مرد یا عورت کون زیادہ سانس لیتا ہے؟ سانس لینے سے متعلق جانیے کچھ دلچسپ معلومات جو آپ کو بھی معلوم نہیں ہو گی

image

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں سانس لینا ایک قدرتی اور عاداتی عمل ہے اور اکثر اوقات ہم اس کے بارے میں زیادہ سوچتے بھی نہیں ہیں، ہمارے پھیپھڑے ہمیں ہوا میں سانس لینے اور جسم کے باقی حصّوں کو ضرورت کی آکسیجن مہیا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

یہ ایک حیرت انگیز عمل ہے جو ہمیں زندہ رہنے کی صلاحیت بخشتا ہے! لیکن ممکن ہے کہ جو معلومات آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں وہ آپ نے کبھی نہیں سُنی ہوں گی۔

سانس لینے سے متعلق یہ معلومات کون جانتا ہے؟

• بڑوں یا بچوں میں کون زیادہ ہنستا ہے؟

• چھینک کتنی تیزی سے سفر کرتی ہے؟

• کیا ہمارے پھیپھڑے پانی پر تیر سکتے ہیں؟

• انسانی تنفس کے نظام کا مطالعہ کرنے والا پہلا شخص کون تھا؟

• ہمارے پھیپھڑوں اور ٹینس کورٹ کے درمیان کیا تعلق ہے؟

سانس لینے کے عمل سے جُڑے ان سوالات سمیت کئی سوالات کے جوابات ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

• انسانی چھینک 10 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہے۔

• ہر فرد ایک منٹ میں اوسطا 13 پِنٹ ہوا کے برابر ہوا میں سانس لیتا ہے۔

• ہنسی ایک بہترین دوا ہے اور ہنسنا مسکرانا کئی بیماریوں کا علاج ہے تاہم بچے دن میں تقریبا 300 مرتبہ ہنستے ہیں جبکہ نوجوان لوگ دن میں 15 سے 100 مرتبہ ہنستے ہیں، تاہم ہنسنا جسم کے مدافعتی نظام کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔

• پھیپھڑے انسانی جسم میں وہ واحد اعضاء ہیں جو پانی پر تیر سکتے ہیں۔

• عرب سے تعلق رکھنے والے طبیب ابن ال نفیس دنیا کے وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے 1243 میں سانس لینے کے عمل کو بیان کیا۔

• اگر پھیپھڑے چپٹے ہوتے تو وہ ٹینس کورٹ کے پورے سائز کا احاطہ کر سکتے تھے۔

• انسان کا آکسیجن کے ساتھ سانس لینے کا بہت کم تعلق ہے، جی ہاں! ہوا میں 21 فیصد آکسیجن ہوتا ہے اور جسم کو صرف 5 فیصد کی آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ باقی کام کاربن ڈائی آکسائیڈ کرتی ہے۔

• پھیپھڑوں کے ذریعے صرف سانس لینے کے عمل سے ہی جسم کی ستر فیصد گندگی اور فضلہ کا خاتمہ ہوتا ہے۔

• مردوں کے مقابلے میں بچوں اور خواتین میں سانس لینے کی شرح تیز ہوتی ہے۔

امید ہے کہ سانس لینے سے متعلق یہ معلومات آپ کے لئے کار آمد ثابت ہوں گی یہ تو سانس لینے کے عمل میں سے صرف کچھ دلچسپ باتیں ہیں! آپ مزید کچھ تحقیق کریں اور دیکھیں کہ سانس لینے کے عمل کے بارے میں آپ اور کیا تلاش کرسکتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US