’سمجھ نہیں آ رہی کہ تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں‘: لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچے ہلاک

صوبائی دارالحکومت لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
لاہور
Reuters
’عمارت کی چھت کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور چھت پر لگی ٹائلوں کی مرمت کا کام جاری تھا‘

صوبائی دارالحکومت لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں واقع ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ابتدائی تفتیش کے سلسلے میں تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ لاہور کے مضافاتی علاقے کاہنہ میں پیش آیا، جہاں ایک نجی ٹیوشن سینٹر میں زیرِ تعلیم بچوں پر عمارت کی چھت آ گری۔

ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سات بچیاں بھی شامل ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع شام 4 بج کر 45 منٹ پر موصول ہوئی جس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ریسکیو کارروائی مکمل کر لی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک ٹیچر سمیت مزید پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں، جنھیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

لاہور
Reuters
’ہمارے علاقے میں کئی خاندان اپنے بچوں کی موت کے غم میں مبتلا ہیں‘

متاثرین میں شامل ایک بچی کے چچا نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ عمارت کی چھت کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور چھت پر لگی ٹائلوں کی مرمت کا کام جاری تھا۔

انھوں نے کہا کہ مرمت کے اسی کام کے دوران ’اچانک چھت بچوں پر آ گری۔‘

اُن کا دعویٰ ہے کہ بظاہر ’چھت پر بہت زیادہ وزن ڈال دیا گیا تھا اور غالباً یہی حادثے کی وجہ بنی۔‘

علاقے کے ایک اور رہائشی نے خبررساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں، کیونکہ ہمارے علاقے میں کئی خاندان اپنے بچوں کی موت کے غم میں مبتلا ہیں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس واقعے کو ’دل دہلا دینے والا المیہ‘ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US