بھارت میں کورونا نے بڑی بتاہی مچا رکھی ہے لوگ سڑکوں پر ہی اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں دم توڑ رہے ہیں جبکہ اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت ہے۔
ایسے میں جب بھارتی حکومت اور انتظامیہ کورونا پر قابو پانے میں ناکام ہے تو مسلمان شہری رنگ نسل سے بالا تر ہو کر خلقِ خدا کی خدمت میں سب سے آگے ہیں۔
بھارت کے ایک مسلمان شہری نے انوکھا لوگوں کی مدد کے لئے انوکھا اقدام اُٹھاتے ہوئے اپنے رکشے کو ہی ایمبولینس میں تبدیل کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جاوید خان رکشہ ڈرائیور نے اپنے رکشے میں آکسیجن سلنڈرز اور دوائیں رکھ کر اسے ایمبولینس بنا دیا ہے جبکہ اس میں مریضوں کو بلکل مفت اسپتال منتقل کر رہے ہیں۔
بھوپال سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ مسلمان ڈرائیور جاوید خان کا اس وقت سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہو رہا ہے اور ہر کوئی اس نوجوان کے اس اقدام کو خوب سراہا رہا ہے۔
جاوید کا کہنا ہے کہ اس نے مریضوں کی تعداد اور آکسیجن سمیت ایمبولینس کی قلت کے باعث لوگوں کی مدد کرنے کے لئے سامنے آنے کا فیصلہ کیا اور رکشے میں جان بچانے والی تمام درکار اشیاء رکھ کر لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔
جاوید نے لوگوں کو پیغام دیا ہے کہ ''آپ کو جب بھی ضرورت پڑے نمبر پر کال کریں 24 گھنٹے آپ کو ایمبولنس ملے گی''۔
جاوید کے اس رکشے میں آکسیجن سلنڈرز، سینی ٹائزر اور دوائیں موجود ہیں، جاوید مریضوں کو نہ صرف مفت میں اسپتال منتقل کررہے ہیں بلکہ آکسیجن بھی مفت فراہم کر رہے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ بہادر شوہر جاوید کی اہلیہ نے بھی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب آکسیجن سلینڈر کے لئے پیسوں کی کمی ہوئی تو اپنا سونے کا لاکٹ بیچ کر رقم شوہر کو دے دی۔
یاد رہے کہ بھارت میں کورونا نے تباہی پھیلا رکھی ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد کورونا کا شکار ہو رہے ہیں اور متعدد جان کی بازی ہار رہے ہیں۔