کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ

(عابد محمود عزام, Lahore)

بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم برداشت کی حدوں سے تجاوز کر چکے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد وخواتین غرض کوئی بھی بھارتی جارحیت سے بچ نہیں سکا۔ بچوں پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے کہ اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہنستے بستے گھروں کو اجاڑنا بھارتی فوج اور بھارتی پولیس کا مشغلہ بن چکا ہے۔ جوانوں کو اغوا کر کے لاپتا کر دیا جاتا ہے اور بعد ازاں بے دردی سے مسخ شدہ لاشیں توہین آمیز انداز میں پھینک دی جاتی ہیں۔ خصوصاً آزادی کی آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو بلاوجہ پکڑ کر جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کردیا جاتا ہے۔ کے پی آئی کے مطابق بھارتی فوج نے اکتوبر 2017ء میں بھی جعلی مقابلوں میں 20 کشمیریوں کو شہید کر دیا، جبکہ فوجی آپریشنز کے دوران نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ 217 شہری شدید زخمی ہوئے، اس میں سے زیادہ تر پیلٹ گن کا نشانہ بنے، جبکہ بھارتی فوج نے 308 کشمیریوں کو گرفتار کیا۔ ان میں سرکردہ حریت رہنماء بھی شامل ہیں۔ قابض فوج نے آپریشنوں کے دوران 48 گھروں کو تباہ کر دیا۔ 4 خواتین کی بے حرمتی بھی کی گئی۔ میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے احتجاج کرنے والے نہتے مظاہرین پر آنسو گیس اور پیلٹ گن کا بھی استعمال کیا۔ حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے خطے میں قابض بھارتی فورسز کے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بھارتی فورسز نہتے کشمیریوں پر بدترین مظالم کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود غیور کشمیری قوم بھارتی فورسز کے سامنے سینہ تان کر ڈٹے ہوئے ہیں۔ پوری قوت سے آزادی کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ آٹھ لاکھ فوج صرف کشمیر میں ہونے کے باوجود بھارت کشمیریوں کو قابو کرنے اور ان کی آواز دبانے میں ناکام ہوگیا ہے۔ ظلم کی بدترین داستانیں رقم کی گئیں، لیکن اس کے باوجود آزادی کی شمع بجھنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سے اٹھنے والی تحریک آزادی کی لَو نے بھارتی ایوانوں میں خوف طاری کردیا ہے۔ 8جنوری 2016کو بھارتی فوج نے ایک ہونہار کشمیری نوجوان مظفر برہان وانی کی شہات کے بعد بہت سے مقامی جوان تحریک آزادی میں نئے ولولے اور جذبے کے ساتھ شامل ہوئے۔ وانی کی شہادت نے تحریک میں ایک نئی سوچ پھونک دی۔ بدلے میں بھارتی فورسز نے نہتے کشمیری عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔ پیلٹ گن کا بے تحاشہ استعمال کیا۔ ایک اندازے کے مطابق 2ملین سے زاید پیلٹز (Pellets) استعمال کی گئیں۔ جن سے 7000 سے زاید کشمیری بری طرح زخمی ہوئے اور بینائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان میں مختلف کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، لیکن بہادر کشمیری قوم پھر بھی بھارت کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھارتی فورسز نہتے کشمیریوں کے سامنے ہار تسلیم کرچکی ہے، کیونکہ وہ اکیلے کشمیری عوام کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، اسی لیے بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں کشمیر میں کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے اسرائیل سے مدد مانگ لی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیل کا اعلیٰ سطح کا فوجی وفد مقبوضہ جموں کشمیر پہنچا۔ بھارتی فوج کی شمالی کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر ادھم پور میں اسرائیلی فوجی وفد اور بھارتی فوجی حکام کے درمیان دن بھر مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے ترجمان کرنل این این جوشی نے جموں میں صحافیوں کو بتایا کہ میجر جنرل بیرک کے ہمرا ہ اسرائیلی فوج کے کئی سینئر افسران نے جموں کے علاقے ادھمپور میں شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ نئی دہلی میں اسرائیلی سفارتخانے کے دفاعی اتاشی بھی جنرل بیرک کے ہمراہ تھے۔ کرنل جوشی نے کہاکہ اسرائیلی گراؤنڈ فورسز کے سربراہ نے لیفٹننٹ جنرل دیوراج انبو سے باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیال کیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے درمیان تعلقات کے پس منظر میں باہمی دلچسپی کی اصطلاح کو مقبوضہ کشمیر میں جاری عوامی تحریک کو دبانے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی طرز کے مظالم کو دہرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے سربراہ نے بھارتی فوج کے کمانڈروں کو غزہ اور مغربی کنارے میں آزادی کی آوازوں کو دبانے کے لیے اسرائیلی فوج کی طرف سے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اس سے پہلے بھی وہ اسرائیلی افواج کی ممنوعہ پیلٹ گن اور دیگر ہتھیار مقبوضہ کشمیر میں استعمال کررہا ہے۔ اب بھارت کی درخواست پر اسرائیل کا ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد جموں پہنچا، جہاں وہ بھارتی فوجی افسران سے مشاورت کررہا۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بھارت اسرائیل کی مدد سے مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف تحریک آزادی کو فلسطینی تحریک آزادی کی طرح بزور طاقت کچلنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے، بلکہ کشمیری قوم کی جاری نسل کشی کے نئے طریقے آزما رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی متعدد تنظیموں نے کشمیر میں نہتے عوام کی نسل کشی کے لیے بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین عالم اسلام کی شہ رگ اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ نہ صرف پاکستان کے خلاف، بلکہ فلسطین اور کشمیری مظلوم عوام کے خلاف ہے جس کا مقصد کشمیر اور فلسطین پر بھارتی اور اسرائیلی تسلط قائم کرنا ہے۔ نیتن یاہو مظلوم فلسطینیوں کا قاتل اور مودی مظلوم کشمیری عوام کا قاتل ہے۔ حریت پسند غیور کشمیری عوام نے اپنے جذبہ حریت سے بھارت کی طاقت کو اپنے پاؤں تلے روند دیا ہے۔ بھارت کشمیری کی تحریک آزادی کو دبانے میں ناکام ہوچکا ہے، کشمیری عوام نے بھارتی فورسز کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں، اب بھارت اکیلا غیور کشمیریوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا، اس لیے اسرائیل سے مدد کی بھیک مانگ رہا ہے۔

