سعودی عرب میں سال رواں کے دوران ڈیجیٹل قومی شناختی کارڈ متعارف کرایا گیا، تاہم سعودیہ کے قومی شناختی کارڈ کا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک کا سفر کس طرح شروع ہوا سعودی محکمہ احوال مدنیہ نے بتا دیا۔
اُردو نیوز کے مطابق وزارتِ داخلہ کے ماتحت محکمہ احوال مدنیہ نے سعودی عرب میں قومی شناختی کارڈ کے سفر کی کہانی بیان کی ہے، اس حوالے سے محکمہ احوالِ مدینہ نے ایک ٹوئٹ شئیر کیا ہے جس میں قومی شناختی کارڈ کے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک کے سفر کی وضاحت کی گئی ہے۔
محکمہ احوالِ مدینہ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں شناختی کارڈ کی تیاری میں کرسٹل ٹیکنالوجی سے لے کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک سے استفادے کا تذکرہ کیا ہے۔
سعودی عرب میں سب سے پہلے قومی شناختی کارڈ 1405ھ میں جاری کیا گیا، اور اس کی تیاری میں کرسٹل ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔
1425 ہجری میں نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرایا گیا جسے ’بطاقۃ الھویہ الوطنیہ‘ (قومی شناختی کارڈ) کا نام دیا گیا تھا۔
جیسے ہی ٹیکنالوجی جدید ہوتی گئی تو 1430ھ میں قومی شناختی کارڈ نئے انداز سے جاری کیا گیا جس کی تیاری میں لیزر ٹیکنالوجی استعمال کا استعمال کیا گیا۔
اس کے بعد 1439ھ میں قومی شناختی کارڈ کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا، اِس سال قومی شناختی کارڈ کا ڈیزائن تبدیل کر کے ای گورنمنٹ کے رجحان کے مطابق کر دیا گیا اور اس سلسلے میں انگریزی زبان سے بھی استفادہ کیا گیا۔
جس کے بعد سعودی عرب میں رواں سال کے دوران ڈیجیٹل قومی شناختی کارڈ متعارف کروایا گیا-
تاہم اس سے سعودی شہریوں کو ایک بڑی سہولت یہ ہوگئی کہ سعودی شہری کی شناخت کبھی بھی اور کہیں بھی سمارٹ موبائل پر ڈاؤن لوڈ ابشر ایپ کے ذریعے آسانی سے کی جا سکتی ہے۔