خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے سیکیورٹی کی جانب سے کور کمانڈر پشاور کو اِن کیمرہ بریفنگ کے لیے لکھے گئے خط سے نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے خط کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ فوجی قیادت، خصوصاً کور کمانڈر یا جی ایچ کیو سے براہ راست اِن کیمرہ یا ادارہ جاتی بریفنگ کی درخواست کرے۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح طور پر تصدیق کی ہے کہ ایسا کوئی خط تاحال کور ہیڈکوارٹر کو موصول ہی نہیں ہوا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روزمرہ کوآرڈینیشن یا معمول کے رابطوں کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے مگر صوبائی اسمبلی میں امن و امان پر اِن کیمرہ بریفنگ کسی صورت معمول کا معاملہ نہیں، یہ ایک حساس اور باضابطہ ادارہ جاتی عمل ہے جس کے لیے وفاقی منظوری لازم ہوتی ہے۔