کورونا دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک کے بعد دوسری اور تیسری لہر نے تباہی مچا رکھی ہے، ایسے میں جو لوگ اس وائرس کا شکار ہیں وہ کس حال میں ہیں اور ان کے ساتھ اسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے یہ اگر ہم جان لیں تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔
کورونا کا شکار ہونے کے بعد مریض کو کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور اس کا ایک ایک دن کتنا سخت گزرتا ہے اس حوالے سے ایک کورونا مریض نے دنیا کو آگاہ کیا ہے کہ جب وہ اسپتال میں تھا تو اس کے ساتھ کیا کیا ہوا اور اس نے وہاں کیا دیکھا۔
" کورونا ایک حقیقت ہے اور آپ اس سے بچنے کی جتنی بھی کوشش کریں یہ کسی نہ کسی طرح آپ تک پہنچ ہی جائے گا، میں نے بہت احتیاط کی ہر طرح سے لوگوں سے دور رہا، کسی سے ہاتھ نہ ملایا ایس او پیز پر مکمل عمل کیا مگر آخر کورونا سے بچ نہ سکا''۔
''بجائے اس کے کہ کسی انجان ڈاکٹر سے علاج کرواتا میں نے اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر سے علاج کا فیصلہ کیا اور دو دن نجی اسپتال میں رہنے کے بعد ایکسپو سینٹر میں قائم ایسولیشن وارڈ میں داخل ہو گیا جہاں میرے ڈاکٹر دوست کی ڈیوٹی تھی، یہ ایک الگ ہی دنیا تھی''۔
کورونا مریض نے بتایا کہ'' میری آکسیجن کی سطح مسلسل کم ہو رہی تھی، ایکسپو سینٹر میں مجھے ایک بڑے ہال میں لے جایا گیا جو کورونا مریضوں سے بھرا ہوا تھا اور حفاظتی لباس پہنے ہوئے ڈاکٹر اور نرسیں ان مریضوں کا علاج کر رہے تھے، لیکن مجھے کورونا کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر سمیت کچھ دیگر بیماریاں بھی تھیں اور آکسیجن کی سطح بھی بہت کم تھی اس وجہ سے مجھے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا''۔
اس شخص نے بتایا کہ ایکسپو سینٹر میں تمام مریضوں کو بلا تعطل آکسیجن فراہم کی جارہی تھی، وقفے وقفے سے مریضوں کے ایکسرے کیے جارہے تھے، روزانہ یا ہر دوسرے دن ان کے خون کے ٹیسٹ بھی کیے جاتے تھے مریضوں کا خیال اس طرح رکھا جاتا تھا جیسے وہ اپنے علاج کے پیسے دے رہے ہوں جبکہ یہ سارا علاج حکومت کی جانب سے تھا۔
''ہولناک مناظر تو یہ تھے کہ وہاں وہاں کچھ ایسے بزرگ مریض بھی موجود تھے جن کے بچوں نے انہیں یہاں داخل کروا دیا تھا تاکہ انہیں اپنے والدین سے وائرس نہ لگ جائے، دیگر مریض اس لیے یہاں آئے تھے کیونکہ نجی اسپتال ان کی حالت سے فائدہ کر خوب بِل بنا رہے تھے اور کچھ مریض میری طرح تھے جو نجی اسپتال کے اخراجات سے بھی تنگ تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی وائرس سے بچانا چاہتے تھے''۔
مگر میرے لئے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ ان مریضوں کو 3 وقت کا اعلیٰ معیاری کھانا بھی فراہم کیا جا رہا تھا، کورونا سے لڑنے والے مریض ننے بتایا کہ کبھی کبھی گرم سوپ بھی دیا جاتا تھا اور اگر مریض چاہے تو اسے چائے بھی فراہم کی جاتی تھی۔
اس شخص کا کہنا تھا کہ '' ایسا لگ رہا تھا جیسے ہم کسی ایسی دنیا میں موجود ہیں جہاں سپر ہیروز کسی بھی مشکل کو حل کرنے کے لیے موجود رہتے ہیں''۔
اس کورونا ریلیف مرکز میں کئی افراد جان سے بھی گئے مگر ڈاکٹروں نے اپنا کام جاری رکھا اور علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے۔
اس شخص کا کہنا تھا کہ '' وہاں 3 وقت کا کھانا ملنے کے باوجود بھی میرا وزن کم ہورہا تھا، میں نے 10 دن میں پہلی مرتبہ خود کو دیکھا تھا اور آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر چونک گیا تھا، کورونا مجھے اندر ہی اندر کھا گیا تھا اگر میری ویل چیئر کے ساتھ آکسیجن سلینڈر نہ لگا ہوتا تو شاید میں بے ہوش ہوجاتا، اس نے بتایا کہ اس وقت لگنے والا ذہنی دھچکہ اس وقت تک محسوس ہونے والی جسمانی تکلیف سے کئی زیادہ تھا۔
''کچھ دنوں بعد میں ٹھیک ہو کر واپس گھر آنے کے قابل ہو گیا، اس دن مجھے احساس ہوا کہ وہاں موجود ڈاکٹرز، نرسز، ہیلپرز اور خاکروبوں کی وجہ سے ہی یہ دنیا ایک بہتر جگہ بنی ہوئی ہے ورنہ تو یہ دنیا کورونا کے آنے سے بہت پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی یہ تمام لوگ ہمارے ہیروز ہیں۔
یہ لوگ کورونا سے عوام کا دفاع بارڈر پر موجود کسی نڈر سپاہی کی طرح کر رہے ہیں، مگر ہم اس بات کو سنجیدہ نہ لیتے ہوئے خود کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں، ہمیں چاہیئے کہ ایس او پیز پر عمل کریں اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کو بھی وباء سے دور رکھیں۔