محبت کرنا اور اظہار کرنا کوئی جرم نہیں ہے، لیکن اصول و ضوابط اور قاعدوں کے حساب سے زندگی گزاریں تو کوئی بُرائی نہیں ہے۔ مگر آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ کچھ ماہ قبل جامعہ لاہور میں کھلے عام لڑکی نے لڑکے کو پروپوز کیا اور ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوگئی جس پر یونیورسٹی کی جانب سے ان کو نکال دیا گیا اور پھر خبریں عام ہوئی کہ ان کی شادی ہوگئی اور جامعہ میں دوبارہ ان کو پڑھنے کی اجازت مل گئی، مگر اب حالیہ انٹرویو میں طلبہ حدیقہ جاوید نے ساری پول کھول دی۔
حدیقہ دو مختلف ویب ٹی وی انٹرویو میں اپنے اور شہریار کے بارےمیں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ:
''
میری غلطی صرف یہ تھی کہ میں نے محبت کا اظہار یوں کھلے عام کیا جو مجھے بعد میں احساس ہوا کہ میری سب سے بڑی غلطی تھی اور اب میں پچھتاتی ہوں اس وقت کو میں نے شہریار کو پرپوز ہی کیوں کیا۔ اس وقت ہم ایک اچھے دوست تھے اور میرے دل میں جو کچھ تھا وہ میں نے سب کے سامنے اظہار کیا اور آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں۔ اس دن ہمارے ایک کلاس فیلو کی سالگرہ منائی گئی تھی اور میرا پلان تھا کہ میں شہریار کو ایسے پروپوز کروں گی، لیکن اس کو یہ سب کچھ بالکل معلوم نہ تھا اور یہ ایک سرپرائز تھا اس کے لئے، جب میں گٹھنوں کے بل بیٹھی تھی تو اس وقت قریب میں صرف ہمارے کلاس فیلوز ہی تھے، لیکن جب میں اٹھنے لگی تو اتنا رش ہوگیا تھا، مجھے اس وقت اتنا اندازہ نہیں ہوا لیکن اسی شام ہمارے یونیورسٹی گروپ میں ہماری ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔ ہم نے سوچا تھا کہ ماسک پہنے رکھیں گے وہ نہیں اتاریں گے، لیکن گرم جوشی میں نہ میں نے ماسک پہنا اور نہ شہریار نے، اسی رات ہمیں جامعہ سے فون آیا اور اگلے دن صبح 9 بجے والدین کے ساتھ بلایا، شہریار تو اپنے گھر والوں سے ملنے شہر سے باہر چلا گیا، اس وقت مجھے میرے قریبی کزنز کی کالز بھی آئیں، محلے والے بھی بولنے آئے ، وہ وقت ایسا تھا کہ میں کیسے خؤد کو سنبھالتی اور اپنے والدین کو بھی کیسے بتاتی، ہم نہیں گئے، اس کے بعد ہمیں نکالا گیا اور واپس داخلہ دے دیا گیا۔
''
مذید بتاتی ہیں کہ:
''
اس کے بعد کچھ ہی وقت تک میری اور شہریار کی بات رہی اور چو تصاویر اور خبر وائرل ہوئی تھی کہ ہم دونوں سے شادی کرلی تو وہ سب کچھ جھوٹ تھا، ہمارے والدین جب آپس میںملے تو شہریار کے گھر والوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جو میری سوچ سے بھی باہر ہیں، ان کے مطابق شہریار ابھی چھوٹا ہے اس کی ابھی شادی کی عمر نہیں ہے اور پھر یہ کہا کہ شہریار کی تو ہم نے بچپن میں ہی منگنی کردی تھی، شہریار نے بھی کوئی ایسا جواب نہ دیا، البتہ میرے والد نے مجھے سمجھایا کہ اس گھر میں تم خوش نہیں رہ سکتیں، ان کی سوچ ہم سے بالکل مختلف ہے، پھر بھی اگر آپ کی مرضی ہے تو شادی کرلو، ہمیں اعتراض نہیں ہے۔ حدیقہ نے بارہا کہا کہ میرے گھر والوں کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن شہریار کے گھر والوں کو بہت مسائل ہیں۔
''
آخر میں کہتی ہیں کہ:
''
ہماری اب کوئی بات چیت نہیں ہے، شہریار جس لڑکی کے ساتھ ٹک ٹاک اور سنیک ویڈیوز بناتا ہے وہ میں نہیں، ہماری ایک دوست ہے، اس کو اس سب معاملے میں نہ گھسیٹیں وہ بے قصور ہے، لوگ مجھے انسٹاگرام پر بھی بہت باتیں سناتے ہیں، کبھی اس لرخی کے کردار پر انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ وہ تو اس سب سے بالکل لاعلم ہے۔ محبت کے چکر میں میری ڈگری رہ گئی، لیکن اب میں ستمبر میں اپنی ڈگری مکمل کروں گی۔
''
شہریار نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی ڈگری مکمل ہونے میں دو سال باقی ہیں۔ ڈگری کے بعد حدیقہ سے شادی کی بات آگے بڑھائیں گے۔ اس پر حدیقہ نے کہا کہ ہم دونوں میں طویل عرصے سے رابطہ ختم ہوچکا ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ دو سال بعد شادی ہو جائے۔ جب رابطہ ہی نہیں ہے تو شادی کیسے ہوسکتی ہے؟ یونیوسرٹی کے نکالے جانے والے فیصلے پر میں متفق نہیں ہوں۔ اب میری زندگی میں بہت مشکلات ہیں لیکن میرے والد بہت ساتھ دینے والے ہیں۔