہ کے لئے روانہ ہوا سفر کی دعا کے بعد راقم نے تلاوت کلام پاک کی ، محمد کلیم اختر مغل اور چوہدری ریاست علی نعت رسول مقبولﷺ , کی سعادت حاصل کی ۔تمام دوستوں نے خوشگوار موڈ میں سفرکرتے ہوئے رات ڈھائی بجے کلر کہارمیں تھوڑی دیرقیام کیا۔راقم مسجد میں نوافل ادا کر کے جیسے ہی باہر نکلا تو سامنے مرشد پاک سید عرفان احمد شاہ صاحب نورانی چہرے کے ساتھ چودھویں رات کے چاند کی چاندنی میں راقم کی طرف تشریف لا رہے تھے۔ ٍ راقم نے یہ اپنا وہم سمجھ کر آنکھوں کو مسلامگر چند لمحوں میں شاہ صاحب حقیقت میں اپنے پاس پا کر بے پناہ خوشی ہوئی اور راقم نے عقیدت سے مرشد پاک کے ہاتھوں کابوسہ لیا مرشد پاک نے راقم کو محبت سے گلے لگاتے ہوئے ڈھیڑوں دعاوں سے نوازا۔ شاہ صاحب وضو کرنے کے بعد مسجد میں نوافل کی ادائیگی میں مصروف ہو گئے اور راقم حیرت کے سمندر میں گم شاہ صاحب کی شخصیت کے بارے خیالوں میں کھو گیا مسجد نبوی میں ہونے والا واقع یاد آگیا ۔ شاہ صاحب ہر سال رمضان المبارک کے آخر ی عشرے میں مسجد نبوی میں اعتکاف بیٹھتے ہے 2016میں سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ،پیر غلام رسول اویسی ، محمد صدیق نورانی بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ وقوعہ والے دن بعد از نماز عصرتمام دوست شاہ صاحب کے پاس آئے توشاہ صاحب نے کہا کہ میری طعبیت بہت اداس ہے میرا دل کر رہا ہے کہ میں روزہ توڑ دوں اس قدر کمزوری تھی کہ شاہ صاحب سے ہاتھ بھی نہیں اٹھا یاجا رہا تھا اگر آپ روزہ توڑ دیتے تو اعتکاف بھی ٹوٹ جاتا ۔آپ کی ایسی باتیں سن کر اعتکاف کے ساتھی پریشان ہو گئے کہ روزہ افطار ہونے میں ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت رہتا ہے شاہ صاحب کیسی باتیں کر رہے ہیں تمام لوگ شاہ صاحب کے ارد گرد جمع ہو گئے اچانک شاہ صاحب نے اونچی آواز میں درود شریف کا وردکرنا شروع کر دیا اور زور زور سے پکارنا شروع کر دیا کہ یا اﷲ بندہ دور چلا جائے بار بار پکارنے کے بعد آپ نے پھر پکارا کہ یاﷲ تیرا شکر ہے کہ بندہ باہر چلاگیا ہے۔اس کے تھوری دیر بعد خبر ملی کہ خودکش حملہ آور مسجد نبوی کے اندر جانا چاہ رہا تھا ، اگرحملہ آور اندر داخل ہو جاتا تو بہت نقصان ہو تا ،شاہ صاحب نے فرمایا کہ آج بھی میرا نبی ﷺ زندہ جاوید ہے انہوں نے حملہ آور کو واپس کیا جبکہ تمام ایجنسیاں فیل ہو چکی تھی ۔مسجد سے شاہ صاحب نوافل کی ادائیگی کے بعد باہر آئے تو راقم نے دوستوں کو شاہ صاحب کی اچانک آمد کا بتایا۔جس پر دوستوں نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا ،شاہ صاحب نے بتایا کہ میں ایبٹ آباد میں اپنے بزرگوں کے آستانے پر جارہا تھا جہاں تعمیر کاکام ہو رہا ہے ۔ اب کلر کہار سے تر و تازہ ہو کر وکلاء کا قافلہ سفر پر روانہ ہوا۔نماز فجر کی ادائیگی کیلئے جامع مسجد یا رسول اﷲ حسن ابدال میں ناصر خان ڈرائیور نے گاڑی کو روکاتمام دوستوں نے نماز فجر کی ادائیگی کی ۔سیٹھ وسیم نے اشارے سے جلدی گاڑی میں آنے کا کہا گاڑی نے دوبارہ اپنا سفر شروع کیا صبح آٹھ بجے ہم مانسہرہ پہاڑوں کے درمیان خوبصورت وادی جہاں محمد آصف جمیل بھٹی نے بڑی محبت اور چاہت سے پراٹھے اور بریانی جو کہ وہ اپنے گھر سے لے کر آئے تھے گرین ویو ہوٹل میں بیٹھ کرپر تکلف ناشتہ کیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد دوستوں نے مانسہرہ کے بازار میں ہلکی پھلکی شاپنگ کی ۔مانسہرہ سے ناشتہ کرنے کے بعد ڈرائیور نے گاڑی کا رخ ناران کی طرف کر دیا۔ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر محمد دلاور ملک اور کلیم اختر مغل فطرت کے نظاروں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ ہمارا قافلہ جیسے ہی ناران پہنچاتوایسا لگا جیسے کئی کئی میل تک روشنیوں کا ایک نگر آباد ہے۔سیاحتی مقام کی بجائے تجارتی مقام لگ رہا تھا۔جا بجا دوکانوں پر بھیڑ نے ناران کے حسن کو ماند کر دیا تھا۔ میاں محمد صدیق اور جعفر ملک زادہ نے پا رک ویو ہوٹل میں کمرے بک کروائے ۔کمروں میں سامان رکھنے کے بعدتمام دوستوں کا تھکاوٹ اور بھوک سے برا حال ہو رہا تھا ۔راقم میاں محمود کے ہمراہ دوستوں کے لئے کھانے کا بندوبست کرنے لگا۔ فوری طور پر لاہور ی ہوٹل سے بکرے کی کلیجی اور فرائی مچھلی تیار کروا کر کھانا تناول کیا ۔ہم دوست ناران بازار میں واک کرنے چلے گئے جلد ہی ہم کمروں میں جا کر خواب خرگوش کے مزے لینے لگے ۔ اگلی صبح شنواری ہوٹل ناران سے بڑا پر کشش لاہوری ناشتہ کرنے کے بعد ہماری گاڑی نے بابو سرٹاپ کے سفر کا آغاز کیا۔جیسے ہی بابو سرٹاپ پہنچے وہاں گا ڑیوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی ۔ معلوم ہواکہ چند روزپہلے چلاس کے قریب گلئشیرپگلنے سے جگلوٹ سے چند کلو میٹر پہلے یون اور تھک گاوں کے قریب پانچ کلومیٹر کے درمیان لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے راستہ بند ہو گیا تھا۔جسے انتظامیہ نے کئی دنوں کی انتھک محنت سے کھولا ۔راستہ خراب ہونے کی وجہ سے بیس بیس گاڑیوں کو گزارا جا رہا ہے ۔سیاحوں نے بتایا کہ ہم صبح دس بجے سے راستہ کھلنے کا انتطار کر رہے ہیں۔راستہ بند ہونے کی وجہ سے بابو سرٹاپ پر دکانداروں کی چاندی ہو گئی تھی ۔تمام دوستوں نے وہاں ہونے والی خوبصورت بونداباری کو خوب انجوائے کیا اور سلفیاں بنائی۔شدید سردی کے باوجودسیاحوں کی بڑی تعداد پہاڑوں کی چوٹیوں پر لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھائی دے رہے تھے۔کئی گھنٹوں کے تھکا دینے والے انتظار کے بعد انتظامیہ نے ہمیں آگے جانے کی اجازت دے دی ۔بابو سڑٹاپ 13590 فٹ بلند ہونے کی وجہ سے سانس میں دشواری آرہی تھی۔بابو سرٹاپ کی اونچائی کے بعد اب سفراترائی جو کہ انتہائی خطرناک تھی جگہ جگہ احتیاط اور محتاط انداز سے ڈرائیونگ کی ہدایات درج تھیں۔ڈرائیور نے اس کو زیادہ ہی سنجیدگی سے لے کر دس کی سپیڈ سے بریک لگا لگا کر سفر جاری رکھا ،جس پرمیاں محمود اور اصغر علی نے ناراضگی کا اظہار کیا۔اترائی سے نیچے اترنے کے بعد متاثرہ علاقے یون اور تھک گاوں جہاں لینڈسلائنڈنگ ہوئی تھی کے پاس پہنچے ۔تو راستہ اس قدر خراب تھا کہ پانچ کلومیٹر کا سفر تمام دوستوں نے پیدل چل کر کیا ۔روڈخراب ہونے کی وجہ سے سڑک مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ر وڈ میں کئی کئی فٹ گڑے بننے کی وجہ سے گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔اب نئے سرے سے سفر کرنا شروع کیا تو چلاس ضلع دیامیر کے علاقے زیرو پوائنٹ میں بلند و بالا پہاڑوں کے سائے میں داخل ہوئے تو دریائے سندھ کے کنارے گاڑی روک کرگلئشیر کے ٹھندے پانی سے وضو کرنے کا موقع ملا اور نماز عصر ادا کی گئی ۔ نماز کی ادائیگی کے بعد گاڑی نے اپنی منزل کی طرف فراٹیں بھرنا شروع کر دئیے۔ڈرائیور نے بتایا کہ ہم رات دس بجے ہنزہ پہنچ جائیں گے۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جب ہم بڑی تیزی کے ساتھ دریائے سندھ کو عبور کرتے ہوئے رائے کوٹ کے مقام پر پہنچے ہی تھے۔ کہ اچانک گاڑی رک گئی ۔ اور ڈرائیور سے وجہ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ گاڑ ی کا ٹائمنگ بیرنگ ٹوٹ گیا ہے۔جہاں پر مقامی پولیس نے ہمیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔بھوک کی وجہ سے تمام دوست رائے کوٹ کے مقام پر شنگھریلا ہوٹل کھانا کھانے کیلئے پہنچے جہا ں مینیودیکھ کراندازہ ہوا کہ یہاں اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھی۔ ۔ چکن کڑائی ،اٹھارہ سو روپے کلو سبزی ،دال کی پلیٹ ساڑھے چار سو روپے ،اور روٹی کی قیمت جس کا وزن پچاس گرام سے زیادہ نہ تھا وہ27روپے میں ملتی تھی۔ ہوٹل انتظامیہ نے کمی وپیشی کرنے سے انکار کر دیا ،جس کے باوجود کھانے کا آڈر دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔کھانا کھانے کے بعد ہوٹل کے لان میں نئی پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں مشاورت کی گئی اورطے پایا کہ گلگت پہنچ کر ہی قیام کیا جائے۔ چوہدری ریاست علی نے بڑی سنجیدہ گفتگو کے دوران کہا کہ ہمارا کھانا ادھر انتظار کر رہا تھا تو ہم آگے کیسے جا سکتے تھے۔ جس پر تمام دوست قہقہ لگائے بغیر نہ رہ سکے۔رائے کوٹ کے مقام سے رات ساڑھیگیارہ بجے دو جیپوں کو گلگت جانے کیلئے آمادہ کیا۔ گاڑی سے اپنا سازوسامان اتار کرجیپوں میں سوار ہو گئے رائے کوٹ سے گلگت کا 69 کلو میٹر کا سفر رات کی تاریکی میں فراٹے بھرتی جیپوں کا ڈیڑ ھ گھنٹے میں طے ہوا۔ گلگت بلتستان ہوٹل میں قیام کیا ۔ ہم جلد ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔گلگت کی پر سکون صبح کوناشتہ میاں محمود نے دوستوں کی مدد سے تیار کیا جسے بے حدسراہا گیا۔محمد دلاور ملک اور سیٹھ وسیم گلگت اڈے سے وقتی طورپرہنزہ جانے کے لیے گاڑی لینے چلے گئے۔ جبکہ اپنی گاڑی کے ڈرائیور نا صر کو کریم آباد میں گاڑی لے کر آنے کو کہا ۔ راقم عمر جان کھوکھر کے ہمراہ گلگت با زار کی سیر کے کئے نکل گیا وہاں سے تمام دوستوں کیلئے جشن آزادی کی مناسبت سے پاکستانی جھنڈوں کے بیج اور پرفیوم خریدے۔اسی دوران دوستوں کی کال آ گئی کہ جلدی واپس آ جائیں کہ گاڑی میں ہم نے سامان لوڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔ گاڑی میں سامان لوڈ کر کے بارہ بجے گلگت سے وادی ہنزہ کے لیے روانہ ہوئے۔ جیسے ہی گاڑی نے ہنزہ کیلئے سفر شروع کیا تو راقم نے دوستوں کو پاکستانی پر چم والے بیج تقسیم کئے جسے تمام دوستوں نے اپنے سینے پر چسپاں کر لیا۔ یہ سفر دوگھنٹوں پر محیط دریائے ہنزہ کی کنارے بل کھاتے ہوئے خوبصورت ندی نالوں سے اور برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں پر مشتمل تھا۔ جسے زندگی کا خوبصورت ترین سفر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ڈرائیور نے گھنٹے کی مسافت کے بعد چھلک گاوں میں گاڑی کو تھوڑی دیر قیام کیلئے روکا جہاں چند دکانیں تھی دوستوں نے وہاں ہلکی پھلکی شاپنگ کے ساتھ فطرت کے عظیم نظاروں سے لطف اندوز ہوئے ۔ دکانوں میں شب شرب (دیسی پیزا)مشہور تھی ۔جو بڑے سے توئے پر تیار کی جاتی ہے ۔اس کے اندر قیمہ ،پیاز اور دیگر مصالحۃ جات ڈال کر سموسے کی طرح بند کر دی جاتی ہے۔ ہم نے شب شرب کو کولڈ درنکس کیساتھ لطف اندوز ہوئے۔دوکاندار علی نے بتایا ہم روزانہ دو تین سو کے قریب شب شرب فروخت کر لیتے ہیں تمام راستے میں چیری ،اخروٹ اور بادام کے باغات وہاں کی خوبصورتی کو چار چاند لگارہے تھے شاہراہ قراقرم پر جہاں ہم دریائے ہنزہ کے کنارے سفر کر رہے تھے دریا کے دوسری طرف پہاڑوں پر دوسرے راستے کیا آثارات نظر آرہے تھے۔محمد ابراہیم جو ہنزہ کے قریب خاناں گاوں کا رہائشی نے بتایا کہ دریا کے دوسرے کنارے نظر آنے والا سلک روڈ 1974تک قابل استعمال تھا ۔ کئی سوسال تک زیر استعمال رہنے والا راستہ چین کے لو گ ا پنی اجناس برصغیر اور یورپ تک پہنچانے کیلئے پیدل اور گھوڑوں پراستعمال کرتے رہے تھے،پہا ڑوں اور دریاؤں کے کنارے نظر آنے والا سبزا قدرتی نہ ہے مقامی لوگوں نے گلئشیر کے پانی کو استعمال کرتے ہوئے خود باغات اورفصلیں کاشت کی ہیں۔راکا پوشی کا پہاڑ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ہنزہ ویلی کے علاقے کریم آباد میں الپائن فیملی ریسٹ ہاوس میں قیام کیا۔ رہائش کی خوبصورتی یہ تھی کہ ہر کمرے کی کھڑکی سے عظیم الشان پہاڑ راکا پوشی اور اس کے بیک سائڈ پر دلفریب چوٹی لیڈی فنگر پوری وجاہت سے نظر آتی تھی۔ وادی ہنزہ کے بارے میں دوستوں کو کچھ بتاتا چلوں۔ وادی ہنزہ شمالی پاکستان کا ایک علاقہ جو گلگت سے شمال میں ضلع نگر کے ساتھ شاہراہ ریشم پر واقع ہے جو سطح سمندر سے2500 میٹر بلند ہے۔لاہور سے اسلام آباد۔ حسن ابدال۔ ایبٹ آباد۔ مانسہرہ۔ تھا کوٹ۔ بشام۔ داسو۔ چلاس۔ گلگت سے ہوتا ہوا ہنزہ آتا ہے۔ جبکہ دوسرا راستہ مانسہرہ سے بالاکوٹ ناران اور بابوسرٹا پ سے چلاس کے ساتھ ملاتا ہے۔ وادی ہنزہ گلگت سے صرف 100 کلومیٹر اور دو گھنٹے کی مسافت پرفطرت سے بھر پورسر سبز دلکش پہاڑوں اور دریائے ہنزہ کے کنارے واقع ہے راولپنڈی سے جدید آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ گلگت و ہنزہ کے لیے ہر وقت دستیاب ہوتی ہے۔ اسلام آباد سے جہاز کے ذریعے گلگلت بھی جایا جاسکتا ہے۔ اپنی گاڑ ی سے ایک دن چلاس آرام کرکے باآسانی ہنزہ پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ وادی ہنزا 8000مربع کلومیٹر کے رقبے پر دلکش پہاڑوں ، گلئشیرز ، وادیوں اور باغات پر مشتمل ہے۔ ہنزہ میں مقامی راجہ کی حکومت ہوتی تھی جسے میر آف ہنزہ کہا جاتا تھا۔ بھٹو دور میں ریاستی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ہنزہ میں بھی یہ نظام ختم ہوگیا۔ وادی ہنزہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔ جس کی زبان بروشسکی ہے۔جو دنیا کی تنہا اور مشکل زبان ہے۔ جب کہ واخی اور شینا زبان بھی بولی جاتی ہے۔سیاحت کیلے اور اردگرد کے نظاروں کیلے کریم آباد مشہور ہے۔ کریم آباد میں ہوٹلوں کی بہتات ہے۔ سستے اور مہنگے ہر معیار کے ہوٹل مل جاتے ہیں۔ کریم آباد کے چاروں طرف اونچی بر فیلی چوٹیاں ہیں جن کے نظارے دنیا بھرمیں مشہور ہیں۔ ہنزہ کے اردگرد موجود چوٹیوں میں راکا پوشی، دیران پیک، گولڈن پیک، التر پیک ، لیڈی فنگر پیک مشہور ہیں۔ کریم آباد کا بازار ہنزہ کی ثقافتی اشیاء سے بھرا پڑا ہوتا ہے۔ ہنزہ میں پاکستانی سیاحوں کی نسبت غیرملکی سیاح زیادہ آتے تھے لیکن نائن الیون کے واقعے کے بعد غیر ملکی سیاح آنا بند ہو گئے جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کی سرمایہ کاری اور سیاحت کو نقصان پہنچا۔ اب پاکستانی سیاحوں کی اکثریت خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوتی نظر آتی ہیں کریم آباد میں موجود میر کا پرانا گھر بلیتت قلعہ کریم آباد کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ 700 سال پرانا یہ قلعہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کریم آباد کے قریب ایک پرانا قصبہ الیتت جو وادی ہنزہ کا سب سے پرانا علاقہ تصور کیا جاتا ہے جس میں موجود ا لتیت قلعہ 900 سال پرانا ہے۔وہاں ایک فٹ بال گراؤنڈ ہے جہاں مقامی لڑکیاں شام پانچ بجے میچ کھیلتی ہیں ۔جس کی سیر کے لئے روزانہ دو تین سو کے قریب سیاح 350روپے کا ٹکٹ خریدکرقدیم قلعے کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہنزہ کے گردو نواح میں ایک دن میں صبح جا کر شام گئے واپس آجانے والے سیر کے مقامات میں سب سے مشہور ایگل نیسٹ ہے یہ جگہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت برف پوش چوٹیوں پر پڑنے والی سورج کی کرنوں کی وجہ سے مشہور ہے۔اس مقام کو ایگل نیسٹ اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ ایک کی چوٹی کی طرف ایک بڑا سا پتھر جو کہ کسی عقاب کی طرح ہنزہ ویلی کی طرف جھکا ہوا نظر آتا ہے۔ دریا کے دوسرے کنارے پر واقع وادی نگر جہاں پر گلیشئیرز کا نظارہ دل فریب ہوتا ہے۔ راکاپوشی کے دامن میں واقع خوبصورت گاؤں مناپن ایک پورا دن بتانے کیلے بہترین جگہ ہے۔ نومل اور نلتر کی خوبصورت وادیاں سیاحوں کے دلوں کو لطف اندوزی سے بھر دیتی ہیں۔ریسٹ ہاوس میں قیام کے دوران دوست فریش ہونے کے بعد دریائے ہنزہ کے کنارے خوبانی، اخروٹ ،سیب اور چیری کے باغات کی سیر کے لئے نکل گئے ۔خوبانی اور سیب کے درخت فروٹ سے لدے ہوئے تھے ۔جو عجیب خوشنما سماں پیش کر رہے تھے ۔وہاں ہم نے سیب اور خوبانی کھانے کی خواہش کا اظہار کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں پھل فروخت نہیں کیا جاتا۔لوگ بڑی زندہ دلی سے خوبصورت لذیز اور میٹی خوبانی خود درخت سے اتار کر پیش کی جس کا ذائقہ بے حدمیٹھا تھا۔ہم نے جی بھر کے خوبانی کھائی ۔ مقامی شوشل ورکراعجاز کریم نے بتایا کہ یہاں بائیس اقسام کے خوبانیاں پائی جاتی ہیں جو اپنے ذائقے اور خوشبوکے لحاظ سے ساری دنیا میں منفرد ہیں۔خوبانی کے درختوں کی بہتات کی وجہ سے اسے خوبانیوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے ۔مارچ کے آخر میں ان پر پھول کھلتے جواپریل کے وسط تک موجود رہتے ہیں۔جس موسم میں خوبانی کے سفید اور ہلکے گلابی پھولوں کی وجہ سے خطے کی خوبصورتی دوبالہ ہو جاتی ہے۔سفید اور ہلکے گلابی رنگ کی آمیزش بڑی دیدہ زیب ہوتی ہے۔جب خوبانی کے درختوں پرپھول کھلتے ہیں تو جاپان سے بڑی تعداد میں سیاح ادھر آتے ہیں اور خوبانی کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر اپنی مخصوص عبادت کرتے ہیں۔راقم اورمیاں محمود نے بڑی محنت اور محبت سے یاک کا گوشت بنا رکھا تھا ۔تمام دوستوں نے خوب سیر ہو کر زندگی میں پہلی بار یاک کا گوشت کھایا ۔وہاں مقامی لوگوں نے برف پوش پہاڑ وں کے اوپر یاک کے فارم بنائے ہوئے ہیں۔جہاں سے ساڑھے چار سو روپے کلو یاک کا گوشت با آسانی دستیاب ہے۔یاک صرف برف کے نیچے اگی ہوئی گھاس کھاکر برف کے اوپر جہاں وہ سوتا ہے اس کے جسم کی حرارت سے2 فٹ تک برف پگھل جاتی ہے۔کھانا کھانے کے بعد تمام دوست کریم آباد کے بازار میں شاپنگ کرنے میں مصروف ہو گئے ۔ اگلے دن ناشتے کے بعد ہم درہ خنجراب کے لئے روانہ ہو گئے ۔ ہلکی بارش اور گہرے بادلوں کے سائے میں موسم بے انتہا خوشگوار ہو گیا تھا ۔ جیسے ہی گاڑی درہ خنجراب پہنچی تو وہاں عجیب سحر انگیز منظر کا عالم تھا ۔پہاڑوں نے چاندی کا لباس پہن کر نئی نویلی پاکیزہ دلہن کی طرح شرما رہے تھے ۔ہلکی برف باری نے ماحول کو پر اسرار بنا دیا تھا ۔ درہ خنجراب شاہراہِ قراقرم پاکستان اور چین کی سرحدپرواقع حسن ابدال سے شروع ہوکر چین کے شہر کاشغر تک جاتی ہے، درہ خنجراب کی بلند ی 15397 فٹ ہونے کی وجہ سے اسے دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے ۔