مشرق وسطیٰ تقسیم کے دہانے پر

(Waleed Malik, )

کردستان ایشوایسے آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے جس نے آہستہ آہستہ لاوا اگلنا شروع کر دیا ہے۔ موجودہ صورت حال کو راقم نے اپریل 2016میں اپنی تحریر میں مفصل بیان کر دیا تھا۔ اسی کالم کو اپنے معزز قارئین کی یاداشت کے لیئے دوبارہ گوش گزار کر رہا ہوں تاکہ وہ صیح معنوں میں اداراک کر سکیں کہ اسلام دشمن قوتیں امت اسلامیہ کو تار تار کرنے سمیت ان کے قدرتی وسائل اور مقامات مقدسہ پر قبضے کے لیئے کیسی کیسی شاطرانہ چالیں چل رہی ہیں ۔راقم گذشتہ کئی برسوں سے باور کرواتا آرہا ہے کہ مشرق وسطی میں برپا کی گئی جنگیں سیاسی نہیں، بلکہ دجالی سلطنت کے احیاء کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے شروع کی گئی ہیں۔ جن کا آغاز اگست1990میں بغداد میں امریکی سفیر کی موجودگی میں کویت کے قبضے سے ہوا ۔ اور اب اس جنگ کے اگلے مرحلے یعنی مشرق وسطی کی عملی تقسیم کے گھناؤنے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے ۔

