عید الضحیٰ کے موقع جہاں پر ہر طرف جانوروں کی دھوم لگی ہوئی ہے، کوئی منڈی جا کر جانوروں کو خریدنے میں لگا ہے، تو کوئی مزے سے اپنے خریدے ہوئے جانوروں کے نخرے اٹھا رہا ہے۔ لیکن کچھ ایسا ہی ان جانوروں کے مالک بھی کرتے ہیں قربانی سے قبل ان کو اتنا وزنی بنا دیتے ہیں کہ دیکھنے والوں کی نظریں ٹہرجائیں اور ساتھ ہی اسکے منفرد ناموں کے بھی خوب چرچے ہوتے ہیں۔ اس سال کے پاکستان کے وزنی بکروں سے آپ بھی ملیں جو اب منڈی میں نظر آ رہے ہیں۔
شیر دل:
گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا بکرا شیر دل ہے جس کا وزن 314 کلو گرام ہے اور اس نے اپنے وزن کے باعث 23واں آل پاکستان سالانہ مقابلہ فیصل آباد اپنے نام کرلیا ہے۔
کالو:
278 کلو گرام وزنی ملتان کا کالو ہے جس کی خوبصورتی اور کھانے پینے کے خوب چرچے ہیں، اس کا مالک اس کو سیب اور کیلے بہت کھلاتا ہے۔
بھورا:
بھورے کے تو نخرے اٹھانے مشکل ہیں۔ یہ صفائی پسند ہے۔ اس کو گندی چیزوں میں کھانا بھی پسند نہیں ہے۔ اس کا وزن 190 کلو ہے جو کہ اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہے۔
کٹو:
کٹو ہے اس کا نام۔ کرتب بھی دکھاتا ہے بے مثال۔ اس کا وزن 200 کلو بتایا جاتا ہے جب کہ قیمت بھی بہت بھاری ہے۔ اس کو چنا دال دودھ اور الائچی مکس کرکے پکا کر کھلائی جاتی ہے جبکہ دن بھر میں یہ چھ سے آٹھ کلو چارہ کھا لیتا ہے
.