ظالم حکمران اور معصوم عوام

(Niaz Ahmed, )

 تقسیم ہندوستان مسئلہ پر اس وقت کے سیاسی و مذہبی مکاتب فکر بھی تقسیم کے عمل سے گزرے اور ہر ایک نے اپنے موقف کا خوب دفاع کیا لیکن ہندوستان کو تقسیم ہونے سے نہ بچا سکے اور اس عمل نے تاریخ کے دشت وصحرہ میں انمٹ نقوش چھوڑے اور دھڑکنوں کو جامد کرنے والی ہزارہا داستانیں ہیں جو تب وقوع پذیر ہوئیں تھیں ۔تقسیم کے اس المناک عمل سے پنجاب و بنگال کے دلوں میں ہی چھید نہیں ہوئے بلکہ اس نے ریاست جموں کشمیر کے باسیوں کو بھی بیحد متاثر کیا جو پہلے ہی مغل افغان سکھ اور ڈوگرہ حکمرانوں کے زیر یلے تیروں سے زخم خوردہ تھے رہی سہی کسر تقسیم ہندوستان نے پوری کر دی ۔یہ ریاست جو ایک سو سال ڈوگرہ حکمرانی میں رہی تھی اس دور کا ماضی کے تمام ادوار سے موازنہ کیا جائے تو واضع ہوجاتا ہے انہوں نے یہا ں بدترین مذہبی و فروہی فرقہ وارانہ ومتعصبانہ نظام رائج کررکھا تھاجس کا مقصد محض حکومتی خزانے کی بڑھوتری اوردرباریوں کو مستفید کرنا جب کہ عوامی فلاح حکمران طبقات کے لئے گالی سے کم نہ تھا اور یوں حکمرانوں نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا تھا کہ یہ ان کا ملک نہیں بلکہ اس زمین اور اس کے باسیوں کی حیثیت ان کے زر خرید سامان سے زیادہ کچھ نہیں ،یہی وجہ رہی کہ ایک سوسال ایک خاندان کی حکمرانی کے باوجود لوگوں میں ریاستی نیشنلزم پروان نہ چڑھ سکا اورتقسیم ہندوستان کے دوران یہ ریاست حملہ آوروں کی معمولی جاریت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی ۔
کہا جاتا ہے کہ تقسیم ہندوستان کے آغاز سے پہلے ہی مشرقی پنجاب اور بنگال میں دنگے شروع ہو چکے تھے بالخصوص مشرقی پنجاب کے فساد ات نے ریاست جموں کشمیر کے جموں ریجن کو متاثر کیا تھا جس کی ایک وجہ وہاں اکھنڈ بھارت نظریات کے حامی انتہا پسند مذہبی و سیاسی گروپوں کو ہری سنگھ کا آشیرباد حاصل تھا ۔ اس حوالے سے ممتاز بھارتی صحافی ،مصنف محقق و دانشور ’’نقوی‘‘نے بھارتی عتاب کا شکار مسلمانوں پر ایک کتاب Being others Indian Muslimsمیں اور سرینگر کے ایک سینئر صحافی ومصنف جناب PGرسول نے اپنی کتاب ’’مسئلہ کشمیر کی تاریخی اصلیت‘‘میں عالمی زرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں کو بڑی اہمیت دی اور نہرو،مہاراجہ ہری سنگھ ،بلدیوسنگھ،سردار پٹیل،مہرچند مہاجن ،شیخ عبداﷲ اور اس کھیل کے دوسرے اہم کرداروں کی جولائی اگست ستمبرو نومبر 1947ء کے تمام سرکاری مراسلات و ریکارڈ سے اس عرصے میں ہونیوالے واقعات اور دوسرے مصدقہ زرائع سے حاصل حقائق اور کشمیر پر بھارتی قبضے کی سازشوں کی مرحلہ وار کہانی بیان کی ہے ۔

