تھر خشک سالی سے خوشحالی کی راہ پر گامزن

(Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi)
کچھ علاقوں میں لوبان اور چندن کے درخت بھی پائے جاتے ہیں جسے کاٹنے پر پابندی ہے، مگرمناسب حفاظت نہ ہونےکے باعث انہیں کاٹ لیا جاتا ہے ، جب کہ لوبان کے درختوں کوبھی کٹ لگا کر اس سے غیر قانونی طریقے سے لوبان نکالا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ درخت اکثر سوکھ جا تاہے اور یہ نایاب درخت دن بدن نا پید ہوتا جارہا ہے۔

یہاں مخصوص علاقوں میں مور، تلور، تیتر اور ہرن بھی پایا جاتا ہے جسکے شکار پر بھی پابندی ہے مگر ملی بھگت سے شکار ہوتا رہتا ہے اور یہ پرندے اور جانور بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں، تھر کے ایک مقامی باشندے مگھنو نے مجھے بتایا کہ ان پرندوں کے سب سے بڑے دشمن عرب شہزادے ہیں جو کہ یہاں بارش کے موسم میں جب تھر کی وادی سبز پوشاک پہنی دلہن کا روپ دھارلیتی ہے تو آتے ہیں اور مخصوص علاقوں میں شکار کر کے ان پرندوں اور جانوروں خصوصا ً ہرن، تیتر اور تلور کی نسل کشی کا باعث بنتے ہیں

تھر کے قدیم مندروں میں شامل جین مندر ۔

گذشتہ دنوں دو دن اور دو رات سندھ کے مشہور ریگستانی علاقے تھرپارکر میں گزارنے کا موقع میسر آیا جس کا سہرہ پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے سر جاتا ہے جنہوں نے اینگرو کمپنی کے اشتراک سے صحافیوں کے لیئے تھر کے حوالے سے مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا ۔ تھر پارکر پر مختلف ادوار میں کئی قوموں ، خاندانوں اور نسلوں نے حکومت کی جن میں برہمن،پرمار،مکوانہ،رانو،سوڈھو،راٹھور،سماں ،کلھوڑا،تالپور، ہالیپوٹو اور انگریز شامل ہیں ۔ سن 1947 میں پاکستان کی آزادی کے وقت اس علاقے میں 80 فیصد ہندؤ اور 20 فیصد مسلمان آباد تھے ۔سن 1965 اور سن 1971 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تھر کی آبادی کا تبادلہ ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں ہندؤ خاندانوں نے پاکستانی تھر سے ہندوستان کے علاقے میں ہجرت کی جس میں زیادہ تر تعداد اونچی ذات کے ہندؤں کی تھی جب کہ 3500 مسلم خاندانوں نے بھی ہندوستانی تھر سے پاکستان کے تھر میں ہجرت کی ان تمام مسلمان خاندانوں کو تھر میں 12 ایکڑ فی خاندان زمین دی گئی اس طرح مجموعی طور پر 42000 ایکڑ زمین ان خاندانوںمیں تقسیم کی گئی ۔

تھرپارکر سندھ کا ایک بہت بڑا اور قدیم ضلع ہے ۔ تھر کا مطلب صحرا یا ریگستان ہے جب کہ پارکر اس لیئے کہا جاتا ہے تھر کےبعد بلند و بالا پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اس لیئے اسے پارکر کہا جاتا ہے یعنی پہاڑوں کی دوسری طرف جانا یا علاقہ، کیوں کہ آزادی پاکستان کے بعد کافی عرصے تک یہاں سے لوگوں کا ہندوستان اور پاکستان آنا جانا ہوتا رہا تھا لوگ دونوں طرف سے شادیاں کرنے بھی ایک دوسرے کے ملک جاتے تھے ۔ تھرپارکر کی کل آبادی1649661 ہے۔ تھرپارکر کی محض پانچ فیصد آبادی تھرپارکر کے شہری علاقوں میں رہتی ہے۔تھر پارکر کے شمال میں میرپور اور عمر کوٹ کے اضلاع، مشرق میں بھارت کے بارمیر اور جیسلمیر، مغرب میں بدین کا ضلع اور جنوب میں رن کچھ کا علاقہ ہے۔تھرپارکر ضلع کا کل رقبہ19638کلومیٹر ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تھر ریگستانی علاقے کو اور پارکر پہاڑی سلسلے والے علاقے کو کہا جاتا ہے ۔ سن 1990 تک میرپور اور عمرکوٹ کے اضلاع تھرپارکر کا حصہ تھے۔عمر کوٹ کو 1993 میں الگ ضلع بنا دیا گیا تھا۔تھرپارکر کا صدر مقام مٹھی ہے جو ٹیلوں کی درمیان واقع ایک خوبصورت شہر ہے ۔انتظامی حوالے سے تھرپارکر کو 4 تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن میں مٹھی،چھاچھرو، ڈیپلو اور ننگرپارکر ہیں۔ تھرپارکر کا زیادہ تر حصہ صحراء اور پہاڑوں پر مشتمل ہے ۔ تھر کو ہمیشہ سے ہی ایک پسماندہ علاقہ جانا جاتا ہے ۔ دنیائے عالم کی توجہ اس جانب اس وقت مبذول ہوئی جب یہاں قحط پڑا اور یہاں کے باشندے اور ان کےمویشی بھوک کی وجہ سے مرنا شروع ہوئے۔ماؤں کی غیر تسلی بخش حالت کی وجہ سے کمزور نوزائیدہ بچوں کی اموات نے بھی تھرپارکر کو عالمی ذرائع ابلاغ پر نمایاں کیا۔تھرپارکر میں خاص طور پرسندھی ،دھاٹکی اور پارکری زبانیں بولی جاتی ہیں گجراتی اور مارواڑی زبان کا وجود بھی مگر یہ زبانیں بھی سندھی رسم الخط میں پڑھی اور لکھی جاتی ہیں ۔

