لاہور میں رواں سال 29 جون کو پہنچنے والی دو غیر ملکی خواتین کے اغوا کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کی شناخت کرلی گئی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے اغوا کاروں کی گاڑی کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ملزمان موٹروے کے ذریعے سرگودھا فرار ہوئے تھے۔ گاڑی جس شخص کے نام پر رجسٹرڈ تھی اس کا موبائل فون بند تھا، تاہم پولیس نے کارروائی کا دائرہ کار سرگودھا، شاہدرہ اور ڈیفنس کے علاقوں تک پھیلا کر 2 جولائی کو 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
فیصل کامران نے وضاحت کی کہ یکم جولائی کو اغوا برائے تاوان کی پہلی کال موصول ہوئی تھی اور پولیس کو اغوا کاروں کے بارے میں اطلاع ایک مغوی خاتون کے والد نے دی تھی۔ دورانِ تفتیش جب کرائے کے مکان پر چھاپہ مارا گیا تو معلوم ہوا کہ ملزمان میں سے ایک کا تعلق ایک بڑی سیاسی شخصیت (نائب وزیر اعظم) کے خاندان سے ہے۔
پولیس حکام کے مطابق قانون کے تحت ایسے حساس معاملے پر اعلیٰ افسران کو مطلع کیا گیا اور ملزم کی فیملی سے رابطہ کر کے معلومات کی تصدیق کی گئی، جس پر فیملی نے نمبر فراہم کیا اور لوکیشن ٹریس کر کے تمام ملزمان کو گرفتار کر کے ہتھکڑیوں میں عدالت پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی کیس میں میرٹ پر کارروائی کی سخت ہدایت کی تھی۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے ان افواہوں کی تردید کی کہ غیر ملکی خواتین خود باہر آئیں، انہوں نے زور دے کر کہا کہ خواتین کا باقاعدہ بیان موجود ہے کہ انہیں پنجاب پولیس نے بازیاب کروایا۔ بازیابی کے بعد متعلقہ سفارت خانہ خواتین کی فوری وطن واپسی چاہتا تھا، تاہم پولیس کی درخواست پر قانونی کارروائی، میڈیکل اور دفعہ 164 کے بیان کے لیے انہیں ایک دن مزید روکا گیا جس کے اخراجات لاہور پولیس نے اٹھائے اور بعد ازاں انہیں بیرون ملک روانہ کردیا گیا۔
انہوں نے تفتیشی مراحل کے دوران ڈیوٹی مجسٹریٹ کے گھر پر پیش آنے والے ایک معمولی واقعے پر معذرت کا اظہار بھی کیا۔