جہانگیر خان ترین پاکستانی سیاست کا ایک ایسا نام ہے جسے کوئی فراموش نہیں کر سکتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے والے جہانگیر خان ترین پاکستانی سیاست میں بھی کافی ہل چل مچا چکے ہیں۔
آج آپ کو جہانگیرخان ترین کے بارے میں وہ معلومات فراہم کریں گے جو ہو سکتا ہے آپ نہیں جانتے ہوں۔
جہانگیر ترین مشرقی پاکستان یعنی بنگلادیش میں پیدا ہوئے تھے، جہانگیر خان ترین کے والد اللہ نواز ترین ریٹائرڈ ڈی آئی جی تھے۔ جبکہ 4 جولائی 1953 کو پیدا ہونے والے جہانگیر ترین نے ابتدائی تعلیم مشرقی پاکستان ہی میں حاصل کی تھی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد جہانگیر ترین اعلٰی تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے تھے، یونی ورسٹی آف کیرولائنا سے ایم بی اے کیا تھا۔ اور پھر لاہور آکر پنجاب یونی ورسٹی میں لیکچرار بھرتی ہوگئے تھے، اس وقت 705 روپے تنخواہ لینے والے جہانگیر ترین کو نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے کا شوق تھا، وہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کی داد دیتے ہیں۔
ایک سال بینک میں بھی نوکری کی، ویسے تو جہانگیر ترین اپنے خود کے کاروبار کو فوقیت دیتے ہیں، مگر والد کی خواہش پر نوکری بھی کی تھی، والد کہتے تھے کہ زندگی میں نوکری بھی کرنی چاہیے جو کہ آپ کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔
روز مرہ کے دن تھے، کہ جب ہی جہانگیر ترین کو خیال آیا کہ کیا میں ایسے ہی دن گزاروں گا؟ کیا یوں ہی میرے دن اور راتیں گزریں گی۔ اپنے دوست سے صلاح مشورے کے بعد اپنی نوکری سے استعفٰی دے دیا۔
جہانگیر ترین کی آبائی زمینیں ویسے تو تربیلا کے مقام پر تھیں، مگر چونکہ تربیلا کے مقام پر ڈیم بننا تھا۔ جس کی وجہ سے حکومت کی جانب سے جہانگیر ترین کو ان کی زمین کے بدلے لودھراں میں زمین الاٹ ہو گئی۔
جہانگیر ترین نے والد کو جب کاشتکاری کرنے کے فیصلے سے متعلق آگاہ کیا تو والد پہلے تو سکتے میں آگئے تھے، کیونکہ والد کو اندازہ نہیں تھا کہ بیٹا اس طرف بھی آسکتا ہے۔ لیکن پھر والد نے بیٹے کی صلاحیتوں کو دیکتھے ہوئے اجازت دے دی۔
جہانگیر ترین کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ انہوں نے فوجیوں سے وہ بنجر زمینیں اونے پونے دام خریدنا شروع کیں جہاں نہ تو پانی تھا اور نہ ہی ہریالی کی امید۔ پھر 20 سال تک جہانگیر ترین نے ان زمینوں پر محنت کی۔ اس کے علاوہ جاہنگیر ترین نے مقامی کسانوں سے بھی ان کی زمینیں ٹھیکے پر لینا شروع کیں، جس کی انہوں نے اتنی قیمت ادا کی جو کہ مقامی کاشتکار سالانہ کماتے تھے۔ جبکہ جہانگیر ترین پر مقامی کاشتکاروں اور رشتہ داروں نے دھوکے سے زمین خریدنے اور قبضہ کرنے کے الزامات بھی لگائے ہیں، لیکن یہ الزامات ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔
زمینوں سے ملنے والے پیسے سے جہانگیر ترین نے حصص خریدے، بینکوں میں حصہ ڈالا، صںعتیں خریدیں اور اپنی ملیں بنائیں۔ غرض اپنے پیسے سے ہر وہ کام کیا جس سے منافع مل رہا ہو۔
