میری 3 بیٹیاں ہیں اور تینوں کے دل میں سوراخ ہے جب شوہر نے طلاق دی تو ۔۔ جانئیے اس ماں کی درد ناک کہانی جو اولاد کی تکلیف میں تڑپ رہی ہے

image

ماں وہ ہستی ہے جو بچوں کے خاطر کچھ بھی کر سکتی ہے، آج ہم آپ کو ایک ایسی ماں کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جس کا تعلق لاہور سے ہے اور ان کے شوہر ان کو بے یارو مددگار چھوڑ چکے ہیں مگر اس ماں کی بچیوں سے محبت نے اسے مضبوط بنائے رکھا ہے۔

گڑھی شاہو میں ایک کرائے کے مکان میں رہنے والی ندا بی بی بتاتی ہیں کہ شوہر سے طلاق کے بعد وہ اپنی بچیوں کی کفالت کے لیے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں مگر اس سے بھی علاج کے لیے پیسے نہیں بن پاتے۔

ندا بی بی کی تین بیٹیاں ہیں اور یہ تنیوں پیدائشی بیمار ہیں ان معصوم کلیوں کے دلوں میں سوراخ ہیں، جبکہ دو بینائی سے بھی مکمل محروم ہیں، اور ایک بیٹی کی ایک آنکھ کی بینائی نہیں ہے۔

ندا بی بی بتاتی ہیں کہ ان کا شوہر ان کو طلاق دے چکا ہے جس کے بعد سے وہ کرائے کے مکان میں رہ رہی ہیں اور گزر بسر کرنے کے لئے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں مگر وہ گھر کی واحد کفیل ہیں اور اس مہنگائی کے دور میں وہ اتنا کماتی ہیں کہ دو وقت کی روٹی کھا لیں مگر بچیوں کا علاج نہیں کروا سکتیں۔

والدین کی مرضی سے شادی کے بعد جب ندا کو خدا نے اولاد کی نعمت سے نوازہ تو ان کے ہاں پہلی بیٹی دعا پیدا ہوئ جس کے دل میں سوراخ تھا، پھر دوسری بیٹی خدیجہ پیدا ہوئی تو اس کے دل میں بھی سوراخ تھا اور وہ دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم تھیں۔

پھر تیسری مرتبہ بھی خدا نے جب بیٹی کی نعمت سے نوازہ تو نومولود فائقہ بھی دل کے مرض میں مبتلا تھی اور ایک آنکھ کی بینائی سے بھی محروم تھی۔

شوہر نے گھریلو لڑائی جھگڑے کی بنا پر ندا کو طلاق دے کر دوسری شادی کر لی جس کے بعد ندا بچیوں سمیت گڑھی شاہو آ گئیں، ندا کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث ان کا گزارا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور اکثر تو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کی دوائی بھی نہیں خریدی جاتی۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دل میں سوراخ کا مسئلہ بچوں میں خاندانی وجہ یا کچھ جینیاتی خرابی کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ''اگر بچوں کے دل میں چھوٹا سوراخ ہو تو وہ خود بخود بھی ٹھیک ہوسکتا ہے، لیکن کئی بار علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور جن بچوں کے دل میں سوراخ بڑا ہوتا ہے ان کا آپریشن کرنا پڑتا ہے''۔

بچے کے دل میں سوراخ ہو تو 10 سے 15 فیصد بچوں کی صحت یابی کا امکان ہوتا ہے، جبکہ اگر ماں کے حاملہ ہونے پر مناسب ادویات کا استعمال کیا جائے اور خاندانی طور پر اس بیماری کا خدشہ ہو تو اس کا شروعات سے علاج کر کے اس پر پہلے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔

ندا اور ان کی تینوں بیٹیاں حکومتی امداد کی منتظر ہیں اگر بر وقت ان کی مدد کر دی جائے تو یہ ننھی کلیاں مرجھانے سے بچ جائیں گی اور زندگی کی طرف لوٹ آئیں گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US