بڑا دشمن بنا پھرتا ہے !

(Wajid Nawaz, )

ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی اور انگریز ملک پر قابض ہوا تو ساتھ ہی ہندو اس کا دست راست بن گیا۔ مسلمانوں نے کچھ عرصہ کی خواب غفلت کے بعد جب انگریز آقا سے آزادی کی تحریک شروع کی تو ساتھ ہی ہندؤں کی سازشیں بھی شروع ہوگئیں ان کا منصوبہ یہ تھا کہ انگریز جانے لگے تو حکومت اُن کے حوالے کرکے جائے ،لیکن جب قائدعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں مسلمانان ہند کی ثابت قدمی نے انہیں ہار ماننے پر مجبور کر دیا اور ہندوستان کے کروڑوں مسلمان اپنے اکثریتی علاقوں میں ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو ہندؤں نے اپنی سازشیں بھی تیز کر دیں جوتا حال جاری ہیں اور ہمیں آج بھی اس کا توڑ کرنے کے لیے مسلسل ہو شیار رہنا ہے کیونکہ ہم اپنی اس بے احتیاطی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے ایک ایسا نقصان اٹھا چکے ہیں جس کا ازالہ ممکن نہیں۔پاکستان اپنے قیام کے وقت مغربی اور مشرقی حصوں پر مشتمل تھا دونوں حصوں میں ایک ہزار میل سے زیادہ فاصلہ تھا اور درمیان میں وہ دشمن ملک تھا جس نے روزِ اول سے ہی پاکستان کے قیام کو نہ صرف یہ کہ تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ اس کے خلاف اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہا تھا۔اپنی اس ذہنیت کو استعمال کرتے ہوئے اْس نے پاکستان کے مشرقی حصے میں اپنی خفیہ کاروائیاں شروع کیں اور اس کا یہ کام آسان یو ں ہوا کہ مشرقی پاکستان تین اطراف سے اسی دشمن ملک میں گھرا ہوا تھااور دنیا کی پانچویں بڑی زمینی سرحد جس کی لمبائی 4096 کلومیٹر ہے سے اس سے جڑا ہو تھا۔ اسی طرح اس کی سمندری حدود بھی مکمل طور پر بھارت کی دسترس میں تھیں جبکہ مغربی پاکستان سے اس کا سمندری فاصلہ کئی دن کی مسافت پر تھا۔ ان طویل سرحدوں کی وجہ سے بھارت کے لیے مشرقی پاکستان میں جغرافیائی اور نظریاتی مداخلت بہت آسان تھی اور وہ یہ کرتا رہا۔وہ مشرقی پاکستانیوں کے ذہنوں میں زہر اْتارتا رہا اورمولانا بھاشانی اور شیخ مجیب جیسے کرداراسے میسر آتے رہے اور وہ اْنہیں استعمال کرتا رہا۔ملک کے دو حصوں میں دوری آتی رہی اور وہ اس خلیج کو بڑھاتا رہا۔کچھ ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی بھی غلطیاں تھیں جنہوں نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور شکایات کو دور کرنے کی کوشش کی بجائے اْنہیں چھپایا جاتا رہا۔یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جب 1970میں الیکشن ہوئے تو ہمارے کچھ عظیم سیاستدانوں نے ’’اِدھر ہم اْدھر تم‘‘ کا نعرہ لگا کر گویا خود ہی متحدہ پاکستان کی مخالفت کر دی اور ایساصرف حصولِ اقتدار کے لیے کیا گیا۔اْدھر شیخ مجیب کی اپنے آقاؤں کے ساتھ مل کر سازشیں بڑھتی رہیں اور اِدھر حکومت حاصل کرنے کے مختلف طریقے ڈھونڈے جاتے رہے اور بھارت مشرقی پاکستان میں خونی کھیل کی منصوبہ بندی اور تیاری کرتا رہا۔خفیہ کارندوں سے کام لینے کے ساتھ اْس نے اب اپنے پالے اورسدھائے ہوئے مْکتی باہنی کے غنڈوں سے سرِعام کا م لینا شروع کیا۔وہ بھارت جہاں روزِاول سے ہی مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں اور خود نچلی ذات کے ہندؤں اور دلتوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے اْس نے مشرقی پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور اْٹھا یااور اس کی آڑ لے کرباقاعدہ حملہ کر دیا۔بھارت اور اس کی پالتو مْکتی باہنی نے مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے غریب مزدوروں اور کاریگر طبقے پر جو مظالم کیے وہ سفاکی کی وہ عظیم داستان ہے جسے سن کر روح کانپ جاتی ہے، مِلوں میں جس طرح ان کا قتل عام کیا گیا ، گھروں اور سڑکوں پر اِنہیں جیسے مارا گیا وہ کسی بھی طرح انسا نیت کے زمرے میں نہیں آتا۔ہزاروں بنگالی مسلمان بھی مارے گئے لیکن کچھ نہ ہوا تو اْن غدار لیڈروں کو نہ ہوا جو عام شہریوں کو لڑاتے رہے اور خود قلعہ بند ہو کر تماشہ دیکھتے رہے۔ 3 دسمبر1971کوبھارت براہ راست اس جنگ میں کودا اور پھر خون کی ندیاں بہاتا گیا۔بھارت کا ایک دوسرے ملک میں یوں براہ راست مداخلت بذاتِ خود ایک جرم ہے لیکن اْس نے یہ کیا اور دونوں طرف کے مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلتا رہا اور پھر 16 دسمبر1971کو اس خون آشام جنگ کا اختتام ہوا تو ـ’’ بنگا لیوں کا دیش ‘‘ بن گیا اور پاکستان دو لخت ہو گیا۔16 دسمبراب بھی آتا ہے اور ہمیں دشمن کی چالوں سے باخبر رہنے کا ایک پیغام دیتا ہے۔اسی 16 دسمبر کو دنیا کے بدنام زمانہ دہشت گرد ملک بھارت نے پشاور میں آرمی پبلک سکول میں زیر تعلیم معصوم کلیوں کو خون سے نہلادیا ۔ 16 دسمبر 2014ء کی تاریک اور خون آلود صبح کی تلخ یادیں آج بھی پاکستانی قوم کے قلب و اذہان پر نقش ہوچکی ہیں۔ دشمن نے آرمی پبلک سکول کے نہتے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسی 16 دسمبر کے دن کا انتخاب کرکے ہمارے زخموں پر نمک چھڑک دی اور ہماری قومی غیرت و اہمیت کو للکار دیا۔اس خون آلود صبح کے اندرونی و بیرونی کرداروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا ۔
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

