انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کے ’سکیورٹی خدشات‘ اور پاکستانی نژاد امریکی کرکٹرز کو ویزے نہ ملنے کی اطلاعات

بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے مشیر برائے کھیل آصف نذرل نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو ایک خط بھیجا ہے اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے انڈیا جا کر ورلڈ کپ کھیلنے کے معاملے پر ’تین خدشات‘ ظاہر کیے ہیں
انڈیا، بنگلہ دیش
Getty Images

انڈیا اور سری لنکا میں رواں برس ٹی 20 ورلڈ کپ کے انعقاد سے قبل ہی یہ میگا ایونٹ متعدد تنازعات کا شکا نظر آتا ہے، جہاں بنگلہ دیش اپنے ٹیم انڈیا بھیجنے پر آمادہ نہیں اور اطلاعات کے مطابق نئی دہلی نے متعدد پاکستانی نژاد امریکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ویزا کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک پریس ریلیز میں یہ تصدیق کی ہے کہ ان کی ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں جائے گی۔

اس سے قبل بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے مشیر برائے کھیل آصف نذرل نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بی سی بی کو ایک خط کے ذریعے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے انڈیا جا کر ورلڈ کپ کھیلنے کے معاملے پر 'تین خدشات' ظاہر کیے ہیں۔

یہ خط بنیادی طور پر آٹھ جنوری کو بھیجی گئی ایک ای میل ہے جو آئی سی سی کے سکیورٹی مینیجر نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سیکیورٹی ایڈوائزر کو بھیجی۔

ای میل کے متن میں ان خطرات پر بات کی گئی ہے جو انڈیا جا کر کرکٹ کھیلنے پر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اور ان کے حامیوں کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں۔ ای میل میں آئی سی سی کے سیکیورٹی مینیجر نے ’خطرات کے جائزے کا خلاصہ (رسک اسسمنٹ سمری)‘ پیش کیا۔

ایسا جائزہ آئی سی سی عموماً کھیلوں کے ہر مقابلے سے پہلے لیتا ہے جس میں اس بات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے کہ کسی جگہ پر ٹیم کو کوئی خطرہ تو نہیں۔ خطرات کے اس جائزے کے بعد عام طور پر ہر ٹیم کے لیے ایک رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔

اس تجزیے سے ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے تاکہ ضروری احتیاطی تدابیر اخیتار کی جا سکیں۔

بی سی بی نے اب باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ آئی سی سی اور اس کے حکام کے درمیان ویڈیو کانفرنس پر گفتگو ہوئی ہے۔

بی سی بی کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس نے آئی سی سی کے سامنے اپنا موقف دُہرایا ہے کہ وہ سکیورٹی خدشات کے سبب وہ اپنی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے انڈیا نہیں بھیجنا چاہتا۔

تاہم آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول جاری کیا جا چکا ہے اور بی سی بی کو چاہیے کو وہ اپنے موقف پر نظرِثانی کرے۔

دوسری جانب ایک میگا ایونٹ سے جُڑا ایک اور تنازع اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کے پاکستانی نژاد کھلاڑی علی خان نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں بتایا کہ انڈیا نے ان کے ویزا کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پر متعدد صحافی یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ انڈیا نے علی خان کے علاوہ پاکستانی نژاد دیگر کھلاڑیوں کو بھی ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

امریکہ یا انڈیا کی جانب سے سرکاری طور پر ان اطلاعات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

آئی سی سی
ICC via Getty Images
بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کی ٹیم سے ڈراپ کرنے اور بنگلہ دیش کی جانب سے احتجاجاً انڈیا میں ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ دیکھا گیا

آئی سی سی کی ای میل میں کیا لکھا گیا؟

ای میل کے شروع میں انڈین کرکٹ بورڈ کی جانب سے مستفیض الرحمان کو نکالنے کی ہدایت، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا مطالبہ کہ وہ سکیورٹی مسائل کی وجہ سے انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں اور مستفیض الرحمان کو نکالنے پر بنگلہ دیش میں آئی پی ایل نشریات معطل ہونے کا ذکر ہے۔

اس کے بعد، بنگلہ دیشی ٹیم کو انڈیا میں لاحق خطرات کا الگ سے چار شعبوں میں جائزہ لیا گیا۔

ای ایس پی این کرک انفو نے رپورٹ کیا کہ رسک اسیسمنٹ آئی سی سی کی ایک ’معیاری درجہ بندی‘ ہے، جو عام طور پر میچ کا مقام تبدیل کرنے کے لیے کافی وجوہات بیان نہیں کرتی۔

مستفیض الرحمان
AFP via Getty Images
آئی سی سی ای میل کے متن میں ان خطرات پر بات کی گئی ہے جو انڈیا جا کر کرکٹ کھیلنے پر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اور ان کے حامیوں کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں

1۔ مستفیض الرحمان کا معاملہ

انڈیا میں ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ منعقد کرانے سے پہلے ’خطرات کا جائزہ‘ دسمبر میں مکمل ہوا اور ٹورنامنٹ کے لیے خطرے کی سطح ’درمیانی‘ قرار دی گئی تاہم ای میل میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کے لیے خطرے کی سطح ’درمیانی سے زیادہ‘ ہے۔