شام کی پانچ سالہ خانہ جنگی کے آخری دو سالوں میں کردوں نے شامی حکومت اور روسی اتحاد کا ساتھ دے کر سیاسی طورپر جہاں ان کی ہمدردیاں حاصل کیں،و ہیں پر عسکری طور پر ترکی کی سرحد کے ساتھ شام کے تین شہروں جزیرہ ، کوبانی جسے عین العرب بھی کہاجاتا ہے اور عفرین پرمشتمل اپنے زیر تسلط علاقوں پر بھی اپنی گرفت کو مزید مستحکم بھی کر لیا ہے ۔ اورتو اور17 مارچ کو ڈیمو کریٹک یونین پارٹی، PYD نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر وفاق شام کے تحت ایک نیم خود مختار ریاست کے قیام کی خواہش کا اعلان کر کے ایک متوازی کردش گورنمنٹ بھی تقریبا قائم کر لی ہے۔امریکہ اور روس کی پس پردہ حمایت سے کردوں کے اس اعلان نے مشرق وسطی کی تقسیم کو مزید آسان کر دیا ہے۔ اس وقت شام میں شامی علوی حکومت ، شامی کرد اور روس کا اتحاد بن چکا ہے ۔حتی کہ روس میں شامی کردوں کا دفتر کھل چکا ہے ۔ تودوسری جانب جون 2015کو امریکی فضائیہ کی سپورٹ سے کردجنگجوؤں نے ترکی کے انتباہ کے باوجود ترکی کی سرحد سے ملحق تل ابیض اور دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا جس کے بعد کردامریکیوں کے دل گرویدہ ہوگئے ۔ اس کے ساتھ ہی کرد مشرق میں عراق سے لیکر مغرب میں واقع ترکی سرحدی شہر کوبانی تک اثر ورسوخ بڑھانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔یہاں ایک چبھتاہوا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کی صرف ایک کاروائی سے اتنے بڑے علاقے کو داعش سے واگزار کرکے کردوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے تو پھر اتنے اتحادیوں اور روس مل کر اب تک داعش کو شام سے کیوں نہیں نکال سکے ۔ اس وقت امریکہ اور ترکی کے درمیان شام کے حوالے سے اصل تنازعہ شام اور ترکی کے علحیدگی پسند کرد ہیں جن کو بعض مغربی ممالک اور خاص کر امریکی ڈیموکریٹک کی مکمل سپورٹ حاصل ہے اور امریکی انہیں اپنا اتحادی گردانتے ہیں ۔ جبکہ ترکی انہیں اپنا بدترین دشمن سمجھتا ہے ۔ بالکل اسی طرز پر جس طرح پاکستان کی سلامتی ، اس کے اداروں ،بے گناہ شہریوں اور مذہبی و تفریحی مقامات پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کرنے والوں کو RAW، MOSSAD اورCIAکی درپردہ مکمل سپورٹ حاصل ہوتی ہے ۔راقم کی رائے میں امریکہ اور روس کی جانب سے کردوں کی حمایت درحقیقت ترکی کو سیاسی ، معاشی اور عسکری طور پر عدم استحکام کرنے کی شرمناک سازش ہے جس سے ترکی خاصا سیخ پا ہے ۔ اس انتہائی پچیدہ صورت حال کے پیش نظر ترکی اگر شام میں کردوں کے خلاف زمینی کاروائی کرتا ہے تو لامحالہ روس سے ٹکراؤ یقینی ہے ۔ شاہد انہی خدشات کی بناء پر فروری 2016میں برسلز میں منعقد ہ دو روزہ کانفرنس میں فرانس کے صدر نے کہا تھا کہ روس اور ترکی کے درمیان جنگ کا خطرہ موجود ہے ۔ اور ایک دفعہ پھر جنگ عظیم اؤل کی بھیانک کہانی کو دہرایا جا سکتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ عالمی عسکری تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ شمالی شام میں ایک محدود عالمی جنگ ہو سکتی ہے ۔ جہاں تمام کے تمام مسلح گروپس ( شامی علوی فورسز ، ایرانی حمایت یافتہ شیعہ مسلح جتھے ، ایرانی فورسز ،شدت پسند داعش اسلام پسند جنگجو ، روسی اور امریکی فورسز و ممالک) ایک دوسرے سے نبردآزما ہیں ۔ شام کے سیاسی حل کے حوالے سے اس وقت مغربی میڈیا میں فلپ گورڈن اور جیمز ڈوبنز کے نظریے کو بہت زیادہ فوکس کیا جارہا ہے ۔ اس مکروہ نظریے کا لب لباب یہ ہے کہ شام کو ان علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے جو کرد عسکریت پسندوں ، ایرانی حمایت یافتہ شامی حکومت ، داعش اور دوسرے مسلح گروپوں کے زیر تسلط ہیں ۔ حیرت کا مقام تو یہ ہے کہ شام کی تقسیم کے اس گھناؤنے نظریے پرامریکہ اور روس متفق نظر آرہے ہیں اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ فی الحال یہی نظریہ شام میں امن کی ضمانت ہے ۔اس اسلام کش گھناؤنے منصوبے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جینوا میں شام کے پرامن سیاسی حل کی آڑ میں شام کی عملی تقسیم کے لیے ایک مہلک ڈرامہ رچایا گیا جس میں روسی دباؤ پر کرد علیحدگی پسندوں کو بھی مدعو کیا گیا۔ راقم کی رائے میں شام کی تقسیم کے ساتھ ہی عراق کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں طاغوتی طاقتیں دیر نہیں لگائیں گی۔ یہ اسی ناپاک نظریے کا تسلسل ہے جس کا انکشاف2006میں امریکن آرمی کے سابق لیفٹیننٹ کرنل ’’ رالف پیٹر ‘‘نے عسکری میگزین AFG میں کیا تھا ، جس کا عنوان تھا ، Blood Borders: How a better Middle East would Look ۔ کہ مشرق وسطی اور پاکستان کی سرحدیں غیر فطری ہیں ․ اس صہیونی منصوبے کے مطابق عراق کی تین حصوں میں تقسیم کے علاوہ سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں کی تقسیم اور مستقل بنیادوں پرایک عرب شیعہ ریاست اور کرد ریاست کا قیام ، تاکہ کل کلاں امیر عرب ممالک اپنی دولت کے بل بوتے پر ناجائز صہیونی نسل پرست ریاست ( اسرئیل) کے لیے خطرہ نہ بن سکیں،اور ان کو ہر وقت خوف کے سائے میں رکھا جائے تاکہ وہ ہ امریکا کے محتاج رہیں ۔ ملعون سمجھ رہے کہ دجالی سلطنت کی دیرینہ ناپاک خواہش کی تکمیل کا وقت اب قریب آچکا ہے اور اگر اس کو ضائع کر دیا گیا تو پھر دوبارہ شاید ہی موقع ملے ۔ خطے کی ہولناک صورت حال کے پیش نظر پچھلے دنوں ایک صہیونی وزیر موشے ایلون نے واشنگٹن میں ھذیان بکتے ہوئے کہا کہ سوریا کے وہ علاقے جہاں علوی آبادی کی اکثریت ہے ، وہاں نئی ریاست بننی چاہیے جس کا نام علوستان ہو ۔ شمالی شام میں کردوں کا اپنے زیر قبضہ علاقے کو وفاقی کردستان کا نام دینا درحقیقت مشرق وسطی کو تقسیم کرنے کی طرف پہلا قدم ہے ۔راقم کے اس مؤقف کی تائید شام میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ فورڈ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا ’’ کہ شام میں کرد قوم کا داخلی خود مختاری کا مطالبہ قابل عمل ہے ‘‘۔ کیونکہ شام میں سفاک بشار الاسد کی ہوس اقتدار کی خواہش ، ایران کی غیر اخلاقی مداخلت ، روس کی ننگی جارحیت اور امریکہ نواز شدت پسند تنظیم داعش کے وجود نے مشرق وسطی کے ممالک کو اندرونی طورپر اس حد تک خوف زدہ اور ان کی سرحدوں کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ ان میں مزاحمت کی طاقت آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے ۔تو دوسری جانب الارض التوحید العربیۃ السعودیۃ کے جنوب میں دہشت گرد حوثیوں کا فتنہ پوری شدت سے پھن پھیلائے کھڑا ہے ، جس سے دن الحرمین شریفین کے لیے خطرات بڑھتے جارہے ہیں ۔ ( انہی زمینی حقائق کی بنیاد پر انتہا پسند ٹرمپ کو یہ کہنے کی جسارت ہوئی کہ اب ہماری جنگ اسلامی دہشت گردی ’’ پاکستان اور حرمین شریفین ‘‘ کے خلاف ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waleed Malik

Read More Articles by Waleed Malik: 15 Articles with 5357 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Oct, 2017 Views: 416

Comments

آپ کی رائے