یہ خاتون انڈونیشیا کے ایک مسلم اکثریتی صوبے آچے سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ کٹ زَہرہ فونا تھیں جو مئی 1970میں شروع ہونے والے اپنے بیرونی دورے میں جاپان، ملائیشیا اور جرمنی کے بعد پاکستان آئی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے سال سے حاملہ ہیں اور ان کے معجزاتی بچے کی پیدائش اس دو سالہ حمل کے بعد مکہ مکرمہ میں ہوگی۔
سنہ 1970 کے موسمِ گرما میں لاہور میں اُس روز جشن کا سماں تھا بلکہ 75 سالہ وکیل اور دانشور لیاقت علی کے بقول ’عید کے دن کی سی صورتِحال تھی‘۔
لیاقت علی نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ تب لاہورکے لوگ، جو زیادہ تر اندرونِ شہر کے باسی تھے، اُسی طرح بادشاہی مسجد کی جانب رواں تھے جیسے ہر عید پر نماز کی ادائیگی کے لیے جایا کرتے تھے۔
’مگر اُس روزعید نہیں تھی۔ اِن ہزاروں لوگوں کے مسجد جانے کی وجہ ایک ایسی خاتون کے وہاں آنے کی خبرتھی جن کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک ایسے معجزاتی بچے کی ماں بننے والی ہیں جو اُن کے رِحم میں اذان دیتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔‘
لیاقت علی کا گھر بادشاہی مسجد سے قریب بادامی باغ کے علاقے میں تھا، سو وہ بھی وہاں جا پہنچے۔ تب وہ اپنے ایف ایس سی امتحان کے نتائج کے منتظرتھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ مسجد میں ہر شخص خاتون کو عجوبے کی طرح دیکھ رہا تھا۔ سب کی کوشش تھی کہ وہ اُن کے پاس پہنچیں اور قریب سے دیکھیں تاکہ وہ یہ منظر بعد میں فخریہ طور پر بیان کر سکیں۔
لیاقت علی کے بقول ’وہاں موجود لوگ اِسے باعثِ ثواب اور باعثِ نجات بھی سمجھتے تھے۔ ہمارا نسبتاً لڑکپن تھا، سو دھکم پیل میں ہم بھی اُن کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔‘
'وہاں علمائے کرام بھی تھے، سب بڑے خوش تھے اور تاثر دے رہے تھے کہ گویا خاتون کا دعویٰ درست ہے۔‘
یہ خاتون انڈونیشیا کے ایک مسلم اکثریتی صوبے آچے سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ کٹ زَہرہ فونا تھیں جو مئی 1970 میں شروع ہونے والے اپنے بین الاقوامی دورے میں جاپان، ملائیشیا اور جرمنی کے بعد پاکستان آئی تھیں۔
خاتون کا دعویٰ تھا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے حاملہ ہیں اور اُن کے معجزاتی بچے کی پیدائش دو سالہ حمل کے بعد مکہ مکرمہ میں ہو گی۔
امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میں چھپی خبر رساں ادارے روئٹرزکی خبر کے مطابق فونا نے اپنے ان دعوؤں کا آغاز 1969 میں آچے میں اپنے گھر سے کیا تھا، لیکن اس وقت ان پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔
ابتدائی سنسنی
پھرزَہرہ اور اُن کے شوہرشریف الدین، جو ایک تاجر تھے، انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا کے مضافاتی علاقے میں ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے۔
اس دور کے اخبارات سے علم ہوتا ہے کہ ہر روز لوگ اُن کے گھر کے باہر لمبی قطاریں بنائے جھلسا دینے والی دھوپ میں، صرف اِس امید میں گھنٹوں انتظار کرتے کہ شاید انھیں بھی زَہرہ کے پیٹ پر کان رکھ کر اُس آواز کو سننے کا موقع مل جائے، جسے خاتون اور اُن کے شوہر ’معجزاتی بچے‘ کی آواز قرار دیتے تھے۔
سی این بی سی، انڈونیشیا سے جُڑے صحافی محمد فخر یانسیاہ کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ فونا کے دعوے کی خبر کو سب سے پہلے انڈونیشیا کے روزنامہ ’پوس کوٹا‘ نے شائع کیا تھا۔
