بیک ڈور ڈپلومیسی

(Ghulam Ullah Kiyani, )

 لاطینی امریکہ کی یہ طویل ترین خانہ جنگی ہے۔ اس کی جنگ بندی کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔مگر جنگ و جدل ابھی ختم نہ ہو سکی۔اس میں3لاکھ افراد کی ہلاکت،60ہزار کے لاپتہ اور 70لاکھ کے بے گھر ہوگئے۔ 50سال کی افراتفری کے بعد ہونے والے مذاکرات کامیاب نہ سکے۔ یہ احوال کولمبیا کا ہے۔ جہاں زمینیاصلاحات پر حکومت اور مسلح باغیوں میں کیوبا میں جاری بات چیت کے دوران ایک سال قبل سمجھوتہ ہوا۔ جو جنوری 2018میں ختم ہو رہا ہے۔حکومت نے دیہی علاقوں کو معاشی اور سماجی ترقی دینے اور غریب کسانوں کو زمین دینے پر اتفاق کیا۔کہنے کو تو یہ زرا سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن بات بڑی ہے۔ دنیا بھر میں بااثر طبقے نے زمینوں اور وسائل پر قبضہ کر رکھاہے۔ یہی طبقے حکومتیں قائم کرتے ہیں۔ سیاست بھی ان کا ہی شیوا ہے۔ تجارت پر بھی ان کا قبضہ ہے۔ بیورو کریسی ان کے مرہون منت ہے۔ ساری اسٹیبلشمنٹ پر ان کا راج ہے۔ یہ کیسے گوارا کریں کہ ان کے زیر تسلط وسائل کو ان کے ہاریوں میں مساوی تقسیم کر لیا جائے۔ جو لوگ ان کے کھیتوں میں ، گھروں، دفاتر پر کام کریں ، وہ ان کے برابر بیٹھنے کی جرائت کر سکیں۔ کولمبیا کے معاہدے نے اس مفروضے کو درست ثابت کیا کہ تنازعات کا عارضی حل پائیدار نہیں ہوتا ۔بھارت نے بھی اپنے مذاکرات کار دنیشور شرما کو کشمیریوں کو فریب دینے کا ٹاسک دیا ہے جوآئی بی کے سربراہ رہے ہیں۔آج کل کشمیر کے دورے کر رہے ہیں۔دوسری بار وادی میں آئے اور چلے گئے۔ اب لداخ جانے کا ارادہ ہے۔وہ بی جے پی حکومت کے نمائیندہ ہیں۔ اس سے پہلے بھی بھارتی حکومت نے کشمیر کے لئے مذاکرات کار مقرر کئے جن کی سفارشات پر کبھی عمل نہ ہوا۔ شرما جی کی سفارشات بھی ایسی ہی ہوں گی۔جن پر کبھی عمل نہ ہو گا۔کولمبیا کی مثال بھی ایسی ہے۔مگر کشمیر کی اس سے مماثلت نہیں ہو سکتی۔ کشمیر مسلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس قدیم ترین مسلہ ہے۔ یہ سیاسی مسلہ ہے۔ کولمبیا کا مسلہ خانہ جنگی کا ہے۔ مماثلت اس قدر ہے کہ مسلہ سیاسی ہو یا اندرونی ، اس حل کرنے کے لئے تال متول یا نمبر گیم کے بجائے وجوہات کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان میں بھی کولمبیا کی طرح زرعی اصلاحات کا تسلسل کے ساتھ زکر کرنا لازمی ہے۔مگر تنازعات کو قتل عام اور تشدد، افراتفری سے قبل ہی حل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے کہ بلوچستان میں لوگ صرف اپنے وسائل پر سب سے پہلے اپنے حق کی بات کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ درست ہے۔ بھارت اسی کی آڑ میں وہاں ریاست کے لاف دہشتگردی کے بیج بوتا ہے۔ دشمن کو ایسا موقعہ نہیں دیا جانا چاہیئے۔ وجوہات ہی معنی رکھتی ہیں۔ کانٹے دار درخت کی شاخ تراشی کے بجائے اسے جڑوں سے اکھاڑنا ہوتا ہے۔کبھی بھارتی ایلچی ایس کے لامبا منموہن سنگھ کے خصوصی ایلچی تھے۔ انہیں وزیر مملکت کا درجہ حاصل رہاہے۔ پاکستان کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی ان کی زیر سر پرستی جاری رہی۔ وہ بھارت کے ایک بڑے سفارتکار اور مزاکرات کار تھے۔ ایس کے لامبا اور طارق عزیز کے درمیان جنرل(ر)پرویز مشرف کے دور میں کشمیر پر مزاکرات ہوئے ہیں۔ یہ بات چیت برسوں تک جاری رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ کشمیر کے حل کے قریب پہنچ چکے تھے۔ کوئی معاہدہ بھی ہونے والا تھا۔ جے این ڈکشٹ کے بعد ہی لامبا کو سامنے لایا گیا تھا۔ آصف علیزرداری کے دور میں طارق عزیز کی جگہ سابق خارجہ سکریٹری ریاض محمد خان کو دی گئی۔ وہ 2009سے پاکستان کے مذاکرات کار رہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بینکاک سمیت کئی مقامات پر بیک چینل ڈپلومیسی کے تحت بات چیت ہوئی۔ وہ بھارت کے افپاک (افغانستان و پاکستان)کے بھی نگران رہے۔ اس سلسلے میں ہالبروک سے بھی بات چیت کی۔ لامبا کی اہم بات یہ تھی کہ وہ کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے قابل قبول تھے۔ایس کے لامبا پشاور میں قیام پاکستان کے سات سال قبل پیدا ہوئے ہیں۔ وہ 1992سے چار سال تک پاکستان میں ہائی کمشنر رہے۔بنگلہ دیش میں وہ بھارت کے پہلے سفیر بنے۔ وہ بنگلہ دیش، افغانستان بالخصوص پاکستان کی سیاست کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ایک بار کہا تھا کہ وہ اپنے انتخابی منشور سے ہٹ کر اقوام متحدہ کی قرادادوں اور اعلان لاہور کو نظر انداز کر کے مسلہ کشمیر پر تینوں فریقوں کو قابل قبول حل پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔ مگر وہ بھارت سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت، کالے قوانین کے خاتمے، فوجی انخلاء پر بات کرنے کی وکالت کرتے تھے۔کیوں کہ کوئی حکومت کشمیر پر دیرینہ موقف سے انحراف نہیں کر سکتی۔میاں صاحب چلے گئے۔ لیکن ان کی پالیسی موجود ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر جنرل(ر)ناصر جنجوعہ نے تازہ انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے۔ تا کہ تنازعات حل کئے جائیں اور کشیدگی ختم ہو سکے۔ کیوں کہ بھارت کو اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے بات چیت کی میز پر آنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان بات چیت کے لئے تیار ہے۔مگر بھارت مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نریندر مودی دھمکیوں سے باز نہیں آتے۔ سرجیکل سٹرائیکس کی رٹ لگا رہے ہیں۔ مودی کے کشمیر کے ایلچی شرما کہتے ہیں کہ وہ کشمیر کو شام، یمن اور لیبیا بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ شاید ان کے ذہن میں یہ بات دالی گئی ہے کہ کشمیری بھارت سے آزادی کے بجائے خلافت اسلامیہ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی تحریک کو اسلامک سٹیٹ کا لیبل لگانے کے لئے کشمیری مجاہدین کا تعلق داعش سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں پاکستان کے بجائے داعش کے پرچم کو عام کیا جا رہا ہے۔ کولمبیا میں سیز فائر اسی لئے ناکام ہوا کیوں کہ مسلے کی بنیاد کو ہی مبہم کیا گیا۔ بھارت بھی کشمیر میں یہی پالیسی اپنا رہا ہے۔ پاک بھارت کے درمیان سیز فائر بھی اسی وجہ سے ناکام ہو رہا ہے۔ جنگ بندی لکیر کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ معصوم اور نہتے عوام گولہ باری اور فائرنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا جب تک بھارت ریاستی دہشتگردی کا خاتمہ اور اعتماد سازی کے اقدامات شروع نہیں کرتا۔ جنجوعہ صاحب کا تازہ انکشاف بھارت کی ہٹ دھرمی اور بات چیت سے انکار کے موقعہ پر سامنے آیا ہے ۔ جب کہ اسلام آباد کو بھارتی جنگی جنونیت، سیز فائر کی خلاف ورزی، ریاستی دہشتگردی ، مسلمانوں کے قتل عام سے دنیا کو آگاہ کرنا چاہیئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219468 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
05 Dec, 2017 Views: 383

Comments

آپ کی رائے