تبدیلی جا رہی ہے؟

(Shafiq Malik, Chakwal)

اوے نواز شریف, اوے زرداری, اوے پاکستانی لوگوسن لو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا سب کو لٹکاؤں گا،ایک ایک کو پکڑوں گا ،لوٹا گیا اربوں روپیہ واپس لاؤں گا قوم کی ایک ایک پائی وصول کروں گا کوئی کچھ بھی کہہ لے میں نے کسی کو این آر او نہیں دینا،قوم بے فکر رہے میں نہ صرف پچاس لاکھ گر دوں گا بلکہ ایک کروڑ نوکریاں بھی فراہم کروں گا، سوال ہواکیا آپ انجنئیر ہیں نہیں اچھے بزنس مین ہیں نہیں،اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں نہیں،اچھے سیاستدان ہیں نہیں مجھے توسیاست آتی ہے نہیں،کسی وزارت مشاورت کا کوئی اچھا تجربہ ہے نہیں،کسی ملک کو چھوڑیں کسی صوبے یا ضلعے کی گورننس کا کوئی تجربہ ہے نہیں تو آپ ہیں کیا کیسے یہ سب کریں گے، میں اچھا کپتان ہوں پاکستان کو پہلی دفعہ ورلڈ کپ جتوایا کرکٹ کا اچھا کھلاڑی ہوں ،تو اب ہم کیا کریں مجھے حکمران بناؤ آپ کا ہر مسئلہ حل کر دوں گا آپ کو ان مسائل کا دراک ہی نہیں آپ کو کبھی ایسے کسی مسئلے سے واسطہ پڑا جو عام آدمی کو درپیش ہے نہیں کبھی نہیں پھر آپ کیسے حل کر لیں گے میں نے ورلڈ کپ جتوایا تھا اور چندہ لیکر شوکت خانم کینسر ہسپتال بنوایا تھا،کبھی خود کینسر ہسپتال کے استقبالیہ پر بیٹھے ہیں یا بھیس بدل کر اپنے ہسپتال گئے ہیں کہ وہاں غریبوں کے ساتھ کیسا برتاؤ ہوتا ہے نہیں میں کیوں جاؤں،جب آپ کو ایسا کوئی تجربہ نہیں آپ میں ایسی کوئی قابلیت نہیں تو ہم آپ کو کیوں حکمران بنائیں کیوں کہ میں نے آپ کو ورلڈ کپ جتوایا تھا چلیں اس بات کا جواب دیں کہ اگر اب کی بار پاکستان ورلڈ کپ جیت جائے تو کیا اگلا حکمران سرفراز کو بنا دیں نہیں کیوں اسے حکمرانی کا کیا پتہ وہ تو محض ایک کھلاڑی ہے ، تو پھر آپ کو کیوں منتخب کیا جائے کیوں کہ میں نے ورلڈ کپ جتوایا تھامجھے یہ ساری گھمن گھیریا ں ایک پرانی کہاوت پڑھ کر یاد آ گئیں کہتے ہیں کسی علاقے میں رواج تھا کہ بادشاہ کے مرنے کے بعد نیا بادشاہ منتخب کرنے کا باقاعدہ کوئی رواج نہیں تھا ،لوگوں نے طے کر رکھا تھا کے بادشاہ کی تدفین کے بعد اگلے دن صبح سویرے جو سب سے پہلا شخص شہر میں داخل ہوتا وہی ان کا بادشاہ ہوتا ،چنانچہ یہاں بھی یہی کچھ ہوا مرحوم بادشاہ کو کفنانے دفنانے کے بعد اگلے دن سارے لوگ دارلحکومت کے مرکزی دروازے پر جمع تھے کافی دیر تک کوئی نہیں آیا سورج نکل آنے کے کافی دیر بعد ایک ملنگ یا فقیر اپنی گدڑی اٹھائے گلے میں مالائیں پہنے شہر میں آتا نظر آیا ، اسے دیکھ کرجہاں باشعور لوگوں کو شدید تشویش ہوئی وہیں بے وقوف اور جذباتی لوگوں نے بلا سوچے سمجھے ہاہا کار مچانا شروع کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لوگوں نے فقیر کو کندھے پر اٹھا لیا بادشاہ سلامت زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے رہے ،کسی