نور مقدم کا قتل ہو یا کل مینارِ پاکستان پہ ہونے والا افسوسناک واقعہ، دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے ہر واقعے کی ذمہ داری ہمیشہ تشدد کا نشانہ بننے والی عورت پر ہی ڈالی جاتی ہے۔ جہاں نور مقدم کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس کے کردار پر سوال اٹھایا وہیں کل مینار پاکستان کے واقعے کے بعد عائشہ اکرام کے خلاف بھی کئی باتیں کی گئیں۔ کچھ سوشل میڈیا صارفین کے مطابق یہ ٹک ٹاک پر وڈیو بنانے والی خاتون کا شہرت حاصل کرنے کا طریقہ تھا اور کچھ نے یہ سوال اٹھایا کہ آخر وہ لڑکی وڈیو بنانے گئی ہی کیوں تھی؟
ایک اور ٹوئٹر صارف بے لکھا کہ
اپنے گریبان میں بھی جھانکیں
یہ بات درست ہے کہ ہمارا ایک اسلامی معاشرہ ہے جس میں خواتین کی بے پردگی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن جہاں ہم خواتین کی بے جا نمود و نمائش کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے لئے ضابطہ کردار طے کرنے والا مذہب اسلام مردوں کے لئے بھی کچھ حدود طے کرتا ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ جب اللہ نے مرد کو نظر نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے تو اس کے بعد تو خواتین کے ساتھ بدتمیزی کا کوئی جواز ہی نہیں بچتا۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں کیونکہ اپنے گریبان میں کوئی جھانکنا ہی نہیں چاہتا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ معاملہ صرف خواتین تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ شرپسند عناصر سے معصوم بچے اور مردے بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ ایسے میں خواتین پر ہونے والے ظلم کا ذمہ دار خواتین کو ٹہرانا ہی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ وکٹم بلیمنگ میں شمار ہوتا ہے اور اس رویے سے کسی مسئلے کا حل نکالنا ممکن نہیں