افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد مختلف طرح کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے میں آرہی ہیں۔ کہیں افغان طالبان ڈاجنگ کار چلاتے دکھائی دے رہے ہیں تو کہیں جم میں ورزشیں کرتے ہوئے مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔
اب وہیں کابل میں طالبان کی جانب سے میک اپ سلون کے باہر خواتین کے پوسٹرز پر سیاہ اسپرے کرنے کی تصاویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہر طرف پھیل رہی ہیں جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ٹویٹر صارفین طالبان کے اس اقدام کو خواتین مخالف قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کیا یہ ہیں طالبان کا اصل چہرہ جو خواتین کو حقوق و تحفظ فراہم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
طالبان کے جنگجو پورے تقریباً پورے افغانستان پر قبضہ کرچکے ہیں علاوہ ازیں کابل شہر پر قبضے کے بعد افغان طالبان نے اپنے اقتدار سنبھالنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
ایسے میں افغانستان کے طالبان کی جانب سے نئی پالیسیز کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے جبکہ آئے دن افغانستان میں صورتحال بدلتی نظر آ رہی ہے۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر زیر گردش ٹوئٹس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغانی طالبان خواتین ماڈلز کی تصویریں اسپرے کے ذریعے مٹا رہے ہیں اور پوسٹر پر بنے خواتین کے چہروں کو مٹا رہے ہیں۔
ان ٹوئٹس میں ایک ٹوئٹ کابل شہر کی شاہراہِ نو سے لی گئی ہے جس میں طالبان کو ماڈلز کے پوسٹر کو سفید رنگ سے رنگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے خواتین کے حقوق اور میڈیا کی آزادی سے متعلق اپنی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