گزشتہ کچھ عرصے سے معروف کامیڈین عمر شریف شدید علیل ہیں۔ جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے انہیں علاج کی غرض سے امریکہ لے جانے کیلئے ائیر ایمبولینس کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ تاہم ویزا کے حصول کیلئے وفاقی حکومت مدد کررہی ہے۔
آج ہم آپ کو عمر شریف کی زندگی اور ان واقعات کے بارے بتائیں گے جن کی بدولت وہ دنیا کے معروف کامیڈین بنے اور یہ بھی بتائیں گے کہ کیسے وہ اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
ایک مورننگ شو میں میزبان سے گفتگو کے دوران معروف کامیڈین عمر شریف کا کہنا تھا کہ میری کامیابیوں کے پیچھے میری والدہ کا بڑا ہاتھ تھا۔
میزبان کے سوال پر کہ آپ میں برجستگی کے ساتھ بولنے کا فن کیسے آیا، تو عمر شریف نے کہا کہ بچپن سے مجھ میں برجستہ انداز میں بات کرنے کی عادت تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گھر میں سب سے چھوٹا تھا، تو گھر میں سب کے ساتھ مذاق کیا کرتا تھا۔ اور میری یہ عادت اپنی والدہ اور والد صاحب سے میرے اندر آئی۔
عمر شریف نے بتایا کہ ان کے والد صاحب کا انتقال ان کے پیدا ہونے کے دو سال بعد ہوگیا تھا۔ مگر میری والدہ بتاتی تھیں کہ میرے والد صاحب بھی خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میری والدہ اور میرے والد دونوں شطرنج کھیلا کرتے تھے۔ جبکہ میں نے شطرنج اپنے بھائی سے سیکھی تھی۔
عمر شریف نے بتایا کہ جب وہ 7 سال کے ہوئے تو گھر کے مالی حالات بہتر نہیں تھے۔ اس وقت فیصلہ کیا کہ یا تو غربت رہے گی یا پھر ہم رہیں گے۔ تب میں نے 10 سال کی عمر میں پہلی نوکری کرنے کا سوچا اور گھر کے قریب لوم مشین کی فیکٹری میں کام مانگنے چلا گیا۔ انہوں نے کہا میں 10 سال کی عمر میں خود نوکری مانگنے فیکٹری کے مالک کے پاس جا پہنچا اور پھر فیکٹری کے مالک نے مجھے صبح 9 بجے نوکری پر آنے کا کہا تھا۔ عمر شریف نے بتایا کہ میں نے 9 سال تک اس فیکٹری میں نوکری کی۔
شو کی میزبان نے جب سوال کیا کہ شوبز کی طرف کیسے آنا ہوا، تو اس سوال کے جواب میں عمر شریف نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ جس بلڈنگ میں ہم رہائش پذیر تھے، وہاں ایک بار میں نے ڈریکولا کی طرح دکھنے کیلئے خون اور بڑے سے دانت لگا کر ایک گھر میں چلا گیا۔ وہاں پر موجود ایک آدمی جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی وہ بھی مجھے دیکھ کر بھاگنے لگا۔ اور پھر گھر واپس جاتے ہوئے جو شخص میرے سامنے آتا تھا وہ مجھے دیکھ کر ڈر جاتا تھا۔ وہاں مجھے یہ محسوس ہوا کہ میں شاید اداکاری کا کام اچھے سے کرسکتا ہوں۔ مگر اس حرکت پر میری والدہ نے مجھے بہت مارا۔ انہوں نے اپنے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ میری امی کے پاس ایک چپل ہوا کرتی تھی۔ جیسے وہ مجھے مارنے کیلئے استعمال کیا کرتی تھیں۔ جبکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کا نشانہ کبھی غلط جگہ نہیں لگتا تھا۔
اپنے تھیٹر کے سفر کے حوالے سے بتاتے ہوئے عمر شریف نے کہا کہ صدر میں ایک تھیٹر ہوا کرتا تھا، وہاں تھیٹر میں کام کرنے والے افراد مجھے جانتے تھے۔ وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ تمہیں تھیٹر میں کام کرنا چاہیے۔ میں ایک تھیٹر میں ایمرجنسی اداکار کے طور پر جانا جاتا تھا۔
ایک دن جب میں آدم جی ہاؤس کے ایک تھیٹر میں چھوٹا سا کردار کر رہا تھا۔ وہاں دوسرے تھیٹر میں ہندو پنڈت کا کردار نبھانے والے شخص کی غیر موجودگی کی وجہ سے مجھے وہ کردار نبھانے کو کہا گیا۔ وہ کہتے ہیں مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں اسٹیج پر گیا اور اپنا پہلا جملہ کہا، اس کے بعد ہال میں موجود لوگ اس جملے پر تالیاں بجاتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندو پنڈت کے کردار نبھانے پر مجھے ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ وہ میرا پہلا کردار تھا جس کے بعد مجھے تھیٹر میں کام ملنا شروع ہوگیا تھا۔ اس طرح میرا تھیٹر میں سفر کا آغاز ہوا۔