بعد ازاں قومی ذرائع ابلاغ نے بھی اسے نمایاں طور پر نشر کیا۔ نتیجتاً یہ خبر نہ صرف انڈونیشیا بلکہ بیرونی دنیا میں بھی موضوعِ گفتگو بن گئی۔
ایک انڈونیشیائی صحافی نے تو قرآنِ مجید کی آیات کی ایسی ریکارڈنگ بھی تیار کی جس سے بظاہر محسوس ہوتا تھا کہ آواز خاتون کے جسم کے اندر سے آ رہی ہے۔
مؤرخ انہار گونگونگ نے ایک اخبار ’دیتک نیوز‘ کو بتایا کہ اُس زمانے میں مجلس علمائے انڈونیشیا کے بانی بویا حمکا کا کہنا تھا کہ ’اگر خدا چاہے تو ہر چیز ممکن ہے اور زَہرہ کے بطن میں موجود بچے کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔‘ تاہم ساتھ ہی شک کا اظہار بھی کیا کہ رحمِ مادر میں موجود کوئی بچہ قرآن کی تلاوت کر سکتا ہے۔
اس خبر کے پھیلنے سے انڈونیشیا کے نائب صدر اور وزیرخارجہ آدم ملک اور پھر صدر سوہارتو جیسے اعلیٰ حکام بھی اس پر یقین کرنے لگے۔
زَہرہ تین بار انڈونیشیا کے صدارتی محل گئیں۔ صدارتی محل کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ جنرل سوہارتو نے خود اس بچے کو اپنی ماں کے بطن میں دعا پڑھتے سُنا۔
فونا کے پاس تصاویر کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا جن میں اعلیٰ سرکاری شخصیات اور عوام کے ہجوم کے ساتھ اُن کی تصویریں شامل تھیں۔
روئٹرز کے مطابق ان میں ایک تصویر ایسی بھی تھی جس میں وہ جنرل سوہارتو کی رہائش گاہ میں ایک قالین پر لیٹی ہوئی تھیں۔ان کا پیٹ نمایاں تھا گویا وہ کسی مقدس شے کی نمائش کر رہی ہوں۔ جبکہ سوہارتو کی اہلیہ ان پر ہاتھ رکھے ہوئے تھیں اور صدر سوہارتو ان کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھے تھے۔
انڈونیشیا کے مذہبی امور کے وزیر کے ایچ محمد دخلان، عوامی بہبود کے وزیر ادھم خالداور عوامی عارضی مشاورتی کونسل کے سربراہ جنرل عبدالحارث ناصوتیون بھی ان اعلیٰ حکام میں شامل تھے جو زَہرہ کے گھر جا کر مبینہ بچے کی قرآن خوانی اور دعائیں سنتے تھے۔
دیتک نیوز کے مطابق حتیٰ کہ ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم تنکو عبدالرحمٰن پترا بھی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ رحمِ مادر میں موجود یہ بچہ قرآنِ مجید کی تلاوت کر سکتا ہے۔
شک کرنے والے ڈاکٹر کو قتل کی دھمکیاں
تاہم اس دعوے سے جکارتہ کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ہرمن سوسیلو نے اختلاف کیا۔
ڈاکٹر ہرمن نے واضح کیا کہ رحمِ مادر کے پانی (آمنیائی سیال) میں موجود بچہ قرآنِ مجید کی تلاوت نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ نہ اپنا منہ کھول سکتا ہے اور نہ ہی معمول کے مطابق سانس لے سکتا ہے، اس لیے اس کے لیے آواز پیدا کرنا ناممکن ہے۔
اس اختلافی مؤقف کی وجہ سے ڈاکٹر ہرمن کو روپوش ہونا پڑا کیونکہ اس دعوے پر اندھا یقین رکھنے والے لوگوں نے انھیں قتل کی دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں۔
انڈونیشیا کے وزیرخارجہ کے خط پر پاکستان سمیت چارملکی دورہ
انڈونیشیا کے وزیرِخارجہ آدم ملک نے تو اپنا کان زَہرہ فونا کے پیٹ پر رکھ کر آواز سننے کی کوشش بھی کی۔ آدم ملک نے کہا کہ ’میں معجزات پر یقین رکھتا ہوں، کیونکہ میں خدا پر ایمان رکھتا ہوں۔‘
آدم ملک ہی کے ذاتی تعارفی خط کے ساتھ فونا اور اُن کے شوہر نے جاپان، ملائیشیا، مغربی جرمنی اور پاکستان کا سفر کیا۔
انھوں نے خط میں لکھا کہ وہ اپنے ابھی پیدا نہ ہونے والے بچے کی خواہش پر دنیا کا سفر کر رہی ہیں۔ اس خط میں غیر ممالک سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ خاتون کی مہمان نوازی کریں۔