خنجراب وخی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب پانی کا چشمہ یا گرتا ہوا پانی ہیں ۔ ہنزہ سے اس کی مسافت 160 کلومیٹر ہے۔ ہنزہ سے آگے شاہراہِ قراقرم پہ کچھ چھوٹے چھوٹے گاؤں آتے ہیں جبکہ پسو اور سوست نام کے دو نسبتا" بڑے گاؤں بھی آتے ہیں۔ ان میں سے سوست سب سے بڑی آبادی ہے ۔سوست ہی میں کسٹم چیک پوسٹ اور ڈرائی پورٹ بھی موجود ہے۔ہنزہ سے سوست جاتے ہوئے بہت سی مشہور پہاڑی چوٹیاں اور گلیشیئر بھی سڑک سے ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں دستگل سر، بتورا پیک، شیسپر پیک، پسو پیک، کوہِ قارون، گولڈن پیک وغیرہ قابلِ ذکر نام ہیں۔سوست سے آگے شاہراہِ قراقرم دشوار پہاڑوں اور خطرناک سرنگوں میں گزرتی ہے اور سوست سے آگے درہ خنجراب تک 80 کلومیٹر کی مسلسل چڑھائی ہے۔یہاں کی خوبصورتی دیکھ کر انسانی عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ یہاں شدید گرمی کے موسم میں بھی درجہ حرارت صفر ڈگری کے قر یب رہتاہے، اس لئے یہاں زیادہ دیر رکنے کا رسک بھی نہیں لیا جاتا ۔کسی بھی وقت یہاں بادل اکٹھے ہو کر برف باری شروع ہونے میں ایک منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔پاکستانی فوج کے چاکو چوبند جوان ڈیوٹی پر مصروف تھے ۔درہ خنجراب سے ہلکی برف باری کے سیاحوں کی کثیر تعداد لطف اندوز ہو رہی تھی۔وہاں دوستوں نے خوب سلفیاں اور گروپ فوٹو بنا کر حسین لمحات کو کیمروں میں قیدکر لیا۔وہاں صوفی شاعر حضرت بلھے شاہ کی دھرتی قصورسے سردار محمد شریف سوڈل صدر ڈسٹر کٹ یونین آف جنرنیلسٹ قصور ، نوید اے ملک ،رانارضوان احمدسول ججز صاحبان اور ڈاکٹر صفدرعلی سے درہ خنجراب پر ملاقات ہوئی جن سے مل کر تمام دوست بڑے خوش ہوئے۔سردار محمد شریف سوڈل نے بتایاکہ ہم اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے قصور سے درہ خنجراب آئے ہیں۔ اس خوبصورت وادی کہ لوگ چہرے پر حیا کی سرخی سجائے قدیم روایات کے امین ہے خالص خوراک لذیز پھلوں اور بہترین موسم کے ساتھ لوگوں کی عمریں دیگر علاقوں سے زیادہ ہیں ۔یہاں لوگ اعلیٰ کردار کے مالک جھوٹ اور فریب سے کوسوں دور ہیں۔وادی ہنزہ میں اﷲ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیاں نظر آئی ہیں ۔ یہاں کے پی کے کی پولیس کا رویہ سیاحوں سے درست نہ ہے بغیر کسی وجہ کے جہاں دل چاہتا ہے ناکہ لگا کر گاڑیوں کو لینڈ سلائنڈنگ کے بہانے روک لیا جاتا ہے اور پھر رشوت لے کر گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ دنیا کی چھت ہونے کی وجہ سے کچھ دوستوں کو سانس کی پروبلم محسوس ہو رہی تھی۔جس کی وجہ سے زیادہ وہاں قیام مناسب نہ تھا۔لیکن یہ مختصر قیام ان گنت نقو ش چھوڑ گیا تھا ۔ درہ خنجراب سے واپسی پر چند سال قبل لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بن جانے والی عطا ء آباد جھیل پر جیسے ہی گاڑی رکی۔ تو دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عطا ء آباد جھیل پوری دنیامیں بننے والی جھیلوں میں سب سے منفرد ہے جوگلگت سے120کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے عطاء آباد جھیل وادی گوجل کی حدود میں ہونے کی وجہ سے گوجل جھیل بھی کہلاتی ہے تاہم عطاء آباد جھیل کے نام سے ہی زیادہ مشہورہے۔ چند سال قبل نہ کتابوں اور نہ ہی تصاویر میں اس جھیل کا کوئی تذکرہ موجود تھا۔اس جھیل کی جگہ عطاء آباد نامی گاؤں اور ساتھ بہتا ہوا دریائے ہنزہ نظر آتا تھا۔تاہم اب اس گاؤں کی جگہ ایک خوب صورت جھیل نے لے لی ہے۔عطاء آباد گاؤں ہنزہ کے علاقے کریم آباد سے َ 14کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ 4جنوری2010 کو اس بدقسمت گاؤں پر ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں خوفناک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ چار ماہ رکا رہاجس سے اس گاؤں نے ایک بڑی جھیل کی شکل اختیار کر لی۔عطاء آباد جھیل اپنے نیلے رنگ کی وجہ سے لوگوں کو دور دور سے اپنی جانب کھینچتی ہے۔اصل میں آسمان کا عکس مکمل طور پہ غالب ہونے کی وجہ سے پانی ہمیں نیلے رنگ کا دکھائی پڑتا ہے۔ہر موسم کے لحاط سے اس کا پانی الگ رنگت بکھیرتا دکھائی دیتا ہے۔آسمان پہ سیاہ بادل ہوں تو جھیل بھی سیاہ دکھائی دیتی ہے۔