ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے باوجود مختلف شہروں میں عام استعمال اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں کمی نہیں آسکی ہے اور مہنگائی کی لہر بدستور برقرار ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں کے بازاروں اور مارکیٹوں میں اشیائے خورونوش، سبزیوں، دالوں اور دیگر ضروریات زندگی کے نرخ تاحال بلند ترین سطح پر ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
عوام کا اس صورتحال پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا جاتا تھا تو ٹرانسپورٹیشن اخراجات کا بہانہ بنا کر تمام اشیا فوری طور پر مہنگی کردی جاتی تھیں، لیکن اب جبکہ عالمی اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں واضح کمی آچکی ہے، مارکیٹ میں کسی بھی چیز کے دام کم نہیں کیے گئے۔ دکانداروں، تاجروں اور ہول سیلرز کی جانب سے پرانی قیمتیں ہی وصول کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں ریلیف کا فائدہ عام صارفین تک منتقل نہیں ہو پا رہا۔
شہریوں نے گلہ کیا ہے کہ ملک میں صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والا کوئی فعال نظام دکھائی نہیں دیتا۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ مارکیٹوں میں سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہیں۔ انتظامی اداروں کی اس معنی خیز خاموشی اور مبینہ غفلت کی وجہ سے منافع خور عناصر کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے جو من مانے نرخوں پر اشیا فروخت کر رہے ہیں۔
عوام نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محض پیٹرول سستا کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس کے اثرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے مارکیٹ میں سخت چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کریں تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