نے کسی کی نہیں سنی ، فقیر کو اٹھا کر محل میں لایا گیا اول تو فقیر کو کچھ سمجھ نہیں آئی کہمعاملہ ہے کیاس نے سمجھا کہ شاید چوری کے الزام میں پکڑا گیا ہوں فقیر نے کئی بار بچ نکلنے اور بھاگنے کی کوشش کی مگر لوگوں نے اس مظبوطی سے جکڑ رکھا تھا کہ اس کی ایک نہ بنی ،اسے محل کے شاہی حمام میں لا کر نہلایا دھلایا گیا نئے کپڑے پہنائے گئے اس نے کندھے سے اپنی گدڑی اتار کر ایک کونے میں رکھ دی اور درباریوں کو ہدایت کر دی کہ اس کو سنبھال کر رکھا جائے چنانچہ یہی ہوا،فقیر سلامت بادشاہ سلامت بن گئے اب پتہ کسی چیز کا تھا نہیں ریاست کا کوئی بھی مسئلہ پیش کیا جاتا تو بادشاہ سلامت آرڈر جاری کرتے کہ اس کو بعد میں دیکھتے ہیں تم پہلے کھیر پکاؤ،فقیر چونکہ ازلوں کا بھوکا تھا اچھا کھانا کبھی نصیب ہوا نہیں تھا سو اس نے سوچا کہ موقع اچھا ہے نہ جانے کب ان لوگوں کی ہوش ٹھکانے آجائے یا عقل جاگ جائے بہتر ہے جتنے دن ہیں کھانا تو سیر ہو کر کھایا جائے،آس پاس کے دشمن ملکوں کو پتہ چلا کہ فلاں علاقے یا ملک میں لوگوں نے ایک ایسے شخص کو بادشاہ بنایاہوا ہے جسے امور سلطنت چلانے کا ککھ تجربہ نہیں تو انہوں نے موقع غنیمت جان کر اس ملک پر چڑھائی کی ٹھانی،اپنی فوجوں کو بارڈر یک کی طرف روانہ کیا انٹیلی جنس والوں نے فورا اپنے بادشاہ کو خبر کی کہ جناب دشمن کے ارادے خطرناک ہیں بادشاہ نے حکم جاری کیا میں دیکھتا ہوں تم ایساکرو کھیر پکاؤ،کھیر پکائی گئی،فوجیں نزدیک آ گئیں پھر باشاہ کو خبر دی گئی حکم ہوا چھوڑودیکھ لیں گے تم کھیر پکاؤ شہر پر حملہ ہو گیا بتایا گیا جناب لوگ جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں حملہ آور نزدیک آ گئے ہیں فوج کو حکم جاری کریں بادشاہ صاحب بولے میں دیکھتا ہوں تم کھیر پکاؤ کھیر پکائی گئی اگلے دن اطلاع دی گئی کہ حملہ آور فوج نے ملک پر قبضہ کر لیا ہے اب محل کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے بادشاہ نے کہا ایک منٹ انتظار کرو،لوگ حیران تھے کہ بادشاہ کیا کرنے جارہا ہے بادشاہ اندر گیا خلعت فاخرہ اتاری اپنا پرانا چولا پہنامالا گلے میں ڈالی گدڑی اٹھائی اور باہر نکلا اور درباریوں سے بولا تم جانو اور تمھارا ؤ ملک میں تو یہ چلا،مجھے یہ واقعہ تبدیلی سرکار کے روز نت نئے بدلتے انداز اور حالات دیکھ کر یاد آیا کہ یہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر اوے اوے کرتے رہے پھر شہر میں داخل ہوئے لوگوں نے سربراہ مملکت بنا لیا،لاکھوں گھروں اور کروڑوں نوکریوں کو ترستے عوام نے انہیں حقیقی مسیحا جانا اور ان سے وہ وہ توقعات وابستہ کر لیں جن سے انہیں دور پرے کا بھی واسطہ نہیں تھا ،لوگوں نے کہا ہم مہنگائی برداشت کر لیں گے آپ کی اوے اوے اور بدتمیزی بھی برداشت کریں گے سپریم کورٹ سے سزا یافتہ اور نااہل شخص کی کابینہ اجلاسوں میں موجودگی بھی برداشت کریں