عطائآباد جھیل کی لمبائی23کلومیٹر ہے۔جھیل کو پار کرنے کے لیے سیاح کم و بیش ایک گھنٹہ کشتی کے سفر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔پانی کے دونوں اطراف دیومالائی پہاڑ کسی الگ ہی دنیا کی تصویر کشی کرتے ہیں۔سورج کی شعاعیں پانی پر ہیروں کی مانند چمکتی نظر آتی ہیں۔جھیل کسی سیدھی سڑک کی طرح نہیں بلکہ مختلف موڑ لیے ہوئے ہے۔ ہر موڑ پہ ایک منفرد نظارہ آپ کوخوش آمدید کہتا ہے۔جھیل کے وسط میں ایک پراسرار خاموشی ہوتی ہے تاہم کشتی کا انجن اس خاموشی کا سینہ چاک کر دیتا ہے۔جھیل کے اختتامی موڑ پر پاسو کونز نامی ایک خوب صورت منظر ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے جھیل کنارے کھڑی مختلف رنگوں اور ڈیزائنوں کی کشتیاں بھی ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔عطاء آباد جھیل کی سیر کا سب سے بہترین سیزن موسم گرما ہے۔موسم سرما میں شدید سردی اور برف باری کے نتیجے میں جھیل کی سطح پہ برف کی مضبوط تہہ جم جاتی ہے۔اس کے علاوہ برف باری کی وجہ سے ان علاقوں میں آمد و رفت کے ذرائع بھی ختم ہوکر رہ جاتے ہیں۔عطاء آباد جھیل قدرت کا ایسا حسین تحفہ ہے جس کا شکر جتنا بھی ادا کیا جائے کم ہے۔ان مناظر سے تمام دوست بھر پور لطف اندوز ہوئے۔ کلیم اختر مغل ،محمد آصف جمیل اصغر علی ،میاں صدیق ،جعفر ملک زادہ ،ملک انور اور محمد دلاور ملک نے کشتی رانی سے بھر پور لطف اندوز ہوئے۔اس موقع پر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد عطا آباد جھیل کے نیلے پانی اور بلند و بالا پہاڑوں کے خوبصورت مناظر کو اپنے آنکھ کے کیمروں میں بندکرنے میں مصروف تھے۔جھیل کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کے بعد دوبارہ سفر کا آغاز ہوا اور ہم اپنے ریسٹ ہاوس کریم آباد پہنچ گئے۔جہاں پہنچ کرمیاں محمود اورسیٹھ وسیم نے رات کے کھانے کا اہتمام کیا ۔جبکہ راقم میاں محمد صدیق کو مقامی ڈاکٹر افتخار کے پاس چیک اپ کروانے کے لئے چلا گیا۔ڈاکٹر کے پاس جا کر میاں محمد صدیق نے سینے اور گلے کا پروبلم بتایاتو ڈاکٹر نے مکمل چیک اپ کرنے کے بعد ایک لمبا سا نسخہ لکھ کر پانچ دن آرام کرنے کا مشورہ دے دیا۔رات کے کھانے پر گرما گرم بحث کے ساتھ اگلے روز کی پلاننگ طے کی گئی ۔صبح سات بجے ناشتہ کرنے کے بعد ریسٹ ہاوس کو چھوڑ کر کریم آباد ایگل نیسٹ روانہ ہونا تھا۔جس کی وجہ سے رات دیر تک دوست کریم آباد میں ہنز ہ کی مقامی اشیا کی خرید اری کرتے رہے ۔ مقامی افراد فرمان کریم اور جعفر حسین نے راقم کو خوبصورت ہنز ہ ویلی کے بارے میں بتایا۔ہنزہ وادی کے لوگوں اوسط عمر 100سال سے زیادہ ہے ۔ان کی لمبی عمر کا راز نیچرل لائف سٹائل ہے یہ لوگ گوشت بہت کم استعمال کرتے ہیں۔تین ماہ تک صرف فروٹ کھاتے ہیں یہاں درجہ حرارات ہمیشہ صفر سے کم رہتا ہے یہ لوگ ٹھنڈے پانی سے نہانا پسند کرتے ہیں۔ان لوگوں کو ڈاکٹروں اور دوائیوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں کینسرکا ایک مریض بھی نہیں۔لوگوں کے چہرے پر کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی کے احساسات نظر آتے ہیں۔یہاں کے لوگ اتنے خوبصورت دکھائی دیتے ہے جیسے یہ اس دھرتی کہ نہیں آسماں سے آئے ہوں۔کہ یہاں سو فیصد ایجوکیشن ہے ۔ہر پانچواں شخص پی ایچ ڈی ہے۔ کیونکہ ہم لوگ تعلیم پرسرمایہ کاری کرتے ہیں ہے جس کی وجہ سے کرائم ریٹ زیرو فیصد ہے ہم اپنی مدد آپ کے تحت نظام چلا رہے ہیں یہاں ہم لوگ خوشیاں چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں ہمیں گلئشیر سے آنے والا ہنزہ واٹر دستیاب ہے جو معد نیات اور سلاجیت سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس کا رنگ گدلا مٹی کی طرح محسوس ہوتا ہے اگر اسے سورج کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس میں سونے جیسے ذررات چمکتے ہوئے نظر آئے گے۔اس کا پانی زودہضم ہے ہم لوگ یہی پانی استعمال کرتے ہیں۔80 سال قبل انگریز مصنف نے ہنزہ واٹر پر تحقیقاتی کتا ب لکھی ہے جس میں اس نے لکھا کہ یہاں کے لوگوں کی طویل عمری کا راز گلئیشیر سے آنے والا یہ پانی ہے۔ جو آج بھی انٹر نیٹ پر موجود ہے۔ یہاں خوبانی،اخروٹ ،شہتوت ، چیری اورسیب کے باغات باکثرت ملے گے اگر حکومت توجہ کرے تو لوگ سوئزولینڈ جانے کی بجائے وادی ہنزہ کا رخ کرے۔صبح جلدی ناشتہ کرنے کے بعد ایگل نیسٹ کے لئے قافلہ روانہ ہوا ۔ ایگل نیسٹ ہنزہ کا خوبصورت مقام ہے جو لیڈی فنگر کے سائے میں انتہائی بلندی پر واقع ہے، 1990ء کی دہائی میں اس جگہ پر ’’ایگل نیسٹ‘‘ کے نام ایک ہوٹل تعمیر ہوا جس کی وجہ سے پوری چوٹی کو ’’ایگل نیسٹ‘‘ کا نام دے دیا، یہ ہوٹل اب خوبصورت ’’ریزارٹ‘‘ بن چکا ہے، یہ وادی کی ’’پرائم لوکیشن‘‘ ہے، آپ کو یہاں سے ہنزہ اور نگر کی وادیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ دنیا کے خواہ کسی بھی کونے سے کوئی سیاح آئے وہ ’’ایگل نیسٹ‘‘ ضرور پہنچتا ہے،آپ یہاں سے لیڈی فنگر اور راکا پوشی کے سارے رنگ دیکھ سکتے ہیں، وہ چٹان بھی ایگل نیسٹ ہوٹل کے ساتھ ہے جہاں سے11 چوٹیاں نظر آتی ہیں، یہ تمام چوٹیاں 6 ہزار میٹر سے زیادہ بلند ہیں یہ مقام طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سیاحوں کی ’’عبادت گاہ‘‘ بن جاتا ہے،۔ صبح اور شام ایگل نیسٹ کے دو خوبصورت انمول وقت ہیں۔جیسے ہی ہماری گاڑی ایگل نیسٹ کیلئے چڑھائی چڑھتے ہوئے چند موڑ ہی مڑی تھی ۔تو ڈرائیور نے کہاوزن زیادہ ہونے کہ وجہ سے گاڑی کو چڑ ھائی چڑھنے میں دشواری آ رہی ہے نوجوان لوگ نیچے اتر کر پیدل اوپر آئیں۔ محمد دلاور ملک چوہدری ریاست علی ، سیٹھ وسیم ، اصغر علی ، جعفر حسین ملک زادہ ، عمر جان کھوکھر ہمراہ راقم گاڑی سے نیچے اتر آئے اور پیدل سفرشروع کر دیا چڑ ھائی کی وجہ سے چلنے میں دشواری آ رہی تھی ۔پندرہ منٹ چلنے کے بعد راستے کے ساتھ ایک خوبانی کے باغ میں خوبانیاں کھانے کا پروگرام بن گیا تو وہاں موجود سر تاج خاں جو اس باغ کا مالک تھا اسے سیٹھ وسیم نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم نے خوبانی خریدکر کھانی ہے۔ انہوں نے فورا چار پانچ کلو خوبانیاں توڑ کر خدمت میں پیش کر دی ۔اور کہا کہ ہم لوگ خوبانی بیچتے نہیں ہیں خشک کر کے ڈرائی فروٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ میں بھی آرمی میں بیس سال لاہورمیں ملک کی خدمت کرتا رہا ہوں۔پیٹ بھر کر خوبانیاں کھانے کے بعد دوبارہ سفرکا آغاز کیا۔تو چوہدری ریاست علی نے اچانک شارٹ کٹ پہاڑ پر چڑ ھنے کا فیصلہ کر لیا ۔جسے دوستوں نے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا جس کی وجہ سے راقم بھی اس کے پیچھے ہو لیا ۔ اوپر سے گرتے چشمے کے ساتھ ساتھ پاؤں رکھنے کی جگہ بنی ہوئی تھی جہاں ہم سنبھل سنبھل کر اوپر پہاڑ کے چڑھنا شروع ہو گئے ۔پندرہ منٹ بعدہمارا پسینے سے برا حال ہو گیا اور ہم تھک کر بیٹھ گئے اتنے میں ایک بزرگ نیچھے سے اوپر آتے ہوئے نظر آئے ہم نے ان سے ایگل نیسٹ جانے کا راستہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اوپر جانے کیلئے سڑک کا راستہ ہی موزوں ہے یہ راستہ انتہائی خار دار جھاریوں پر مشتمل ہے جسے ہم کبھی استعمال نہیں کرتے آپ نے اس راستے کا انتخاب کر کے بڑی غلطی کی ہے ۔بزرگ نے اپنا نام مدد علی بتایا۔اور کہا کہ دس منٹ کی مسافت پر اوپر میرا خوبانی کا باغ ہے اور میں سابقہ آرمی آفیسیرہوں۔ مدد علی نے ہمیں اپنے باغ تک لے جا کر ہمیں بتایا کہ آپ نے اس راستے کہ اوپر چلنا ہے ا ورآگے سے دائیں طرف مڑ کر دور سب سے بڑے درخت کی سمت اپنا سفر جاری رکھیں تو ایک گھنٹے بعد ایگل نیسٹ آ جائے گا۔لیکن اوپر جا کر انتہائی کانٹے دار جھاریاں ہوں گی جن کو احتیاط سے عبور کرنا ہے اور نیچے سے راستہ بھی خراب ہے ہم مدد علی کو خدا حافظ کہ کر اﷲ ُ اکبر کا ورد کرتے ہوئے منزل کی طرف روانہ ہوئے ۔دو مرتبہ ہم اپنے راستے سے بھٹکے لیکن بزرگوں کی دعاؤ ں سے جلد ہی ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور ہم درست جانب چل پڑے۔جیسے ہی ایگل نیسٹ دس منٹ کے فاصلے پر تھے تو ہمیں ایک ہوٹل کی تعمیر میں کچھ مزدور مصروف تھے اور ہم نے ان سے پینے کیلئے پانی مانگا تو انہوں نے کہا کہ آپ اوپر تشریف لے جاکر پانی پی سکتے ہیں۔جب ہم اوپر پہنچے تو خوبصورت نوجوان جس نے اپنا تعارف نور علی کے نام سے کروایا اور بڑی خوش دلی سے ون ٹیج زیر تعمیر ہوٹل میں بیٹھا کرہمیں ٹھندا ہنزہ واٹر پیش کیا ۔جس سے ہم نے اپنی پیاس بجھائی ۔ چوہدری ریاست علی کے پوچھنے پرنور علی نے بتایا کہ ہمیں خوش اخلاقی وراثت میں ملی ہوئی ہیں اور ہم لوگ تعلیم پر زیادہ زور دیتے ہیں میں نے گریجویشن کے بعد چائینیزلینگویج میں ڈپلومہ کیا ہوا ہے یہ پہاڑ مقامی لوگوں کی ملکیت ہے۔