سابق وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف نے انہیں زرعی ٹاسک فورس کا سربراہ منتخب کیا تھا۔ اس دور میں بین الااقوامی مدد سے زمینوں پر جو تجربات ہوتے تھے، ان میں سے اکثر زمینیں جہانگیر ترین ہی کی تھیں، لیکن یہ صرف الزامات ہیں جو کہ جہانگیر ترین کے ناقدین ان پر لگاتے ہیں۔
سیاست میں اثر و سوخ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ترین خاندان کا سندھ اور پنجاب کے بڑے سیاسی گھرانوں میں رشتہ داریاں ہیں، جہانگیر ترین رحیم یار خان کے مخدوم خاندان کے داماد ہیں جبکہ گیلانی خاندان سے بھی رشتہ داری ہے۔ اس کے علاوہ سندھ کے پگاڑا خاندان کے سسرالی ہیں۔
لیکن سیاست بھی اس وقت کی جب انہیں فائدہ دکھا، یعنی پریز مشرف کے دور میں سیاست میں حصہ لیا، اور لودھراں سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ ویسے تو وزارت سے انکاری تھے مگر جب انہیں انہی کی منہ مانگی وزارت یعنی زراعت کی وزارت کی پیشکش کی گئی تو وہ منع نہیں کر سکے۔ ناقدین کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ مشرف کے دور میں جہانگیر ترین نے خوب فائدہ اٹھایا تھا۔ لیکن اس کا ثبوت آج تک سامنے نہیں لائے اور اگر لائے ہیں تو کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔
جہانگیر ترین کہتے ہیں کہ سیاست اور دیگر شعبے اپنی جگہ مگر میرا پیشہ کاشتکاری ہے جس سے مجھے بے حد لگاؤ ہے۔ میرے بچے لاہور میں رہتے ہیں، لودھراں میں میرا فارم ہے، رحیم یار خان میرا کروبار ہے کراچی اور اسلام آباد بھی جانا پڑتا ہے، ان تمام جگہوں پر پہنچنے کے لیے مجھے جہاز کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
میری 40 سال کی محنت تھی جو آج میں اس مقام ہر ہوں، میں کسی جاگیر دار کا بیٹا نہیں تھا، نہ ہی سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا تھا۔
اہلیہ سے متعلق جہانگیر ترین کہتے ہیں کہ اگر میری اہلیہ میری زندگی میں نہیں ہوتی تو آج میں اس مقام پر نہیں ہوتا، وہ میری سپورٹ ہیں۔
جہانگیر خان ترین کی فٹنس کا راز یہ بھی ہے کہ وہ ورزش کرتے ہیں، جس کے لیے انہوں نے اپنا پرسنل جم بنوایا ہوا ہے۔ ناشتہ میرا تگڑا ہوتا ہے البتہ میں ہر روز صبح ایکسر سائز کرتا ہوں۔ جبکہ جہانگیر ترین فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
اس وقت جہانگیر ترین اپنی خود کی شوگر ملز، کاشتکاری کے کاروبار سمیت کئی فلاحی اداروں کے سربراہ ہیں۔ جبکہ ان کا ایک بیٹا علی خان ترین اور تین بیٹیاں ہیں۔ سحر ترین، مریم ترین اور مہر ترین۔
سحر ترین اس وقت پاکستان کی مشہور فیشن ڈیزائنر ہیں جبکہ ان کے تیار کردہ ملبوسات کو پسند کیا جاتا ہے۔
مہر ترین اپنے خود کے برانڈ مائنڈ فُل مسی کی فاؤنڈر ہیں۔
اور مریم ترین ایڈیٹر، اور ٹیچر ہیں۔
جہانگیر خان ترین کی اہلیہ آمنہ ویسے تو میڈیا پر نظر نہیں آئی ہیں لیکن وہ اپنے شوہر کی سپورٹ میں ہر وقت تیار رہتی ہیں۔