پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور وائرس کے نتیجے میں روزانہ کئی اموات بھی ہو رہی ہیں۔کورونا وبا کے وار کو دیکھتے ہوئے ماہرین اس بات کی پیشگوئی کرنے لگے ہیں کہ چند ماہ بعد پاکستان کو بھی بھارت جیسے المناک حالات سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر
بروقت احتیاطی تدابیت نہ اپنائی گئیں تو کورونا پاکستان میں بھی پوری طرح اپنے پنجے گاڑ لے گا۔
اسی حوالے سے واشنگٹن میں واقع امریکی ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے خدشہ ظاہر کیاگیاہے کہ جنوبی ایشیا میں مہلک کورونا انفیکشن کیسز میں غیرمعمولی اضافے کے نتیجے میں مئی کے وسط تک عالمی سطح پر ایک دن میں ڈیڑھ کروڑ افراد کی تعداد وائرس کا شکار بن سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ہیلتھ میٹرکس اور تشخیصی ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ہمارے تازہ ترین تخمینوں سےمعلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں کووڈ-19 کے کیسز میں اضافے کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اور پاکستان میں کیسز میں اضافے کے نتیجے میں دنیا بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی ایک دن میں تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
اس اندازے کے مطابق یکم اگست تک پاکستان میں یومیہ کیسز 2 لاکھ 40 ہزار اور اموات کی تعداد یومیہ 28ہزار 549 تک پہنچ سکتی ہے۔
ان میں سے 5 ہزار 639 اموات سندھ، پنجاب میں 12ہزار 460، خیبر پختونخوا میں 6 ہزار 978، بلوچستان میں 796، گلگت بلتستان میں 115، آزاد جموں و کشمیر میں 1ہزار 88 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 1ہزار 473 اموات ہوسکتی ہیں۔
اس سے قبل جولائی 2020 میں انسٹیٹیوٹ نے پیش گوئی کی تھی کہ نومبر 2020 تک امریکا میں کووڈ 19 اموات 200،000 سے تجاوز کر سکتی ہیں، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان اعدادوشمار کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اموات کو ایک لاکھ تک محدود رکھ سکتے ہیں۔
لیکن یہ پیشن گوئی درست ثابت ہوئی اور اب امریکا میں اموات کی تعداد 5 لاکھ 72 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک دنیا میں سب سے زیادہ 3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
اس ہفتے جاری کی جانے والی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انسٹی ٹیوٹ نے جنوبی ایشیا کو عالمی سطح پر ہاٹ اسپاٹ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مئی کے وسط تک استحکام سے قبل خطے میں انفیکشن اور اموات کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا۔