کوئٹہ کے نجی ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے خود کش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں، دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد لقمہ اجل بن گئے جن میں دو گہرے دوست شاہ زیب اور ایمل کاسی بھی شامل تھے۔
بدھ کی رات کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں خودکش دھماکے کی تحقیقات کےحوالے سے کرائم سین کو سیل کرکے شواہد اکٹھا کرنے کا معمول کا عمل جاری ہے۔
ایک سرکاری محکمے میں ملازم ایمل ہوٹل میں شفٹ منیجر شاہ زیب سے ملنے کے لیے ہوٹل آئے تھے کہ دھماکے کانشانہ بن کر دونوں ایک ساتھ ہی سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔
ایمل کی عیدالفطر کے بعد شادی بھی تھی اور وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے ساتھ ہی ایمل خان کاسی کے اہلِخانہ بھی اُن کی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے۔
ایمل چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، شاید اسی لیے ان کی شادی دھوم دھام سے ہونی تھی۔ مگر کوئٹہ میں گذشتہ رات ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی نے (ان کے خاندان سمیت) کئی لوگوں کو زندہ درگور کر دیا ہے۔
ان کی شاہ زیب شاہد کے ساتھ ہونے والی آخری ملاقات ممکنہ طور پر شادی کے فنکشن کے حوالے سے تبادلہ خیال اور مشوروں سے متعلق رہی ہوگی۔
بعد ازاں ہوٹل کے شفٹ منیجر شاہ زیب اور ایمل کاسی کی نمازِ جنازہ کاسی قبرستان میں ادا کی گئی۔
نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد دونوں افراد کاسی قبرستان میں سپرد خاک کردیے گئے۔