اکیالیس مسلم ممالک کا اتحاد ، امت مسلمہ کے دفاع اور یکجہتی کی علامت

(Sidra Ahsan, )

اسلامی ممالک کے انسداد دہشت گردی کے فوجی اتحادنے دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے کیلئے اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے پر اتفاق کرلیا ہے۔یہ فیصلہ اسلامی فوجی اتحادکے وزرا دفاع کے کونسل کے اتحاد برائے دہشت گردی کے عنوان سے ریاض ہونے والے اجلاس میں طے پایا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں فوجی اتحاد میں شامل ممالک میں امن وامان اور سیکورٹی کو بڑھانے اور اس کے ساتھ خطے اور عالمی امن اور سیکورٹی میں بھی حصہ ڈالنے پر زور دیا گیا۔اجلاس میں یہ بھی طے پایاکہ دہشت گردوں کو مالی امداد روکنے کیلئے ممبر ممالک میں تعاون کو بڑھایاجائے۔وزرا دفاع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ممبر ممالک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلیے تعلیم اور حقیقی اسلامی سوچ کو پروان چڑھایا جائے۔ اجلاس میں وزرا دفاع نے اتحاد کے عہدیداران مقررکرنے کے فیصلہ کیاہے جس میں سیکرٹری جنرل بھی شامل ہوگاجبکہ اتحاد کے وفود بھی ترتیب دیے جائینگے۔اجلا س کے افتتاح کے موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھاکہ دہشتگردوں کو کسی صورت اسلام کا چہرہ مسخ نہیں کرنے دیں گے۔انھوں نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک لڑتے رہنے کے عزم کا اظہاربھی کیا۔اتحاد کے ملٹری کمانڈر راحیل شریف نے کہا تھاکہ حالیہ برسوں میں تقریبا ستر ہزار دہشت گردانہ حملوں میں دو لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔عسکری اتحاد دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بہترین پلیٹ فارم بنے گا۔اجلاس میں اکتالیس رکن ممالک کے وزرائے دفاع نے شرکت کی۔ اسلامی فوجی اتحاد کے اجلاس میں شریک مصری وفد کے سربراہ میجر جنرل توحید توفیق نے کہا کہ دہشت گردی اور غیرملی خطرات کے پیش نظر مصر تمام خلیجی ملکوں بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کی قربانیوں کا احترام کرتے اور سعودی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کی سرحدیں پھیل رہی ہیں۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل الشیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ کا کہنا ہے کہ ہمار اصل اور بنیادی مشن انتہا پسندانہ نظریات کا خاتمہ ہے۔ دہشت گردی محض ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی مسئلہ ہے۔معاصر انتہا پسندی علمی محاذ پر موثر اقدامات نہ ہونے کے نتیجے میں پھیل رہی ہے اور دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کی ترویج کے لیے اسلام کی تعلیمات کا غلط استعمال کررہے ہیں۔’داعش‘ تنظیم میں100 سے زاید ملکوں کے دہشت گرد شامل ہوئے۔ داعش میں یورپی ملکوں سے بھرتی ہونے والے افراد کی تعداد پچاس فی صد ہے۔اسلامی ممالک کے عسکری اتحاد میں پاکستان نے بھی شرکت کی۔ اسلامی ممالک کی پہلی متحدہ فوج اسلامی ممالک میں امن واستحکام کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ چین اور امریکہ کی جانب سے اسلامی متحد فوج کی پزیرائی واضح پیغام ہے کہ اسلامی دنیا کے بارے میں پھیلائے گئے منفی تشخص میں تبدیلی کا آغاز ہوگیا ہے۔ اسلامی عسکری اتحاد سے دنیا کو واضح پیغام ملا کہ مسلمان دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور اس عفریت سے نجات کے لے مل کر کوششیں کریں گے۔عسکری اتحاد کا قیام دہشت گردوں اور ان سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں کو سخت اوردوٹوک پیغام ہے کہ اسلامی ممالک میں دہشت گردی کوکسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا اور اس کی ہر شکل ختم کرنے کے لئے مشترکہ بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے۔موجودہ عالمی منظر نامہ میں یہ ایک نہایت اہم اورمثبت پیشرفت ہے۔ اس سے اسلامی دنیا کے خلاف سازشوں کا راستہ روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ اسلامی ممالک کے مشترکہ اقدام سے عالمی سطح پر پھیلائے جانے والے اس پراپیگنڈہ کی نفی ہوئی کہ اسلامی دنیا دہشت گرد تنظیموں سے کسی طورپر وابستہ یا ان کی سرپرستی میں ملوث ہے۔ عالمی سطح پر بننے والے ہر اتحاد کی طرح اگر کوئی ملک فی الوقت اسلامی عسکری اتحاد کا حصہ نہیں تو یہ امکان رد نہیں کیاجاسکتا کہ مستقبل میں وہ اس کا حصہ نہیں ہوگاجیسا کہ واضح کیاگیا ہے کہ یہ اتحاد کسی ملک یا مسلک کے نہیں بلکہ خالصتا دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس کا مقصددہشت گردی کے خلاف مشترکہ بنیادوں پر حکمت عملی کی تیاری اور پیشہ وارانہ اشتراک عمل کی راہیں ہموار کرنا ہے۔اکیالیس مسلم ممالک کی افواج کا یہ اتحاد ، امت مسلمہ کے دفاع اور یکجہتی کی علامت ہو گا۔ جس کا مقصد کسی فرد، گروہ یا ملک کی مخالفت کی بجائے عالم اسلام کی حفاظت ہے۔ تمام مسلم ممالک ، جماعتیں، اورگروہ متحد ہوکر ساتھ دیں۔ عالمی ا تحاد دفاع امت کے لئے تشکیل پایا ہے۔ جس کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کا فروغ ہے۔ یہ کسی ملک، فردیا گروہ کے خلاف نہیں بنایا گیا۔ ا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے وقت کی آواز کا ادراک کرتے ہوئے بروقت عسکری اتحاد تشکیل دیا ہے۔ان کی دانشمندی اور قائدانہ کردار کی تحسین ہونی چاہیے۔پاکستان نے خود اس اتحاد میں شامل ہوکر اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سربراہ کے طور پر خدمات دے کر دفاع امت میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا ہے۔ اسلامی فوجی اتحاد کے اجلاس کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سعودی عرب کے ایک روزہ دورہ کیا جس میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی ،وزیر خارجہ خواجہ آصف تھے۔ پاکستانی اعلیٰ سطحی وف کے ریاض پہنچنے پر گورنر شہزادہ فیصل بن بندر السعود نے وزیراعظم کااستقبال کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات ،علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے اور خطے میں امن واستحکام کیلئے کوششوں کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے خطے میں امن واستحکام کیلئے سعودی قیادت کی کوششوں کو سراہا اور خطے میں امن کیلئے سعودی عرب کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ شاہ سلمان نے بہترین تعلقات کو سراہا۔انہوں نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کے اقتصادی اصلاحات کے منصوبے،ویڑن2030کو سراہتے ہوئے اس ویڑن کے حصول کیلئے تکنیکی اور انسانی وسائل کی فراہمی کی پیشکش کی۔ شاہد خاقان نے مسلمان ملکوں کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنے کی بھی تعریف کی۔سعودی ولی عہد نے دہشت گردی کے خاتمے اور اسلامی اتحاد میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔تعلقات میں مزید فروغ کی گنجائش ہے۔ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف 34 ملکی اتحاد میں پاکستان کے کردار پر بھی بات کی گئی۔ سعودی عرب امت مسلمہ کا روحانی مرکز اور اتحاد کا باعث ہے۔ خاد م حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اسلامی ممالک کا اتحاد تشکیل دیا جس کی بڑے عرصے سے ضرورت تھی اس سے امت مضبوط ہوگی اور سعودی عرب کی عالمی سطح پر پالیسیوں میں استحکام اور پذیرائی بڑھے گی۔ پاکستان کو سعودی عرب اور حرمین کے دفاع کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، انتشتار پیداکرنے والی ریاستوں کے پراپیگنڈہ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔جو عالم اسلام میں دہشت گردی اور انتشار کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sidra Ahsan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Dec, 2017 Views: 211

Comments

آپ کی رائے