عہدے سے بر طرف کئے جانے کے بعد مفتی منیب الرحمٰن نے حکومت کے خلاف اہم اعلان کر دیا

image

مفتی منیب الرحمٰن کا حکومت کے خلاف مہم چلانے کا اعلان، گروپ تشکیل دیدیا گیا۔

نجی ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن کی جانب سے پریس کانفرس کی گئی جس میں مفتی منیب الرحمٰن نے فیٹف قانون سازی پر وفاقی حکومت کیخلاف مہم کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔

اس موقع پر مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے حکومت مخالف تحریک چلانے کیلئے ایک گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے، تاہم اس موقع پر ان کے ساتھ مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام بھی شریک تھے۔

اس موقع پر دیگر علماء نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کا قانون اسلامی اداروں کے خلاف سازش ہے، اس کے تحت دینی مدرسوں کی رجسٹریشن کی آڑ لی جا رہی ہے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے اس قانون سازی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے یہ قانون فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے دباؤ پر منظور ہوا۔

اس موقع پر مفتی منیب الرحمٰن نے اعلان کیا کہ 'اگر حکومت نے ہم پر زبردستی کرتے ہوئے یہ قانون نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھر پور مخالفت کی جائے گی اور یہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، اس ملک میں مذہبی پابندیاں ناقابلِ قبول ہیں'۔

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے اہم رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم عمران خان ''یوٹرن'' لیں اور اس قانون کو فوری طور پر واپس لیں۔

یاد رہے کہ حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان کو عہدے بر طرف کر کے ان کی جگہ بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد کو اس قومی ادارے کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے، تاہم اپنے عہدے سے سکبدوشی کے بعد مفتی منیب الرحمٰن نے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US