تھر کے ریگستانی علاقوں کا موسم رات میں قدر سرد اور دن میں گرم ہوتا ہے ۔ یہاں اکثر گاؤں چھوٹے چھوٹے جھونپڑے نما گھروں پر مشتمل ہیں اور ان جھونپڑوں کو مقامی زبان میں چونرا کہا جاتا ہے جو کہ تین چار فٹ کی گول کچی دیوار او راوپر سے لکڑیوں اور گھاس پھونس سے بند ہوتا ہے کہتے ہیں جن چونروں کی چھت پر نوک نکلی ہوتی ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہاں ہندوں مذہب کا خاندان رہتا ہے اور جن چونروں کی چھت گول ہو اور اس پر نوک نہ ہو وہ مسلمانوں کے گھر کی شناخت ہے ، کئی علاقوں میں یہ مسلمان اور ہندؤں کے چونرے ایک ساتھ بنے ہوئے ہیں ، یہاں اکثر گاؤں صرف چند گھروں پر مشتمل ہیں ہر دو تین کلو میٹر کے فاصلے پر چونرے نظر آتے ہیں۔ اکثر گاؤں کنوؤں کے نزدیک اور ایسی جگہوں پر جہاں دو بھٹوں ( ریت کے پہاڑ کو مقامی زبان میں بھٹ کہا جاتا ہے) کے درمیان بارش کا پانی جمع ہو سکے آباد ہیں، یہاں سفید تل، کالا تل، جوار، مکئی، گوار، بیرا، لمبی شکل کا مخصوص خربوزہ ( چبڑ )اور تربوز وغیرہ کاشت کیا جاتا ہے، تھر میں پہاڑوں اور ریت کی ٹیلوں پر بے شمار جڑی بوٹی اور پودے نظر آتے ہیں جن میں بیر، سیرس، نیم ،کیکر،پیلو،کروندا،راجھستانی ہرب اور بے شمار نایاب پودے ہر جگہہ نظر آتے ہیں جن میں زیادہ تعداد ان پودوں اور درختوں کی ہے جنہیں پانی کی خاص ضرورت نہیں ہوئی اور ان کی جڑیں زمین کی نمی سے پانی حاصل کرلیتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں لوبان اور چندن کے درخت بھی پائے جاتے ہیں جسے کاٹنے پر پابندی ہے، مگرمناسب حفاظت نہ ہونےکے باعث انہیں کاٹ لیا جاتا ہے ، جب کہ لوبان کے درختوں کوبھی کٹ لگا کر اس سے غیر قانونی طریقے سے لوبان نکالا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ درخت اکثر سوکھ جا تاہے اور یہ نایاب درخت دن بدن نا پید ہوتا جارہا ہے۔

یہاں مخصوص علاقوں میں مور، تلور، تیتر اور ہرن بھی پایا جاتا ہے جسکے شکار پر بھی پابندی ہے مگر ملی بھگت سے شکار ہوتا رہتا ہے اور یہ پرندے اور جانور بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں، تھر کے ایک مقامی باشندے مگھنو نے مجھے بتایا کہ ان پرندوں کے سب سے بڑے دشمن عرب شہزادے ہیں جو کہ یہاں بارش کے موسم میں جب تھر کی وادی سبز پوشاک پہنی دلہن کا روپ دھارلیتی ہے تو آتے ہیں اور مخصوص علاقوں میں شکار کر کے ان پرندوں اور جانوروں خصوصا ً ہرن، تیتر اور تلور کی نسل کشی کا باعث بنتے ہیں۔ یہاں جگہہ جگہہ مقامی لوگ زمین پر جادر بچھا کر تھر میں پیدا ہونے والی جڑی بوٹیوں ، درختوں کی چھالوں، گوند اور مختلف سوکھےبیجوں کے سفوف لیئے بیٹھے نظر آتے ہیں مقامی زبان میں ان لوگوں کو حکیم کہا جاتا ہے جو تفصیل سے لوگوں کو بتارہے ہوتے ہیں کہ کون سے جٹری بوٹی کس بیماری کے لیئے استعمال کی جاتی ہے ۔