یعنی، جہاں دیگر ٹیموں کے لیے خطرہ درمیانہ ہے، بنگلہ دیش کے معاملے میں یہ اس سے زیادہ ہے۔

اس ابتدائی جائزے کے بعد، بنگلہ دیش ٹیم کے لیے خطرے کی سطح کا پھر سے جائزہ لیا گیا، اس میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش ٹیم کے لیے درمیانے درجے کا خطرہ ہے۔

تاہم، اس میں مزید یہ بات بھی درج کی گئی کہ اگر ’مذہبی انتہا پسندی شامل ہو گئی‘ تو بنگلہ دیش ٹیم میں مستفیض الرحمان کی موجودگی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

2۔ بنگلہ دیش ٹیم کے لیے سکیورٹی مسائل

شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش نے تین گروپ سٹیج میچ کلکتہ اور ایک ممبئی میں کھیلنے ہیں۔ میچ کے وقت اور مقابل ٹیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ان میچز میں بنگلہ دیش ٹیم کے لیے خطرے کو ’درمیانے سے بھی کم‘ درجے کا بیان کیا گیا۔

اس میں انڈین کرکٹ بورڈ کے عہدیدار سی وی مرلی دھر کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انھوں نے کہا کہ حالیہ پیشرفت کے بعد بھی رسک اسیسمنٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ پر اعتماد ہیں کہ سکیورٹی کا کوئی ایسا مسئلہ پیدا نہیں ہو گا جو حل نہ کیا جا سکے۔

3. سپورٹرز کی حفاظت

ای میل میں کہا گیا کہ ’بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا‘ (بی سی سی آئی) کے سکیورٹی اہلکاروں کے ماضی اور ان کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیوں کی بنیاد پر ’یہ امکان کم ہے کلکتہ یا ممبئی میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم یا ایونٹ میں شریک کوئی بھی اور ٹیم کسی خطرے کا شکار ہو یا ان کے لیے خطرے کی سطح اچانک سے بڑھ جائے۔‘

ان دونوں مقامات کے حوالے سے بنگلہ دیش ٹیم کو درپیش خطرے کا بھی ای میل میں ذکر کیا گیا۔

تاہم ان دونوں جگہوں پر بنگلہ دیشی شائقین کے لیے خطرہ درمیانے سے زیادہ پایا گیا ہے۔ خاص طور پر ان کے لیے جو ٹیم کی جرسی پہنتے ہیں یا بڑا گروہ بنا کر سٹیڈیم نہیں جاتے۔

اس کے علاوہ، ورلڈ کپ کے دوران تشدد کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو یہ آس پاس کے علاقوں میں تشدد اور احتجاج کا باعث بن سکتا ہے۔

رپورٹ مثال یہ پیش کرتی ہے کہ دونوں ممالک میں سے کسی ایک میں بھی مساجد جلانے، بڑے فسادات یا مذہبی اقلیتوں کے قتل جیسا کوئی واقعہ ہوا تو کشیدگی بڑھ جائے گی اور ٹیم کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

اگرچہ ایسا واقعہ ہونے کا امکان کم ہے لیکن ای میل میں ممکنہ طور پر ایسا کوئی واقعہ ہونے پر بات کی گئی ہے۔

4۔ بنگلہ دیش میں انتخابات

آئی سی سی رسک اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ کشیدگی، خاص طور پر 12 فروری کو ہونے والے قومی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی، ’مختصر سے درمیانی مدت تک‘ پورے خطے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تاہم اس وقت یہ کشیدگی کھیل کی جگہ یا کھلاڑیوں کے خلاف تشدد میں تبدیل نہیں ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو بنگلہ دیش کی ٹیم اور کھلاڑیوں کے لیے خطرہ درمیانہ ہی رہے گا۔

تاہم تجزیے کے مطابق ایسا ہونے کی صورت مقررہ مقامات پر بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے سکیورٹی کا دوبارہ سے جائزہ لینا ہو گا۔

ای میل کے آخر میں ذکر ہے کہ دونوں کرکٹ بورڈز کے غیر جانب دار سکیورٹی مینیجرز اب سٹریٹجک سیکیورٹی پلان کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

آخری سطر میں بی سی بی کے سکیورٹی مشیر کو بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر ان کی تشخیص اور تبصرے کو خوش آمدید کہا جائے گا تاکہ بی سی بی کے نقطہ نظر سے کسی بھی خطرے یا خدشات کو مربوط انداز میں حل کیا جا سکے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا بیان

مشیر کھیل کے بیان کے چند ہی گھنٹے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا میں بنگلہ دیشی ٹیم کی سکیورٹی سے متعلق عبوری حکومت کے مشیر کھیل نے جو تبصرہ کیا وہ آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان ہوئی گفتگو کا ایک حصہ تھا۔

آئی سی سی کے شعبہ سکیورٹی اور بی سی بی نے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران بنگلہ دیشی ٹیم کو انڈیا میں لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا لیکن یہ بنگلہ دیش کی اس درخواست کا جواب نہیں کہ سکیورٹی خدشات پر بنگلہ دیش کے میچز دوسرے ممالک میں منتقل کیے جائیں۔

بی سی بی نے کہا کہ انھوں نے مقام تبدیل کرنے کی درخواست باضابطہ طور پر کر دی ہے تاہم اس معاملے پر آئی سی سی کی طرف سے کوئی سرکاری جواب نہیں آیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US