یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے!!

(Shafqat Ullah, )

جمہوریت اور خلافت کے بارے میں جہاں تک میں نے دیکھا ، سمجھا اور اخذ کیا ہے کے مطابق جمہوریت ایک غیر اسلامی طرز حکومت ہے، جبکہ خلافت خالصتاََ اسلامی طرزِ حکومت ، بشرطیکہ امیر المومنین اتفاق رائے سے منتخب ہو ۔ خلیفہ کے معنی نائب کے ہیں اور اسے حکومت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اﷲ تعٰلیٰ نے انسان کو روئے زمین پر اپنا نائب یعنی خلیفہ بنا کر بھیجا جسے زمین پر حکمرانی بھی بخشی ۔حضرت آدم ؑ ، حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ میں سے ہر ایک کو قرآن میں زمین پر خدا کا خلیفہ بیان کیا گیا ہے ۔ جب 632 ء میں پیغمبر اسلام ﷺ کا وصال ہوا تو یہ لقب ان کے بعد مسلمانوں کے اگلے راہ نماؤں کے حصے میں آ گیا جو چار خلفائے راشدین پہلے خلیفہ بنے ۔ اسلامی دور کی پہلی تین دہائیاں خلفائے راشدین کے ادوارپر مشتمل تھیں ۔خلفائے راشدین کے دور میں یہ نظریہ مسلّم ہو گیا تھا کہ خلیفہ عوام کی مرضی سے مقرر ہوگا اور یوں مقرر کئے جانے والے خلیفہ پر لازم ہو گا کہ وہ اپنی رعایا پر بھلائی کے کام کرے ، بالکل اسی طرح جیسے بادشاہ ذوالقرنین نے کئے اور انبیاء کرامؑ اور رسول ؑ اور نبی آخرالزمان ﷺ نے کئے ، سچا خلیفہ کبھی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔آٹھویں صدی تک اسلامی خلافت دور دور تک رائج ہو چکی تھی ۔پیغمبر اسلام ﷺ کے وصال کے ستر سال بعد بنو امیہ اور عباسیوں کی قائم کردہ مسلمان حکومت سپین اور مراکش سے لے کر وسطی ایشیا تک اور وہاں سے لے کر موجودہ پاکستان کے جنوبی حصوں تک پھیل چکی تھی اور یہ اتنی بڑی حکومت صرف ایک خلیفہ کے تابع تھی ۔یہی وہ مسلمانوں کا اتحاد تھا اور ا ن کی خود مختاری تھی جو مسلمانوں میں خلافت کی کشش کا بڑا سبب ہے۔ میری نظر میں روئے زمین پر سب سے بہترین طرزِ حکومت اگر کوئی ہے تو وہ خلافت ہے ۔ طرز جمہوری سے گریز کرنا چاہئے اور کسی مرد پختہ کے پیرو کار بن کر اس کی خلافت کو تسلیم کر لینا چاہئے ،کیونکہ دو سو گدھے اگر اکٹھے ہو جائیں تو ایک انسان کی فکر کے حامل نہیں ہو سکتے ۔پاکستان میں بھی جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ موروثی سیاست یا مارشل لاء نافذ رہے ہیں یہ نہ اسلامی جمہوریت ہے نہ ہی اشتراکی یا مغربی یہ صرف جاگیرداری نظام ہے ۔علامہ اقبال ؒ نے’’مغرب کا جمہوری نظام‘‘ کہہ کر مغربی جمہوریت جس کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام اور بے راہ روی ہے اسکی نفی کر دی اور ’’نوائے قیصری ‘‘ لکھ کر ملوکیت کی نفی کر دی ۔ اقبال اسلام کے نظام سیاسیات پر یہ رائے رکھتے تھے کہ مغربی جمہوریت کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ جس پارلیمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اکثریت رائے سے جو بھی قانون بنائے اس کو تسلیم کرنا پڑتا ہے جبکہ اسلامی نظام مشاورت میں جسے عصر حاضر میں اسلامی جمہوریت کہا جا سکتا ہے میں نمائندوں کا با کردار ہونا ضروری ہے‘‘ ۔ ایک مسلمان حاکم کا منصف ، متقی ، مدبر اور مدیر ہونا لازم ہے ۔ اس کے علاوہ ملمانوں کی پارلیمان کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو قرآن و سنت سے متصادم ہو کیونکہ اسلام میں حاکمیت اعلیٰ اﷲ کی ذات ہے اور دین و دنیا دویہ نہیں ہے ۔بعض لوگ خلافت کو مولویوں کی حکومت سمجھتے ہیں اقبال اور محمد علی جناح کی نظر میں اسلامی جمہوریت ہی عصر حاضر کی خلافت اسلامیہ ہے ۔ اموی ، عباسی اور عثمانیہ سلطنتیں خلافت نہیں بلکہ موروثی بادشاہتیں تھیں جو جمہوری حکومتیں نہیں تھی ۔ حکومت اسلامی سے مراد قوانین قرآن کی حکومت ہے جس میں عدل و انصاف ، امن و انسانیت اور مساوات و برداشت ہے ۔لیکن صیہونیوں نے اول دن سے ہی اسلامی طرزِ حکمرانی کا انکار کیا اور بغاوت جاری رکھی ۔یہ قصہ حضرت یوسف ؑ سے شروع ہوا جب ان کے بھائیوں نے محض اپنے والد حضرت یعقوب ؑ کی توجہ حاصل کرنے کیلئے یوسف ؑ کو ایک کنویں میں پھینک دیا اور پھر اسی طرح انبیاء کرام ؑ داؤد ، سلیمان ؑ اور پھر یکے بعد دیگرے رسولوں ؑ کی بھی نافرمانی اور یہاں تک کہ انبیاء کرام ؑ کے قتل سے بھی بعض نہیں آئے، یقیقناََ ان کیلئے بڑی تباہی ہے جو آ کر رہے گی ۔ہر دور میں صیہونیوں نے اﷲ کے دین اور اس کی شریعت سے روگردانی کرتے ہوئے علمِ بغاوت بلند کیا جس کی مظبوطی کا عکاس آج کا جمہوری طرزِ حکمرانی ہے ۔ وہی بینکاری جس میں سود لازمی جزو ہے، زیاں و بے راہ روی کو لبرل اور سیکولر کا نام دیا گیا ،انسانوں کی نسبت جانوروں سے اچھا برتاؤ اور کمزوروں کے استحصال اور دنیاوی راحت و مقاصد کیلئے ہر دائرہ انسانیت کو پھلانگنے کو مہذب معاشرہ کہا گیا،میڈیا کے ذریعے کتب سے دور کر کے بے حیائی اس طرح نوجواں نسل میں سرایت کر گئی کہ انہیں صیہونی نجس تعلیم میں بھی اسلام نظر آنے لگا،ایسی حکومت کا نفاذ کیا گیا جس میں چند نافرمان لوگ اپنی مرضی سے قانونِ شریعہ میں ردو بدل کرتے ہیں اور ان کا اطلاق کمزور و ناتواں لوگوں پر کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح پہلے لوگوں نے تورات ، زبور اور انجیل میں ردوبدل کر کے اپنی من پسند شریعت کو مذہب کہا ہوا ہے ۔یہ ہمارے لئے کتنا لمحہ فکریہ ہے جس پر ہماری کوئی توجہ نہیں کہ کس طرح اسلام دشمن قوتوں اور شیطان کے چیلوں نے برائیوں کو ایک حسین اور دل کو لبھانے والی طرز پر ان برائیوں کا زہر امت مسلمہ کے رگوں میں ، خیالات میں اور یہاں تک کہ اعمال میں بھی سرائیت کر دیا ہے ۔ یہ زہر آہستہ آہستہ امت مسلمہ اور تعلیمات محمدیﷺ کو ہم سے دور کر کے اسلامی تشخص مٹانے اور اپنا خود ساختہ دین لوگوں پر مسلط کیا جا رہا ہے ۔ ایسے ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب مسلمان صرف نام کے مسلمان ہوں گے یا شاید وہ بھی نہ رہیں اور یہودیوں کے فلسفے پر اپنی زندگیاں گزارنی شروع کر دیں ،جس کا آغاز ہو چکا ہے ۔علامہ اقبال نے مغربی جمہوریت پر اپنا نظریہ اس ایک شعر میں مبین کر دیا ہے :۔
یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے
غارت گر کا شانۂ دین نبوی ہے 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 214 Articles with 93254 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
12 Dec, 2017 Views: 392

Comments

آپ کی رائے