کراچی کے علاقے ناظم آباد میں قائم ایک نجی چڑیا گھر سے شدید بیمار شیر کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان (اینیمل رائٹس ایکٹوسٹس) نے یہ کارروائی اس وقت کی جب سوشل میڈیا پر مذکورہ شیر کی حالتِ زار کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جس کے بعد عوامی دباؤ بڑھنے پر انتظامیہ کی جانب سے شیر کو مبینہ طور پر غائب کر دیا گیا تھا۔ تاہم مشترکہ کوششوں کے ذریعے شیر کا سراغ لگا کر اسے بحفاظت نکال لیا گیا۔
اینیمل رائٹس ایکٹوسٹ جوڈ ایلن کے مطابق، ریسکیو کے وقت شیر کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ نجی چڑیا گھر کے غیر تربیت یافتہ عملے نے شیر کی دُم پر تشدد کیا، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی باقاعدہ اجازت اور تعاون سے شیر کو کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں واقع ایک نجی سینکچری (حفاظتی گاہ) منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں وہ اب بغیر کسی خوف کے قدرتی ماحول میں زندگی گزار سکے گا۔
اس موقع پر یہ عزم بھی ظاہر کیا گیا کہ مذکورہ نجی چڑیا گھر میں موجود دیگر جانوروں کو بھی جلد ہی موزوں مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