فونا اور ان کے شوہر مئی میں دو ماہ کے غیر ملکی دورے کا آغاز کیا اور وہ جولائی میں واپس انڈونیشیا لوٹے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈونیشیا واپسی کے بعد اُن کی شہرت تیزی سے پھیلنے لگی ۔
’ان کے خستہ حال گھر پر زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا، جن میں سے بہت سے لوگ انھیں رقم اور تحائف پیش کرتے تھے۔ میاں بیوی کا اصرار تھا کہ ان کے بطن میں موجود بچے نے انھیں ہدایت دی ہے کہ وہ کسی سے رقم قبول نہ کریں۔‘
’وہ بظاہر سادہ اور معمولی معیارِ زندگی برقرار رکھے ہوئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک سفر کے اخراجات ان کے والدین نے برداشت کیے تھے۔‘
تاہم انڈونیشیا کے سابق اٹارنی جنرل سوگیا ارتا نے اپنی کتاب ’سانول ڈاکا‘ میں لکھا کہ زَہرہ اپنے ’معجزاتی بچے‘ کی شہرت کے باعث کئی ممالک کا دورہ کر چکی تھیں اور اس سے انھوں نے خاصا مالی فائدہ بھی حاصل کیا۔
روئٹرز کے مطابق انڈونیشیا کے دیہاتی علاقے کی اس نوجوان خاتون نے 19 ماہ تک یہ تاثر قائم رکھا۔
13 اکتوبر 1970 کو مبینہ طور پر سوہارتو کی اہلیہ کے کہنے پر، ڈاکٹروں نے زَہرہ کا طبی معائنہ مقرر کیا مگر انھوں نے معائنہ کروانے سے انکار کر دیا۔
زَہرہ کا کہنا تھا کہ ان کے بطن میں موجود بچے نے خود معائنہ کروانے سے منع کیا ہے۔
ان کے رشتہ داروں کے مطابق بطن میں موجود بچے نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ پہلے 40 مساجد میں جا کر عبادت کریں۔
تاہم بعدازاں ہونے والے طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کے رِحم میں کوئی بچہ تھا ہی نہیں۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا کہ طبی ماہرین نے جکارتہ کے مرکزی ہسپتال میں زَہرہ کا معائنہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اپنے پیٹ کے عضلات کو غیر معمولی طور پر پھیلا کر حمل کا ڈھونگ رچا رہی تھیں۔
تاہم ڈاکٹروں کو ایسے شواہد بھی ملے جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ زہرہ نے چند ماہ پہلے کسی وقت ایک بچے کو جنم دیا تھا۔
انڈونیشیا کی قومی لائبریری کی ایک پوسٹ سے پتا چلتا ہے کہ جب عوام میں شکوک و شبہات بڑھنے لگے تو زَہرہ فونا اپنے ایک بھتیجے کے ساتھ فرضی نام استعمال کرتے ہوئے انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے ایک پرواز کے ذریعے انڈونیشیا کے شہر بنجارماسن فرار ہو گئیں۔
بالآخر پولیس، جس کی قیادت بریگیڈیئر جنرل عبد الحمید سواسونو کر رہے تھے، نے زَہرہ کا سراغ بنجارماسن سے تقریباً 14 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں لگایا اور پھر تلاشی لی گئی۔
پولیس کو کیا ملا؟
پولیس نے زَہرہ کے لباس میں ایک کیسٹ پلیئر (ٹیپ ریکارڈر) برآمد کیا۔ یہ ننھا سا ٹیپ ریکارڈر، جس کا حجم محض 2 × 7 × 13 سینٹی میٹرتھا، اُن کے پیٹ کے مصنوعی ابھار کے نیچے چھپا ہوا تھا۔
تب انڈونیشیا میں ویسا ٹیپ ریکارڈر ایک نسبتاً نئی ٹیکنالوجی تھی اور عوام کی اکثریت ریڈیو اور ٹیلی وژن ہی سے واقف تھی۔
پولیس نے ٹیپ ریکارڈر کے ساتھ وہ کیسٹیں بھی قبضے میں لے لیں جن میں بچے کے رونے کی آوازیں اور قرآنِ مجید کی آیات کی تلاوت کی ریکارڈنگ موجودتھی۔
بعد میں ایک غیر ملکی صحافی، جنھوں نے فونا کا انٹرویو کیا تھا، نے رپورٹ کیا کہ بچے کی ہر ’گفتگو‘ کے درمیان وہ کمرے سے باہر چلی جاتی تھیں۔
اُس صحافی نے قیاس کیا کہ وہ اس دوران میں اپنی ٹانگوں کے درمیان بندھے ہوئے ٹیپ ریکارڈر کی رِیل تبدیل کرتی تھیں۔
عوام میں اشتعال، حکمرانوں میں شرمندگی