اس نے چائنہ اور پاکستان کے لوگوں کے مزاج کے بارے میں بتایا اور زیر تعمیر ہوٹل کا وزٹ کروایا ہوٹل میں لگنے والی ساری ٹائل چائنہ سے منگوائی ہے ۔ہمیں چائنہ جانے کیلئے صرف پاس بنوانے کی ضرورت ہوتی ہے جس پر پانچ ہزار روپے خرچہ ہوتا ہے ۔اس دوران محمد صدیق نے کئی مرتبہ پریشانی میں کال کر کے ہماری خیریت دریافت کی ۔ نور علی کی رہنمائی کے ساتھ ہم دس منٹ بعد چلنے کے بعدجیسے ہی ایگل نیسٹ پر پہنچے تو مقامی گائیڈ نے بلتیت قلعے کے بارے میں بتایا کہ بلیتت فورٹ ہنزہ کا دوسرا قلعہ جو شہر کے بالائی حصے میں پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے، آپ کو محل تک پہنچنے کے لیے گلیوں کے اندر چڑھائی چڑھنا پڑتی ہے محل آپ کوحیرت زدہ کر دیتا ہے، محل کی پچھلی دیوار کے ساتھ ماضی میں گلیشیئر ہوتا تھا، ماضی کے حکمرانوں نے پچھلی دیواروں کے ساتھ قدرتی فریج بنا رکھے تھے، گلیشیئر کی ٹھنڈی ہوائیں برفیلے غاروں سے ہوتی ہوئیں چھوٹے چھوٹے کمروں تک پہنچتی تھیں اور یہ ان کمروں کو فریج کی طرح ٹھنڈا کر دیتی تھیں، دوستوں نے ویٹر کومقامی جڑی بوٹیوں کا قہوے کا آڈر دے دیا چند منٹ بعدوصی نامی ویٹرقہوہ لے کر حاضر ہو گیا ۔ تمام دوستوں نے لذیذ قہوہ سے لطف اندوز ہوئے اس کے بعد جیپ کے ذریعے ہم چھ لوگ التیت قلعے کی طرف گامزن تھے ۔ باقی لوگ گاڑی پر ہم سے پہلے قلعے پہنچ چکے تھے ۔ اور التیت قلعے میں موجود گایےڈمحمد علی قلعے کے متعلق بتایا ۔قلعہ التیت گلگت بلتستان، پاکستان کی وادی ہنزہ کریم آباد میں ایک قدیم قلعہ ہے. یہ اصل میں ریاست ہنزہ کے آبائی حکمرانوں کا گھر تھا ۔التیت قلعہ اور خاص طور پر شکاری ٹاور کے تقریبا 900 سا ل قدیم ہے۔لفظ التیت جس کا مطلب نیچے اور بلتیت کا مطلب ہے اوپر۔التیت کا پہلا نام ہونوکوشل تھا جس کا مطلب ہنز ہ کا گاؤں ہے۔ آغا خان ٹرسٹ برائے تاریخی ثقافت اور حکومت ناروے کی مدد سے بحال کیا گیا. اس میں لکڑی کے چھوٹے کمرے اور حصے ہیں جن پرعمدہ کشیدہ کاری کی گئی ہے۔جاپان نے پرانے گاؤں اور ارد گرد کی ترقی تزئین و آرائش میں اہم کردار ادا کیا ہے. التیت قلعہ 2007 سے عوام کے لئے کھولا گیا ہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1972ء میں پہلے نگر کو پاکستان میں شامل کیا گیا اور پھر 1974ء میں ہنزہ بھی پاکستان کا حصہ بن گیا، یہ دونوں شہر اس سے قبل آزاد ریاستیں تھیں آغا خان فاؤنڈیشن نے ہنزہ میں بے تحاشہ کام کیا۔فاؤنڈیشن نے پورا التیت گاؤں دوبارہ بنا دیا، التیت گاؤں کی پرانی گلیوں اور قدیم ساخت کے مکانوں میں تاریخ بکھری پڑی ہے، گا ئیڈ نے تمام قلعے کے حصے دیکھائے جیسے کہ بادشاہ کہاں بیٹھتا تھا، ملکہ کہاں رہتی تھی، درباری کہاں آتے تھے، قیدیوں کو زیر زمین قید خانے میں کس طرح رکھا جاتا تھا، شاہی خاندان کے واش روم کی غلاظت قید خانے میں قیدیوں پر کیوں گرائی جاتی تھی، قیدیوں کو قلعے کی کس دیوار سے پھینک کر سزائے موت دی جاتی تھی اور حملے کے دوران شاہی خاندان کو کس کمرے میں چھپا دیا جاتا تھا اور انھیں کس طرح سرنگ سے گزار کر پانی کے تالاب تک لایا جاتا تھا،یہ ساری کہانیاں افسانہ محسوس ہو رہی تھی گائیڈ سے جب وکلا حضرات نے سوال کئے تو اس نے جواب دینے کی بجائے معذرت کر لیاور کہا کہ ہمیں ایسے ہی بتایا گیا ہے۔ التیت گاؤں کے درمیان تالاب ہے، یہ تالاب گلیشیئر کے ٹھنڈے پانی سے لبالب بھرا تھا، گاؤں کے نوجوان اور بچے تالاب میں تیراکی کے مقابلے کے لئے رسیاں باندھ کر تیاری کر رہے تھے قدیم گھروں کے باہرتھڑوں پر گاؤں کی خواتین اور بوڑھے قصے سنا رہے تھے، تہذیبوں کے اتار چڑھاؤکے اس قدیم آثار کے اس مشاہدے میں دو قسم کے سوال ذہن میں ضرور ابھرتے ہیں۔ایک یہ کہ دنیا نے ترقی کی منازل کیسے طے کیں؟اور دوسرا یہ کے ایک رواں دواں سلطنت کھنڈرات میں کیوں بدل گئی؟یہاں سے ہمارا قافلہ نلتر جھیل کے لئے روانہ ہواجب ہم نومل پہنچے تو وہاں کے مقامی افراد نے بتایا کہ لائنڈ سلائیڈنگ کی وجہ نلتر جھیل کا راستہ بند ہے۔ جس پر دوستوں نے باہمی مشاورت سے لاہور جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ اورچودہ اگست صبح تین بجے اپنے گھروں میں خیر و خیریت پہنچ گئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Raza

Read More Articles by Muhammad Raza: 13 Articles with 7851 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Sep, 2017 Views: 1123

Comments

آپ کی رائے