شیخ ایاز مرحوم نے اپنی کتاب میں تھر کے حوالے سے بالکل درست لکھا تھا کہ صحرائے تھر فطرت کا میوزیم ہے ۔ تھر کے کئی علاقوں میں ہزاروں سال پرانے مندر ، مساجد اور قبریں دیکھنے میں آتی ہیں جو خستہ حال ہوچکے ہیں چند ایک کو مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کرکے بچا رکھا ہے مگر ان کی مخدوش حالت سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زیادہ وقت تک قائم نہیں رہ سکیں گے ۔ ان تاریخی مقامات کی حفاظت نہ ہونے کے باعث ان مندروں اور مساجدوں سے قیمتی پتھر ، فن خطاطی کے شاہکار اور مندروں سے نادر مورتیاں یا تو غائب ہوچکی ہیں یا ٹھوٹ پھوٹ گئی ہیں ۔تھر دلچسپ تاریخی شاہکاروں سے بھری ہوئی وادی ہے ، مندر، مسجد، کنوؤیں ،مقبرے اور آشرم یہ تمام اپنے اندر صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں ۔خوبصورت صبح جانوروں کے گلے میں پڑی گھنٹیوں کی آوازیں ،مور ، تیتر کی مدھر خوبصورت آوازیں ، پر سحر شامیں ،ریت کے اداس ٹیلے، پہاڑوں پر کھڑے پراسرار پتھر اور ان کے درمیان معصوم اور بے ضرر لوگ اسے ایک طلسماتی صحرا بنا کر یہاں آنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑلیتے ہیں ۔

سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جب ارباب غلام رحیم سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے اور سابق وزیرِ اعظم شوکت عزیز تھر سے الیکشن جیتے تو تھر میں سڑکوں کا جال بچھ گیا ۔ضلع تھر کو ایک طرف عمرکوٹ سے اور دوسری طرف بدین سے بھی بذریعہ سڑک منسلک کر دیا گیا، اور میرپورخاص اور مٹھی کو ملانے والی سڑک کو بہتر اور چوڑا کردیا گیا، جس کی وجہ سے لمبی مسافت مختصر مسافت میں تبدیل ہو گئی ، ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی میں بہت زیادہ ترقیاتی کام ہوئے۔ پیپلزپارٹی کےتھر سے ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے ہمیں بتایا کہ ان کی پارٹی نے گذشتہ نو سالوں میں تھر میں 1.5 بلین روپے کے بہت سے ترقیاتی کام کیئے ہیں جن کا فائدہ براہ راست مقامی لوگوں کو ہوا ہے ۔

کہتے ہیں نا کہ جب زمین پر اللہ کی مخلوق کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا تو اللہ اپنی قدرت سے اپنی مخلوق کی مدد کرتا ہے کبھی من سلوی آسمان سے اترتا ہے کبھی ابابیل کے جھنڈ مدد کو آتے ہیں تو کہیں زمین معدنی خزانے اگلنے لگتی ہے ۔ ایسا ہی ہوا کچھ اس مفلوک الحال تھر میں جہاں ربِ کائینات نے اس ریگستان میں کالا سونا (کوئلہ ) پیدا کرکے بتادیا کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔ تھرکول کے ابھی فیز ون کے دو بلاکوں میں کام شروع کیا گیاہے جس میں بلاک ون میں کام شروع سے سست روی کا شکار رہا جس کی بینادی وجہہ فنڈ کا جاری نہ ہونا بتایا گیا ۔ دوسرے بلاک میں سندھ اینگرو کول مائن کمپنی نے بہت تیزی سے کام شروع کیا ہوا ہے جو کہ جون 2019 میں مکمل ہوگا ۔ اس منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد تھر فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت تھر میں مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیئے بہت سے کام کیئے گئے جو یقناً قابل تعریف ہیں ۔

اگر حکومت سندھ تھ پارکر میں مزید توجہہ دے اور یہاں واقع تاریخی اور قدیم ورثوں جن میں جین مت کا تاریخی مندر، نوکوٹ کا تاریخہ قلعہ، ماروی کا کنواں ، گوڑی مندر اور بھوڈے سر کی مسجد اور دوسری تمام تاریخی عمارات کی مرمت ، حفاظت اور دیکھ بھال کا کام شروع کیا جائےتو یہ علاقے سیاحوں کے لیئے جنت بن جائے گا سیاحوں کی آمد سے علاقے میں مقامی لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور ملک میں ذر مبادلہ بھی آئے گا ۔ میں یہاں یہ کہنے میں حق بجانب ہو ں کہ وہ وقت بہت قریب ہے کہ ایک پسماندہ بجلی سے محروم علاقہ آج پورے پاکستان کو روشن کرنے جارہا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 130 Articles with 82795 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More
05 Dec, 2017 Views: 784

Comments

آپ کی رائے