اسرائیل کی شام پر بمباری، فوجیوں سمیت 57 جاں بحق۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیل نے شام کے مشرقی علاقے میں بدترین بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 14 شامی فوجیوں سمیت 57 افراد جاں بحق ہو گئے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے عراقی سرحد سے متصل مشرقی علاقے 'دیرالزور' میں شام کے اسلحہ ڈپو اور بیس سمیت 18 مقامات کو نشانہ بنایا۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں شامی فورسز کے 14، عراقی ملیشیا کے 16 جبکہ ایرانی حمایت یافتہ فاطمید بریگیڈ کے 11 افغان اہلکار مارے گئے ہیں تاہم دیگر 37 افراد بھی اس حملے کا نشانہ بنے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکہ کو حملے کا پہلے سے علم تھا، شام میں کارروائی سے قبل فاطمید بریگیڈ نے ہمسایہ ملک عراق سے اسلحہ مشرقی شام منتقل کیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلحے کو اسی علاقے میں رکھا تھا جہاں یہ حملہ ہوا ہے تاہم اس حوالے سے اسرائیلی فوج کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یاد رہے کہ دیرالزور میں یہ حملہ عراقی سرحد کے قریب ایک حملے میں ک 12 جنگجوئوں کی ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا ہے، تاہم برطانوی تنظیم کا کہنا تھا کہ فوری طور پر دوسرے حملے کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا۔
اسرائیلی فوج کے ذرائع نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ اسرائیلی فوج پوری طرح چوکنی ہے اور لبنانی سرحد پر حزب اﷲ ملیشیا کی کسی بھی قسم کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے، اسرائیلی فوج کے زرائع نے یہ واضح کیا ہے کہ حزب اﷲ کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا لبنان میں اہداف کو بھر پور نشانہ بنا کر جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام میں کارروائی معمول کا حصہ بن گئی ہے، جس میں خاص کر ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
تاہم اسرائیل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اپنے حریف کو شمالی سرحد پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