آپ نے ہمیشہ ہی سُنا ہو گا کہ اگر سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی پر خارش ہو تو لوگ اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ پیسہ آنے والا ہے اور اگر خارش اُلٹے ہاتھ کی ہتھیلی پر ہو تو کہا جاتا ہے کہ پیسہ جانے والا ہے تاہم ہتھیلیوں سے متعلق چند دلچسپ روایات دنیا بھر کے معاشروں میں رائج ہیں اور ہر کوئی اسے اپنے ہی انداز میں معنی دیتا ہے، لیکن یہ بات کتنی حقیقت رکھتی ہے آج ہم
آپ کو بتائیں گے۔
مغربی ممالک میں سیدھے ہاتھ میں خارش کی وجہ Spiritual Sign مانا جاتا ہے تاہم بعض لوگ اس بات میں بلکل یقین نہیں رکھتے۔
مغربی ممالک میں جہاں لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سیدے ہاتھ کی ہتھیلی پر خارش ہو تو پیسہ آئے گا وہیں کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ سیدھے ہاتھ میں خارش کی وجہ قدرت کی جانب سے ایک اشارہ ہے کہ آپ کسی خاص یعنی اپنے جیون ساتھی سے ملنے والے ہیں۔
یہ تو بات ہوئی سیدھے ہاتھ میں خارش کی، اب اگر اُلتے ہاتھ میں خارش کی بات کی جائے تو آپ نے اپنے بڑوں سے سُنا ہو گا کہ آپ پیسہ کھونے والے ہیں یا کچھ جانے والا ہے تاہم مغربی ممالک میں اس کی روایات کچھ مختلف ہیں وہاں اُلٹے ہاتھ میں خارش کو قدرت کی طرف سے تحائف ملنے کی علامت مانا جاتا ہے۔
التبہ دنیا کے زیادہ تر لوگ ہاتھ میں خارش ہونے کو پیسوں سے ہی منسوب کرتے ہیں، پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے اکثر معاشروں میں ہتھیلی پر ہونے والی کھجلی کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر سیدھے ہاتھ کی ہتھیلی پر کھجلی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ جلد دولت مند بننے والے ہیں یا پھر دولت آپ کے پاس آنے والی ہے اسی طرح بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر کھجلی کو بد قسمتی یا دولت کے ہاتھ سے نکل جانے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ان باتوں میں کتنی حقیقت ہے اور سائنس اس بات کی کیا وضاحت کرتی ہے آئیں اس پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق جب ہاتھ یا جسم کے کسی حصے میں خون کی روانی کم ہو اور پھر اچانک اُس حصے میں خون کی روانی بحال ہو جائے تو انسان کا دماغ اُسے یہ اشارہ دیتا ہے کہ اس حصے میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے، اور یہ تبدیلی یا تو خارش کبھی چُبھن اور کبھی درد کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
مگر زیادہ تر سیدھے ہاتھ میں ہی خارش ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم کا سیدھا حصہ زیادہ ایکٹو ہوتا ہے اور اس ہی لئے سیدھے ہاتھ سے ہر شخص زیادہ کام کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کے سیلز بھی زیادہ ایکٹو ہوتے ہیں تاہم اگر کوئی بھی تبدیلی ہو تو یہ اسے فوری طور محسوس کرتا ہے۔
تاہم اگر ہماری نیت صاف ہو تو پیسہ ہاتھ میں خارش ہونے سے آئے یا جائے ہمیں دینے والے کی ذات پر یقین ہونا چاہئیے کہ وہ ہمیں بڑھا کر اور کئی گنا زیادہ عطا کرے گا۔
مختلف معاشروں کی چند روایات کا جائزہ
دائیں ہاتھ کی ہتھیلی جیب میں ڈالیں:
کچھ معاشروں میں لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر آپ زیادہ دولت کے خواہش مند ہیں تو اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو جیب میں ڈال کر مسلیں اور اس عمل کے نتیجے میں جیسے ہی کھجلی شروع ہو گی تو سمجھ لیں کہ پیسہ آپ کے پاس آنے والا ہے۔
بھارتی روایات:
اس حوالے سے بھارت میں پائی جانے والی روایات کچھ مختلف ہیں جہاں دائیں ہتھیلی پر کھجلی کا مطلب ہے کہ دولت مردوں کے پاس آئے گی اور بائیں ہاتھ میں کھجلی کے معنی ہیں کہ دولت عورت کے پاس آئے گی۔
جو لوگ ان روایات کو نہیں مانتے ان کی سوچ سب سے مختلف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے ہاتھ میں کھجلی ہو رہی ہے تو آپ کی جلد خشکی یا پھر الرجی کا شکار ہے جس کے لیے آپ کا ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔
ہتھیلی کی خارش کو کیسے روکیں:
بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مسلسل کھجلی سے اکثر لوگ پریشان ہو جاتے ہیں اور فکر میں لگ جاتے ہیں کہ اسے کیسے روکا جائے تو اس کے لیے آپ کو اپنے ہاتھ کو کسی لکڑی کے ساتھ رگڑنا ہو گا جس سے کھجلی غائب ہو جائے گی جب کہ اس کے لیے آپ گھر میں موجود ٹیبل کا کونا بھی استعمال کرسکتے ہیں لیکن کونے سے رگڑتے ہوئے خیال رکھیں کہ کوئی پھانک انگلی میں نہ چلی جائے۔