مذاکرات کا ڈھونگ اور اسرائیلی وفد کا دورہ

(Asif Khursheed Rana, Islamabad)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

چند دن قبل امریکی وزیر خا رجہ کی بھارت آمد سے پہلے مودی سرکار نے بھارتی انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو مقبوضہ کشمیر کے لیے مذاکرات کار مقرر کیا تھا ۔ دنیش شرما نے اپنی تقرری کے فوری بعد بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے ساتھ ملاقات کی۔ اجیت دوول کشمیر میں پیلٹ گنوں کے ذریعے معصوم کشمیری بچوں کی آنکھوں سے بینائی ضائع کرنے کے ماسٹر مائنڈہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی کمان بھی کر رہا ہے قومی سلامتی مشیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے کشمیری نوجوانوں کے قتل عام میں تیزی، پاکستانی سرحد پر بلاا شتعال فائرنگ کے واقعات میں تیزی ، چین کی سرحد پر بھی جنگی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ افغان سرحد کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیوں میں انہیں مکمل سہولیات فراہم کرنے میں بھی اجیت دوول کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کا دورہ اسرائیل ہو یا افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سفارتکاری کی جنگ اجیت دوول چانکیائی اصولوں کابھرپور استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔جھوٹ مکرفریب اور دہشت گردی کے تمام حربے استعمال کرتے ہوئے اجیت دوول ہر محاذ پر ’’جارحانہ اننگز‘‘ کھیلتے نظر آتے ہیں۔ کشمیر میں بھارت کی جانب سے مذاکرات کا اعلان اور پھر سابق انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کو اس کی ذمہ داری دینا اور ان کا فوری طور پر اجیت دوول کے ساتھ ملاقات کرنا ثابت کرتا ہے کہ بھارت مذاکرات کی آڑ میں پھر سے کوئی کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کا اعلان بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کیا ۔بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ کے مطابق ’’گولی سے نہ گالی سے بات بنے گی کشمیریوں کو گلے لگانے سے ‘‘کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کشمیر کے متعلقہ فریقین سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ نعرہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے اسی سال بھارت کے یوم آزادی ( کشمیریوں کے یوم سیاہ ) 15اگست کو لال قلعہ میں لگایا تھا۔ تاہم فوری طور پر اس نعرے پر عمل کرنے کی بجائے بھارت نے اگست سے لے کر نومبر تک کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیے رکھا ۔بھارتی افواج نے مذاکرات کے دن تک درجنوں کشمیری نوجوانوں کو شہید اور سینکڑوں کو گرفتاری کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنا چکی ہے۔پیلٹ گنوں کا استعمال بدستور جاری ہے ۔گھروں میں چھاپے ، خواتین کی بے حرمتی ، کریک ڈاؤن بھی جاری ہیں صرف اکتوبر کے مہینے میں بھارتی فوج کی جانب سے بیس کشمیریوں کو شہید کیا گیا ، دو سو سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان پر بدترین تشدد کر کے انہیں اپاہج بنانے کی کوشش کی گئی، تین سو سے زائد عام لوگوں کو گرفتار کیا گیا، چار خواتین کی بے حرمتی کی گئی جبکہ بیس سے زائد گھروں کو تباہ کیا گیا ،تاہم گلے لگانے اور مذاکرات کے بیانات سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششیں جاری رکھ کر چانکیائی سیاست کے اصولوں پر عمل کیا جا رہا ہے۔

مذاکرات کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد دنیشور شرما کا کہنا ہے کہ کشمیر میں امن بحال ہونا چاہیے اور کوئی حل نکالنے کے لئے تمام لوگوں سے بات کروں گا۔دنیشورشرما کا کہنا ہے کہ وہ کشمیر کو شام اور لیبا نہیں بننے دینگے ،کشمیر کے نوجوان بندوق کیوں اٹھاتے ہیں اس کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے، کشمیر کے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔سابق آئی بی چیف نے کہاکہ وادی کے کئی نوجوانوں نے جو راستہ اختیار کیا اُس سے تباہی آئے گی۔ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے دور رکھنے کیلئے تمام طبقوں کو آگے آنا چاہئے تاکہ وادی کشمیر میں امن و امان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ سابق آئی بی چیف نے کشمیریوں کے ساتھ مسلسل دہشت گردی کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ وادی کے لوگوں کو پچھلے کئی برسوں سے جن حالات سے گزرنا پڑا وہ تکلیف دہ ہے اور کئی بار میں بھی جذباتی ہوا ہوں تاہم انہوں نے ان واقعات کی ساری ذمہ داری کشمیریوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ جب تک انتہا پسندانہ سوچ کو ختم نہیں کیا جاسکتا تب تک وادی میں حالات پوری طرح سے معمول پر نہیں آسکتے ہیں،کشمیریوں کے زخموں پر مرہم کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیشور شرما نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ مذاکرات کے لیے کشمیریوں کے ساتھ ساتھ اس تنازعہ کے سب سے اہم فریق پاکستان سے مذاکرات کریں گے یا نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں نے ان مذاکرات کے شروع ہونے سے پہلے ہی اسے مسترد کر دیا ۔ حریت قائدین نے واضح کیا ہے کہ جب تک پاکستان کواس مذاکرات میں شامل نہیں کیا جاتا اس وقت تک مذاکرات بے کار اور بھارت کی جانب سے وقت برباد کرنا اور دنیا کو محض تسلی دینا ہے۔بھارت وقتاً فوقتا ایسے حربے استعمال کرتا رہتا ہے تاکہ تحریک آزادی کشمیر کی اٹھان کو کسی حد تک ٹھنڈا کیا جا سکے۔ یہی نہیں بلکہ بھارت کے اند ر سے بھی ان مذاکرات کو مسترد کیا جا رہا ہے ۔سابق مرکزی وزیر داخلہ و سینئر کانگریس قائد پی چدم کے مطابق جموں و کشمیر کے لئے مذاکرات کار کا تقرر توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں لوگ آزادی کا‘ جو مطالبہ کررہے ہیں اس کے معنی خوداختیاری کے ہیں جس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انٹلیجنس بیورو (آئی بی) کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو بات چیت کے لئے کشمیر بھیجنے سے ایسا نہیں لگتا کہ مرکز کی پالیسی یا رویہ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ مرکزی حکومت اپنی زورآزمائی اور فوجی کارروائی جاری رکھے گی۔ چدمبرم نے کہا کہ وادی میں بڑی ناراضگی ہے۔ مذاکرات کار کے تقرر سے ہمیں یہ سوچنا نہیں چاہئے کہ حکومت کا موقف بدلا ہے۔ میں نہیں مانتا کہ ایسا ہوا ہے۔ میرا آج بھی یہی ماننا ہے کہ حکومت‘ فوجی حل ڈھونڈتی رہے گی۔

