شعیب ملک کی بیگم ثانیہ مرزا جو کئی سالوں تک بھارت کے لئے ٹینس کھیلتی رہیں، حال ہی میں ایک ویب شو پر انٹرویو دیتے ہوئے اپنے ماضی سے متعلق بتاتی ہیں کہ:
'' جب میں 20 سال کی تھی تو میرےبازو میں چوٹ لگ گئی تھی اور اس کی وجہ سے مجھے سے ایک ٹینس کا ایونٹ چھوڑنا پڑا تھا، جس سے مجھے شدید ڈپریشن ہوگئی تھی، میں صف کمرے میں اکیلی بند رتی اور روتی رہتی تھی، کھانے کے لئے باہر نہ نکلتی تھی، مجھے ایک سال لگ گیا تھا اس ڈپریشن سے نکلنے میں''
ڈپریشن کا خاتمہ کیسے کیا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ:
''
مشکل وقت میں میری فیملی نے مجھے ہمت دی اور صحیح راستہ دیکھانے میں مددکی اور یہ وہ مدد تھی جس کی مجھے ضرورت تھی۔ جب انسان ذہنی طور پر سکون میں ہوتا ہے تو کامیابی خود اسکا پیچھا کرتی ہے، ایک کھلاڑی کے لئے سکون میں ہونا بہت ضروری ہے تاکہ وہ تازہ دماغ سے کھیل سکے۔ ''۔
''
ڈپریشن بھی ایک بیماری ہے اور یہ مجھے لگتا ہے سب سے زیادہ خطرناک ہے، اس لئے ڈپریشن سے نکلنے کے لئے آپ کو اچھا ماحول اور ساتھ دینے والے لوگ چاہیئے ہوتے ہیں جو آپ کو سنبھال سکیں۔