دوسری جانب بھارت مذاکرات کار کا تعین اور کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور حریت قیادت سے مذاکرات کا ڈھونگ بھی رچارہا ہے۔ بھارت یہ سب کچھ صرف عالمی برادری کے دباؤ سے بچنے کے لیے کررہا ہے۔ اس تناظر میں حریت کانفرنس نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے لیے مذاکرات کار کا تقرر عالمی دباؤ کا نتیجہ اور معاملے کو طول دینے کا حربہ قرار دیا ہے۔ حریت کانفرنس نے پاکستان کو شامل کیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مقبوضہ کشمیر کے لیے بھارت کی جانب سے دنیشور شرما کو مذاکرات کار مقرر کرنے کے خلاف جاری مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تنازع حل کرنے کے بجائے دنیشور شرما کو امن بحالی کے لیے بھیجا جارہا ہے۔ مقبوضہ کشمیرکے زمینی حقائق تسلیم کیے جائیں۔ جب تک کشمیر کو تنازع نہیں سمجھا جاتا، کسی مذاکرات کار کو تسلیم نہیں کریں گے۔ سابق بھارتی انٹیلی جنس سربراہ دنیشور شرما کی جانب سے کشمیر کی صورتحال کا شام میں فرقہ وارانہ جنگ سے موازنہ پروپیگنڈا ہے۔ سرینگر میں اجلاس کے بعد مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مزید کہا ہے جن مذاکرات کا مقصد مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بجائے جبری فوجی قبضے کو طول دینا ہو، ان میں شمولیت سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ بھارتی وزیر اعظم کے بیان سے ہمارایہ موقف درست ثابت ہوا ہے کہ بھارت مذاکرات کا شوشہ چھوڑ کردنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔ حریت کانفرنس کا بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے لیے مذاکرات کار کا تقرر عالمی دباؤ کا نتیجہ اور معاملے کو طول دینے کا حربہ قرار دینا بالکل درست فیصلہ ہے۔