مذاکرات کے اعلان کے فوری بعد کشمیر سے جو اطلاعات مل رہی ہیں ان سے حالات کی سنگینی کے ساتھ ساتھ بھارت کی مذاکرات میں دلچسپی اور اس کے عزائم بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ محض چند دن بعد اسرائیلی بری فوج کے سربراہ کی قیادت میں فوجی وفد کے دورہ کشمیر کی اطلاعات نے خطرے کی گھنٹیاں بجاے دیں۔گزشتہ دنوں اسرائیل کے اعلٰی فوجی کمانڈر کی قیادت میں ایک وفد نے ادھم پور جموں میں قائم بھارتی فوج کی شمالی کمان کا دورہ کرکے سینئر فوجی افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیلی کمانڈر کے نئی دہلی میں قائم اسرائیلی سفارتخانے کے سینئر اہلکار بھی تھے۔ اسرائیلی فوج میں ’’گراؤنڈ فورسز کمانڈ‘‘ کے سربراہ میجر جنرل یاکو براک کی قیادت میں ایک وفد جموں پہنچ گیا اور ادھم پور میں بھارت فوج کی شمالی کمان کا تفصیلی دورہ کیا۔اس دوران کشمیری مظاہرین سے نمٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں مقامی فوجی کمانڈروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا۔ چند سال پہلے اسرائیل نہ صرف کشمیر میں بھارتی افواج کا ساتھ دے چکا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کشمیر کی آمد روکنے کے لیے لائن آف کنٹرول پر موجود حساس آلات بھی اسرائیل کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں علاوہ ازیں بھارت امریکہ کے علاوہ اسرائیل سے بھی سرحد کی نگرانی کے لیے ڈرون خریدنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔ اسرائیلی وفد کی آمد اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس وقت کشمیریوں کی آزادی کی تحریک عروج پر ہے اور بھارت اسرائیل سے مدد لینا چاہتا ہے کہ کس طرح فلسطینیوں کی طرح اس تحریک میں بھی دراڑیں ڈالی جائیں۔ اس وفد کو کشمیر کا دورہ کروانا وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر کشمیریوں کی نسل کشی میں اضافہ کے لیے حکمت عملی تیار کرنا ہے ۔ اگرچہ ماضی میں اسرائیل کی مد د کے بعد بھی بھارت کو خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی تاہم اس وفد کی آمد کشمیریوں کے لیے ہی نہیں پاکستان کے لیے بھی خطرے کی علامت ہیں۔

اسرائیلی وفد کی آمد سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت مذاکرات کا بہانہ صرف وقت حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ تنازعہ کے اہم فریق پاکستان کو نظر انداز کیا گیا اور مذاکرات کے خدوخال بھی واضح نہ ہو سکے ۔ البتہ جس طرح اسرائیل نے ایک طرف فلسطینیوں کو مذاکرات میں لگا کر دوسری جانب ان کی نسلی کشی کے اقدامات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ یہودیوں کی آباد کاری میں اضافہ کیا اسی طرح کشمیر میں بھی ایک طرف مسلسل کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہندو پنڈتوں کی بستیاں آباد کی جا رہی ہیں تاکہ مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو کم کیا جا سکے ۔ بھارت سرکار اپنے تمام حربے آزماچکی ہے لیکن ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا ۔مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر دنیا کو دھوکاتو دیا جا سکتا ہے لیکن کشمیریوں کو طاقت کے استعمال اور مکاری کے حربوں سے مزید غلام بنانا ممکن نہیں ۔ یہ تیسری نسل ہے جس کے جسم آزادی کی خواہش خون کی صورت رواں ہے ۔ آزادی کے سوا کوئی دوسرا آپشن انہیں قبول نہیں ۔ بھارت کے اپنے وجود کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کے لیے اقدامات کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Khursheed Rana

Read More Articles by Asif Khursheed Rana: 87 Articles with 33725 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 453

Comments

آپ کی رائے