دنیا کو ایک اور مہلک بیماری اپنی لپیٹ میں لینے کو تیار، مرض افریقی وائرس جتنا مہلک قرار۔
تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کو ایک اور مہلک بیماری ''ڈیزیز ایکس'' اپنی لپیٹ میں لینے کو تیار ہے جو کورونا وائرس کی طرح دنیا بھر میں تیزی سے پھیل سکتی ہے، غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 'ایبولا' کو دریافت کرنے والے پروفیسر جین جیکوس نے دنیا کو خبر دار کیا ہے کہ یہ مہلک بیماری بھی تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افریقہ کے برساتی جنگلات سے اب نیا وائرس جلد نکلے گا اور ہر طرف پھیل جائے گا، پروفیسر جین جیکوس نے خدشہ ظاہر کیا ہے یہ ایسا وائرس ہے جو انسانوں کو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
پروفیسر جین جیکوس کے مطابق اب انسان ایسی دنیا میں آ چکے ہیں جہاں آئے روز نئے وائرس جنم لیں گے جو انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے، انہوں نے خبر دار کیا ہے کہ مستقبل میں آنے والی بیماریاں کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک
اور بھیانک ثابت ہو سکتی ہیں اور پروفیسر جین جیکوس کے مطابق اس لئے اب انسانوں کو ان گنت وائرسز کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر لینا چاہیے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگو میں ایک ایسے شخص کی شناخت کی گئی ہے جو کہ انتہائی مہلک اور حیران کن بیماری میں مبتلا ہے تاہم اس بیماری کی ابھی تک تشخیص ہی نہیں ہو سکی کہ اصل میں اس شخص کے ساتھ کیا مسئلہ ہے اور یہ کیسی بیماری ہے۔
تاہم اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ”ڈیزیز ایکس“ دنیا میں پھیل گئی تو اس سے کورونا کی بہ نسبت اموات کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کا مؤقف ہے کہ ''ڈیزیز ایکس'' ہمارے سوچنے سے قبل ہی دنیا میں پھیل جائے گی جس سے وسیع پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہو گا، خیال رہے کہ پروفیسر جین جیکوس نے 1976 میں 'ایبولا وائرس' کو دریافت کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
یاد رہے کہ جب پہلی بار ایبولا وائرس کا معلوم ہوا تھا اس مریض کی تشخیص کرنے والا 80 فیصد عملہ موت کے منہ میں جا چکا تھا۔