اس سانحے کے بعد پوری قوم ایک اعصاب شکن سکتے کی صورتِ حال سے دو چار رہی ، قوم کے ہر بچے کی زبان پر ’’ بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے ‘‘ کی پکار سنائی دی، قوم کے ہر فرد نے اس سانحہ پر آنسو بہائے ۔ قوم جب اِس صدمے سے نکلی تو ایک بار پھر خود کو اْنہی سرگرمیوں میں اْلجھا لیا، پھر بھائی بھائی کا دشمن اور بدخواہ بن گیا۔ہم آج بھی علا قائیت اور صوبائیت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے دشمن کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اپنا حربہ آزمانے کی کوشش کرے۔ہمیں اپنی نئی نسل تک دشمن کی چالا کیوں اور اپنی کوتاہوں کی خبر ضرور پہنچانی ہے تاکہ ہم دوبارہ نہ خود ایسی غلطی کریں اور نہ ہی دشمن کو موقع دیں کہ وہ اپنی چال چلے۔ اپنی اس ناکامی کے لیے تو ہمارے پاس ایک عذر لنگ ہے کہ مشرقی پاکستان کا ہم سے زمینی رابطہ نہیں تھا درست ہے کہ فاصلہ بہت تھا تین طرف سے دشمن ملک سے گھرا ہوا بھی تھا لیکن ہمارے موجودہ جغرافیے میں ایسا کچھ نہیں۔عذر تو تب بھی ماننے کے قابل نہیں تھا کیونکہ مسلماناںِ ہند نے پاکستان نظریے کی بنیاد پر بنایا تھااور نظریے یوں ٹوٹتے نہیں کہ بقول اندرا گاندھی اْسے بحیرہ عرب میں غرق کر دیا گیا نظریہ غرق تو نہ ہو سکا کہ بنگلہ دیش بھی اسلامی ملک ہی بنا لیکن ہماری بنیادیں ضرور ہلا دی گئی جس کو قابو کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت تھی۔عام آدمی تو آج بھی اس نظریے پر قائم ہے اْس کی پاکستان سے محبت کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر ہے، ہمارے اربابِ اختیار کی ملک سے محبت پر بھی شک نہیں لیکن مفادات میں تقدیم پر ضرور ہے کہ جب ان کے ذاتی اور قومی مفادات کا ٹکراؤ ہو تا ہے تو اِن کو ہربار اپنا ذاتی مفاد عزیز ہوجاتا ہے اگر ہم عوام اپنے حکمرانوں کو یہ رویہ سکھادیں کہ پہلے ملک ہے پھر ذات ، پات ، زبان ، صوبے ، علاقہ ہے اور ان کو اِن کی دانستہ غلطیوں کی سزا دے سکیں تو ہم انشاء اﷲ دوبارہ اس قسم کے سانحے دوچار نہیں ہو سکیں گے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفا ظت بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے لہٰذا ہمیں اپنے اپنے محاذ پر ڈٹ جا نا چاہیے اﷲ تعالیٰ ضرور ہماری مدد اور حفاظت فرمائے گا اور دشمن ضرور ناکام ہوگا چاہے وہ کتنا ہی چالاک اور طاقتور ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: واجد نواز ڈھول

Read More Articles by واجد نواز ڈھول : 57 Articles with 42121 views »
i like those who love humanity.. View More
13 Dec, 2017 Views: 443

Comments

آپ کی رائے