وہ کہتے ہیں 6نومبر1947ء کاجموں میں ہونے والا قتل عام کوئی ایک واقع نہیں ناں ہی جموں کے بدترین قتل عام کا نقطہ آغاز تھا بلکہ سلسلہ وار قتل عام کا وہ نقطہ عروج تھا جس کا آغاز مشرقی پنجاب میں مسلم قتل عام سے ہو گیا تھا یہ سلسلہ تین ماہ سے زیادہ تک جاری رہا ۔اس وقت صوبہ جموں میں مسلم آبادی کا تناسب 61%تھا اور اس قتل عام کے زریعے 23%مسلم آبادی کا صفایا کردیا گیا تھا جس کے بعد صوبے میں مسلمانوں کی آبادی محض 38%رہ گئی تھی اور اس طرح جموں کا مسلم تشخص ختم کر دیا گیا تھا ۔
پاکستان کی جانب سے پہلا قبائلی لشکر تو 22اکتوبر کو ریاست پر حملہ آور ہوا تھا جو 24اکتوبر کو بارہمولہ پہنچا تھا لیکن جموں میں مسلمانوں کا قتل عام بہت پہلے سے شروع ہوچکا تھا تاریخ میں اس کے کئی ایک شوائد موجود ہیں ۔جو مذکورہ مصنفین کی تصانیف سے ملتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ 9 اکتوبر 1947کو جموں کے ’’استادمحلہ‘‘ کے مسلمانوں کا اجتماعی قتل کیا گیا اور یہ عمل روزمرہ کی بنیاد پر شدت اختیار کرتا گیااور 20اکتوبر کو ’’اکھنور‘‘ کے تقریباً 20ہزار مسلمانوں کو آزادکشمیر ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا جب وہ دریائے توی کے پل کو عبور کر رہے تھے تو ڈوگر ہ فو رسز،پٹیالہ فورسز اورRSS نے جو پہلے سے ایک پلان کے تحت وہاں موجود تھے پل کے اطراف سے انہیں گھیر کر گولیوں سے بھون ڈالا۔اسی روز کٹھوعہ کے مسلمانوں کا بھی اسی طرح صفایا کر دیا گیا اور ان کے گھر جلا دئیے گئے ۔21/22اکتوبر کو جموں اور کٹھوعہ کے درمیان واقع راجپورہ کے مقام پر ارد گرد کے دیہات سے مسلمان مردعورتوں و بچوں کوگھیر کر لایا گیا اور سڑک پر قطار میں کھڑے کر کے گولیوں سے بھون ڈالا گیا ۔بکروز گاوں کے تقریبا 2ہزار افراد کو بھی آزادکشمیر ہجرت کا جھانسہ دے کر چھٹی کھوئی کے مقام پر تہ وتیغ کر دیا گیا کوہاٹہ کے پانچ سو کے قریب لوگوں کو آزادکشمیر ہجرت کے بہانے گھروں سے نکالا اور انہیں گھات لگا ئے فورسز نے سیز فائر لائن کے قریب قتل کر دیا ۔بدی اور تلہ محلہ کے تین ہزار افراد کو دوران ہجرت ماہی چیک کے مقام پر تہ وتیغ کر دیا گیا سالن کنڈی و ہیرہ نگر کے ہزاروں افراد کو دوران ہجرت چھٹی کھوئی کے مقام پر گھات لگا کر قتل کیا گیا راجپورہ اور غوال گاوں کے دو ہزار اور سانبہ کے دس ہزار مردوزن اس درندگی کا شکار ہوئے آئے روز ہونیوالے ان ظلم وجبرکے واقعات کے باعث پورے جموں ریجن میں دہشت و سہمگی کا ماحول تھا اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈوگرہ حکمرانوں نے عام معافی کا علان کیا تاکہ بچے کھچے مسلمانوں کا بھی کام کر دیا جائے اور علان ہوا کہ جو لوگ آزادکشمیر جانا چاہتے ہیں وہ پولیس لائن جموں میں جمع ہو جائیں جہاں سے انہیں بحفاظت بھیج دیا جائیگا یوں ڈرے سہمے مسلمان پانچ نومبر کو ہی ہزاروں کی تعداد میں پولیس لائن میں جمع ہونے لگے جہاں سے انہیں چھ نومبر کو گاڑیوں میں لادا گیا اور راستے میں اچانک گاڑیوں کا رخ سیالکوٹ کے بجائے’’ ماوہ‘‘کے جنگلات کی جانب موڑ دیا گیا وہاں پہنچتے ہی پہلے سے تیار پٹیالہ ،ڈوگرہ اور آرایس ایس فورسز نے ان نہتے معصوم ریاستی عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا ۔کہا جاتا ہے کہ اس روز نہتے ریاستی انسانوں کا اتنا خون بہا کہ توی کا رنگ سرخ ہو گیاتھا ۔

جموں قتل عام میں کل کتنے مسلمان شہید ہوئے صیح تعداد تو اﷲ تعالی ہی جانتا ہے بہرحال ’’بوریس الیگزیڈر‘‘ نے (دی سپیکٹیٹر) کی 16جنوری 1948 کی اشاعت میں شہداء کی دولاکھ تعداد بتائی جب کہ برطانوی اخبار ’’ٹائم آف لندن‘‘نے 10اگست1948کی اشاعت میں یہ تعداد 2لاکھ37ہزار بیان کی ہے اور یوں ایک درندہ صفت حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کی سربراہی میں ریاستی عوام کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جس کی دنیا بھر کے ظالم و جابر حکمرانوں کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niaz Ahmed

Read More Articles by Niaz Ahmed: 98 Articles with 48329 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Dec, 2017 Views: 379

Comments

آپ کی رائے