واضح رہے کہ 1947ء میں تقسیم برصغیر کے وقت کشمیری عوام نے مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا، لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کرلیا۔ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج جموں و کشمیر میں داخل ہوگئی اور بڑے پیمانے پر کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ پاکستانی سرحدی قبائلیوں نے بھارتی قبضے کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور نہتے کشمیریوں کی مدد کے لیے بڑی تعداد میں ہتھیار اٹھا کر کشمیر میں داخل ہوگئے۔ بہادر قبائلیوں نے شدید جنگ کے بعد ایک وسیع علاقے سے بھارتی فوج کو مار بھگایا جو آج آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے والا بزدل بھارت جب پاکستان کے بہادر اور غیور قبائل کا مقابلہ نہ کرسکا تویکم جنوری 1948 کو بھارت معاملہ سلامتی کونسل کے سامنے لے گیا، جہاں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے رائے شماری کی قرار داد منظور کی گئی اور کشمیر سے افواج کے انخلا کا حکم دیا گیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حد بندی کا تعین بھی کیا گیا، جس کے تحت 83807 مربع کلومیٹر کا علاقہ پاکستان کے پاس رہ گیا جبکہ 139000 مربع کلومیٹر کا علاقہ بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے قرار دیا کہ کشمیر میں ریفرنڈم کرایا جائے اور انہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے کہ وہ پاکستان یا بھارت میں جس کے ساتھ چاہیں الحاق کرلیں، لیکن 70 سال گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کے لیے ریفرنڈم نہیں کرایا گیا اور اس پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ بدستور برقرار ہے۔ اس عرصے میں وہ کون سا ظلم ہے جو بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں نہیں ڈھایا۔ جنوری 1989تا دسمبر 2016 مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زائد افراد کو شہید کیا گیا۔ 7073افراد کو بھارتی فوج اور پولیس نے حبس بے جا میں رکھ کر جھوٹی تفتیش کرتے ہوئے شہید کر دیا۔ 137,469افراد کو جھوٹے بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کر کے ہراساں کیا گیا۔ 107,043افراد کو بے گھر کیا گیا۔ 107591بچے بھارتی مظالم کی وجہ سے یتیم ہوئے۔ 22826 خواتین کے سہاگ اْجڑے۔ 10,717 خواتین پر جنسی تشدد کیا گیا اور انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ موجودہ حکومت کے دور میں بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر کیے جانے والے مظالم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ 70 سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کا عزم اور حوصلہ برقرار ہے اور ان کی جدوجہد آزادی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ کشمیریوں کی مسلح جدوجہد نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا اور 2004 میں دو طرفہ مذاکرات کا آغاز ہوا، لیکن اب مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئے ہیں۔

کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے، لیکن اسے مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ہر انٹرنیشنل فورم پر نہایت مضبوطی سے اپنا موقف پیش کریں اور انسانی حقوق کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دباؤ تخلیق کریں جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔ ہمیں چاہیے کہ بہترین اور موثر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز تشدد کی طرف عالمی توجہ مبذول کروانے کے لیے بھی مناسب حکمت عملی وضع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی یکجہتی کا ایسا پیغام دیتے رہنا چاہیے جس سے ان کے پائے استقامت کو مزید تقویت ملے اور حوصلہ افزائی کے اس تاثر سے ان کی تحریک آزادی میں جب ضرورت ہو نئی روح پھونکی جا سکے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 427218 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 427

Comments

آپ کی رائے