ایف آئی اے نے انکوائری میں میشا کو قصور وار ٹہرا دیا ہے، علی ظفر کے وکیل کا انکشاف۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو میں گلوکار علی ظفر کے وکیل حشام احمد خان کا کہنا تھا کہ میشا شفیع کا ورک پلیس پر ہراسانی کا کیس محتسب سے برخاست ہوچکا ہے، اور اُن کی گورنر پنجاب کو اپیل بھی مسترد کی جا چکی ہے۔
گلوکار علی ظفر کے وکیل حشام احمد خان نے واضح کیا کہ ایف آئی اے نے انکوائری میں میشا کو قصور وار ٹہرا دیا ہے جبکہ ایف آئی اے نے اپنی انکوائری رپورٹ بھی عدالت کو ارسال کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علی ظفر نے 100 کروڑ کا ہرجانہ دائر کر رکھا ہے، تاہم میشا شفیع کا عدالت میں انتظار کر رہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ فیک اکاؤنٹس بنے ہوئے ہیں، کوئی مسئلہ ہے تو اس کے حل کے لئے فورم بنے ہوئے ہیں، فیک اکاؤنٹس سے علی ظفر کے خلاف ٹرولنگ کی جا رہی ہے، میشا شفیع بھی سمجھتی ہیں کہ اُن کے خلاف ٹرولنگ ہو رہی ہے تو انہیں متعلقہ فورم پر جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 15، 16 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرا دیے گئے ہیں، گواہوں نے بتایا کہ میشا شفیع آئیں اور چلی گئیں انہوں نے کچھ نہیں دیکھا۔
وکیل حشام احمد نے کیس کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ میشا شفیع برسوں ایک شخص سے ملتی رہیں اور اُن کی تعریف کرتی رہیں پھر ایک دن اچانک الزام لگا دیا، علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ میشا شفیع کا کیس اس لحاظ سے الگ ہے۔
واضح رہے کہ گلوکارہ میشا شفیع نے گلوکار علی ظفر پر ہراسائی کا کیس کر رکھا ہے جس کی وجہ سے دونوں گلوکار شہ سُرخیوں کا حصہ بنے نظر آتے ہیں۔