یہ حقائق سامنے آنے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
لوگ حیران، مایوس اور مشتعل تھے۔ مذہبی اور سماجی شخصیات، جنھوں نے ان کے دعووں کی حمایت کی تھی یا کم از کم انھیں سنجیدگی سے لیا تھا، خود کو شدید شرمندگی اور خفت کا شکار محسوس کرنے لگیں۔
کینیڈا کے اخبار ’وکٹوریا ڈیلی ٹائمز‘ کی خبر کی سرخی تھی ’سوہارتو اور ان کے معاونین ’ٹیپ ریکارڈر والے بچے‘ کے دھوکے کا شکار ہو گئے۔‘
پیسہ کس کس نے کمایا
روئٹرز کے مطابق زَہرہ کو دو سال تک متعدد افراد سے دھوکے کے ذریعے رقم اور قیمتی اشیا حاصل کرنے کے جرم میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑا جس میں عدالت نے انھیں قصوروار قرار دیا۔
زَہرہ اور ان کے شوہر کو مختصر عرصے کے لیے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ تاہم کسی شخص نے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج نہیں کروایا، شاید اس لیے کہ کوئی بھی یہ اعتراف نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس دھوکے کا شکار ہوا ہے۔
چنانچہ بالآخر میاں، بیوی کو رہا کر دیا گیا۔
اس کے بعد وہ عوامی منظرنامے سے غائب ہو گئے اور رفتہ رفتہ اُن کے نام اخباری سرخیوں سے بھی محو ہو گئے اور پھر لوگوں کی یادداشت سے بھی۔
جن اخبارات اور ریڈیو سٹیشنوں نے ابتدا میں اس افواہ کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، بعد میں ان ہی میں سے چند نے اس فریب کو بے نقاب بھی کیا، لیکن اس سے پہلے وہ اس سنسنی خیز کہانی سے خوب مالی فائدہ اٹھا چکے تھے۔
سنسنی خیز خبروں کے لیے مشہورروزنامہ پوس کوٹا نے ’معجزاتی بچے‘ پر سلسلہ وار رپورٹیں شائع کیں، جس سے اس کی اشاعت 3,500 سے بڑھ کر 21,000 تک جا پہنچی۔
بعد ازاں جب زَہرہ کے دعوؤں پر شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے، تب بھی اخبار نے اس کہانی کو زیادہ سے زیادہ تجارتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے جاری رکھا۔ دیگر اخبارات، جیسا کہ انڈونیشیا رایا اورکمپس نے بھی اس واقعے کو نمایاں کوریج دی۔
کالم نگار مختار لُبیس نے اپنی کتاب ’مختار لُبیس کے اداریے: ہاریان انڈونیشیا رایا‘ میں لکھا کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرہ کس حد تک توہمات اور غیر عقلی عقائد کا شکار ہو سکتا ہے۔
’اگرچہ اس واقعے سے کوئی بڑا معاشی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے قومی قیادت کے وقار کو ضرور نقصان پہنچایا، کیونکہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدیدار ایک غیر معقول اور بے بنیاد دعوے کے فریب میں آ گئے تھے۔‘
ترقی پسند دانشور، صحافی اور ادیب سبط ِحسن نے روزنامہ ڈان کو ایک انٹرویومیں بتایا تھا کہ زَہرہ فونا کو پاکستان میں بھی بہت سے مداح، وزرا اور سیاستدان میسر آ گئے تھے اور انھیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی تھی۔
سبطِ حسن نے کہا کہ یہ کوئی اتفاقی یا انفرادی واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک وسیع تر سماجی رجحان کی علامت تھا۔
لیاقت علی، جو لیاقت علی ایڈووکیٹ کے نام سے مشہور ہیں، بتاتے ہیں کہ یہ جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کا دور تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر دور میں ہماری حکمران اشرافیہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے، سیاسی دباؤ کم کرنے کے لیے ایسی چیزوں کو پھیلاتی اور ان کی سرپرستی کرتی ہے۔ زہرہ فونا کو بھی انتظامیہ نے پروٹوکول دیا اور سہولتیں فراہم کیں۔
