ملکہ برطانیہ ایک اصول پسندی اور قانون کی پاسداری کرنے والی خاتون ہیں۔ ان کے بغیر شاہی خاندان کا کوئی بھی فرد اپنی من مانی نہیں کرسکتا ہے اور ہر حال میں ملکہ الزبتھ دوم کے حکم کو ماننا ہے۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ چند مواقعوں پر اپنے ہی پروٹول کی خلاف ورزی کر چکی ہیں؟ یقیناً آپ نہیں جانتے ہوں۔
آج ہم بھی آپ کو ملکہ الزبتھ کے بارے میں ایسے ہی کچھ دلچسپ اور حیرت انگیز حقائق بتانے جا رہے ہیں جو آپ نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنے ہوں گے۔
1- شاہی خاندان کا اصول ہے کہ عام افراد انہیں چھونے سے گریز کریں تاہم اب شاہی خاندان اکثر و بیشتر اس اصول کی خلاف ورزی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ لیکن
2009 میں ملکہ الزبتھ کو شاہی پروٹوکول کی اُس وقت خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھا گیا جب انہوں نے باراک اوباما کی اہلیہ مشل اوباما سے گرم جوشی کے ساتھ گلے ملتے ہوئے دیکھا گیا۔
2- برطانوی شاہی خاندان سے متعلق یہ بات بہت عام ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے، مگر ملکہ الزبتھ اس اصول کے بھی خلاف گئیں۔ برطانیہ میں سیاسی ہنگامہ آرائی کے دوران ملکہ الزبتھ نے اپنی سیاسی رائے کا اظہار کیا تھا رویل فیملی کے قانون کے خلاف ہے۔
3- برطانوی شاہی خاندان کے افراد عام پبلک کے ساتھ تصاویر نہیں بنوا سکتے لیکن ملکہ الزبتھ دوم نے شاہی خاندان کو عوامی فریم میں قدم رکھنے اور جدیدیت کی طرف راغب کرنے میں مدد کی۔
4- شاہی روایات کے مطابق ہر سال کرسمس کے موقع ہر شاہی کنبہ ملکہ کی نجی رہائش گاہ سینڈرنگھم میں جمع ہوتا ہے ، جہاں وہ تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایک ساتھ چرچ جاتے ہیں اور کچھ وقت گزارتے ہیں۔ اگرچہ یہ خاص موقع صرف شاہی خاندان اور شادی شدہ جوڑے ہی منا سکتے ہیں، جبکہ 2017 میں کرسمس کے دوران ، میگھن مارکل کو شہزادہ ہیری سے شادی سے قبل ہی
ملکہ الزبتھ کی جانب سے اجتماع میں مدعو کیا گیا تھا۔
5- سال 2002 تک برٹش رائل فیملی کے ممبران کو طلاق دینے کی اجازت نہیں تھی ، خاص طور پر جب ان کے سابقہ شریک حیات ابھی تک زندہ ہوں۔ تاہم چرچ آف انگلینڈ نے 2002 میں اسی کی اجازت دینا شروع کردی ، جس کے بعد شہزادہ چارلس اور کیملا پارکر باؤلس شادی کے بندھن میں بندے۔ اگرچہ ملکہ الزبتھ مبینہ طور پر اس تقریب میں شریک نہیں ہوئی تھی، لیکن انہوں نے شہزادہ ہیری کی شادی کو میگھن مارکل سے طلاق دینے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا۔