گے دوستوں کو نوازنے کی پالیسی اور انگلینڈ کے شہریوں کو وزارتیں بھی برداشت کر لیں گے مگر صرف ایک کام برداشت نہیں کریں گے کہ کسی چور کو چھوڑدیا جائے گا کرپٹ لوگوں کا بلاامتیاز احتساب ہو گا تو ملک آگے بڑھے گا آپ، یہ کام کر گذریں ہم آپ کے ساتھ ہیں مگر انہوں نے یک طرفہ ٹریفک شروع کی الٹا معاملات گلے پڑنا شروع ہو گئے میاں نواز شریف ضمانت پر ،آصف زرداری ضمانت پر،شہباز شریف کلین چٹ لیکر انگلینڈبلکہ پبلک اکائنوٹس کمیٹی کے سربراہ،حمزہ شہباز ضمانت پر،اب سلمان رفیق اور سعد رفیق بھی صاف شفاف ہونے کے نزدیک اوپر سے حنیف عباسی پورے جارحانہ انداز میں تیار،کاش کہ آپ بے لاگ اور بے رحم احتساب کرتے آپ کمزور لوگوں کے لیے الگ قانون اور زور آوروں کے لیے الگ قانون سے قومیں تباہ ہوتی ہیں کا سبق سناتے وقت یاد رکھتے کہ قانون سب کے لیے ایک ہے تو بنی گالہ رجسٹر ہوتا نہ مانیکا اینڈ کمپنی سی ایس ایس افسران کو اپنے سامنے ہوشیار باش کرتی،مریم بی بی ار فریال تالپور کے ساتھ علیمہ باجی بھی کسی عدالت کے چکر لگا رہی ہوتیں،درجنوں ن لیگی اور پی پی پی کے ملزموں کے ساتھ دو چار پی ٹی آئی کے لوگ جنہوں نے ملک کا پیسا لوٹا ور آپ کی چھاؤں میں آگئے کہیں نہ کہیں کسی جیل کی دیوار کے پیچھے ہوتے،مگر آپ شاید ابھی تک کنٹینر پر ہی ہیں آپ کو پتہ ہی نہیں کہ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی گذر چکا ہے لوگ اب سوال کرنا شروع ہو گئے ہیں کہ جناب نے اب تک کیا کیا ہے،کدھر ہیں پچاس لاکھ گھر پچاس لاکھ نہ سہی پچاس ہزار ہی دکھا دیں کروڑ نوکوریوں کو چھوڑیں دو چار ہی دکھا دیں،پٹرول تو پینتالیس روپے لٹر ملتا تھا نوے روپے ہی دے دیں کدھر گئے وہ دعوے جن میں لوگوں کو بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کی یقین دہانیاں کرائی گئیں تھیں،گیس تو آپ نے فری دینی تھی آپ تو ریٹ کمرشل سے بھی اوپر لے گئے،کوئی ایک کام آپ بتا دیں دوائیں تک آپ عام آدمی کی اپروچ سے باہر لے گئے ،کون سے دور کو واپس لانے کے لیے آپ کو ووٹ دیے گئے تھے اور آپ کون سا واپس لے آئیں ہیں ،کبھی کھیر پکانے کے آرڈر سے فرصت ملے تو جائزہ ضرور لیجیئے گا کہ حسن نثار اور ہارون الرشید کے علاوہ ایاز امیر جیسے لوگ آپ کے خلاف کیوں ہو گئے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آپ کبھی جائزہ نہیں لیں گے کیوں کہ حکمرانی کا نشہ ہی ایسا ہے کہ یہ کچھ دیکھنے سننے دیتا ہی نہیں،آپ کہتے تھے تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے اب دن بدن بدلتے حالات اور نہایت تیزی سے تبدیل ہوتا ماحو ل لوگوں کو شک میں ڈالنے لگا ہے کہ شاید تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی جا رہی ہے،،،اﷲ ہم سب پر رحم کرے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 128 Print Article Print

Reviews & Comments

Language: