ٹرمپ کے گرد خطرہ منڈلانے لگا، کیپیٹل حملے کے بعد برطرفی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے اکسانے پر ان کے حامیوں کی کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت خطرے میں پڑ گئی، ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا کے ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور سینیٹ ڈیمو کریٹ لیڈر سمیت 100 سے زائد کانگریس اراکین نے ٹرمپ کو فوری عہدے سے بر طرف کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، تاہم اسپیکر نینسی پلوسی نے 25 ویں آئینی ترمیم یا مواخذے کے ذریعے ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ 25 ویں آئینی ترمیم اس وقت استعمال کی جا سکتی ہے جب صدر نا اہل اور عہدہ چھوڑنے پر راضی نہ ہو، یہ ترمیم کسی بھی امریکی صدر کو زبردستی عہدے سے برطرف کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر امریکی صدر کی کابینہ کی اکثریت 25 ویں ترمیم کے حق میں فیصلہ دے اور کابینہ کے اس فیصلے کی توثیق نائب صدر کر دے تو موجودہ صدر برطرف کر دیا جاتا ہے اور نائب صدر نئے صدر کے منتخب ہونے اور عہدے کو سنبھالنے تک بطورِ صدر ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔
یاد رہے کہ ڈونڈ ٹرمپ کے اکسانے پر گزشتہ دو دنوں سے کیپیٹل ہِل میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری تھا جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت چار افراد جاں بحق بھی ہوئے، تاہم حملے کے بعد ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے اور ٹرمپ کی مدتِ صدارت کو خطرہ لاحق ہے۔