پاکستانی ماہرِ تعلیم، کالم نگار،اور محقق ڈاکٹر ناظر محمود اس واقعے کے وقت چھ سال کے تھے۔
بی بی سی سے اسلام آباد سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا انھوں نے اپنے والد، ترقی پسند سیاسی کارکن اور ٹریڈ یونین کے سرگرم رہنما رَشاد محمود سے اس کے بارے میں ضرورسنا۔
ڈاکٹر ناظر کے مطابق ان کے والد نے انھیں بتایا کہ لوگوں کی قطاریں لگ گئیں زیارت کو اور یہ تماشا کئی دن چلتا رہا۔
وہ سیاسی کارکن تھے اور نیشنل عوامی پارٹی، ولی خان گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے واضح طور پر اس واقعے سے متعلق تو ایسا نہیں کہا کہ یہ سرکاری سرپرستی میں منعقد کیا گیا ہو یا اس کا کوئی ثبوت ہو لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ ایسا ہوتا رہتا ہے کہ عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایسے شوشے چھوڑ دیے جائیں۔
’وہ بمبئی سے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہاں بھی ایسے واقعات سامنے آتے تھے کہ کبھی کسی مورتی کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے یا کسی شِولِنگ سے خون بہنا شروع ہو گیا۔‘
امریکہ میں غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ ڈیلَس سے منسلک محقق نعیم احمد بلوچ کے مطابق چند معروف علما اور مذہبی شخصیات واقعی زَہرہ فونا کے دعوؤں سے متاثر ہو گئے تھے، جبکہ بعض دوسرے علما اور اہلِ علم نے ابتدا ہی سے اسے دھوکہ، فریب اور نفسیاتی معاملہ قرار دیا تھا۔
’ناقدین کا مؤقف تھا کہ شریعت میں ایسی کسی کرامت کی بنیاد پر عقیدہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔غیر معمولی دعوؤں کے لیے غیر معمولی ثبوت درکار ہوتے ہیں، جو پیش نہیں کیے گئے۔‘
بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کی اصل اہمیت مذہبی نہیں بلکہ سماجی اور نفسیاتی ہے۔
’یہ تاریخ کا ایک دلچسپ مطالعہ ہے کہ کس طرح کرامات اور آخری زمانے کی پیش گوئیوں سے متعلق دعوے بعض اوقات پڑھے لکھے لوگوں اور بڑے علما کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔ بعد میں جب دعوے پورے نہیں ہوتے تو وہی واقعہ اجتماعی حافظے سے تقریباً غائب ہو جاتا ہے۔‘
توہم ہر جگہ لیکن شدت ویسی نہیں جیسی ہمارے ہاں ہے‘
ادیب، سفرنامہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نویس، اور ٹی وی میزبان مستنصر حسین تارڑ نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی بات کا آغازمیر تقی میر کے اس شعر سے کیا:
یہ توہم کا کارخانہ ہے، یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
انھوں نے لاہور میں بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ توہم ہر جگہ ہے لیکن شدت ویسی نہیں جیسی ہمارے ہاں ہے۔
'توہم کو ہم اپنے اپنے عقیدے کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ توہم کا ایک نفسیاتی اثر ہوتا ہے۔ یہ خوف سے جنم لیتا ہے جو آپ کے اردگرد ہوتا ہے۔‘
’سفر میں سنسان جگہوں پرمیرا بسیرا ہوتا۔ میں نے سویڈن میں جھیل کے کنارے کیمپنگ کی، سو میل اِدھر، سو میل اُدھر کوئی انسان نہیں، کبھی ڈر نہیں لگا تھا۔ پاکستان آتے تو بلب فیوز ہوتا یا بجلی نہ ہوتی تو رات کو گھر کے اُوپری حصے میں نہ جاتے کہ کوئی بھوت بیٹھا ہو گا۔‘
مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ توہمات کا فائدہ کسی نہ کسی کو سیاسی طور پر ہو رہا ہوتا ہے۔
’مذہب کو ہمیشہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آمریت میں لوگوں کو خاص طورپر اس جانب لگایا جاتا ہے۔‘