جب کبھی کسی اعلٰی عہدیدار کا دورہ ہوتا ہے تو آپ کے شہر کی سڑکوں کو بند کر دیا جاتا ہے، جس جگہ ٹہرایا جاتا ہے وہاں سخت پہرے داری ہوتی ہے۔ اسی طرح اس مشہور شخصیت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
لیکن ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ سعودی بادشاہ سلمان اور محمد بن سلمان جہاں بھی جاتے ہیں، اپنا محل ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کُل ایک اعشاریہ 4 ٹرلین ڈالرز یعنی ایک لاکھ پانچ ہزار ارب روپے کے مالک ہیں۔ یہ دنیا میں جہاں بھی سفر کرتے ہیں، تو باورچی، ملازمین، حتٰی کے رہائشی چیزیں بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ جبکہ وہ کسی دوسرے ملک میں سفر کے لیے اپنے ساتھ لائی گئی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔
سعودی بادشاہ سلمان جہاں بھی جاتے ہیں اپنے پرائیوٹ طیارے اور جہازوں میں سفر کرتے ہیں، ملائشیاء کے دورے میں بھی کنگ سلمان نے پرائوٹ بوئنگ 707 میں سفر کیا تھا۔ س وقت بادشاہ سلمان کے پاس 2 بوئنگ 707، بوئنگ 757 200، جبکہ بوئنگ 777 300، بوئنگ 7878 اور ائیر بس اے34200 موجود ہے جو کہ بادشاہ سلمان استعمال کرتے ہیں۔ یہ طیارے بادشاہ سلمان کے اپنے ہیں یعنی گھر کے دیگر افراد کے طیارے الگ ہیں۔
بوئنگ 747 ایک ایسا طیارہ ہے جو کہ 600 مسافروں کو لے جا سکتا ہے مگر بادشاہ سلمان اس طیارے میں تنہا سفر کرتے ہیں۔ اس جہاز میں کھانے پینے سے لے کر سونے تک کی جگہ اور آسائشیں موجود ہیں۔
ویسے تو کسی بھی ہوائی جہاز سے سفر کریں تو 20 کلوگرام تک کا سامان ہی ساتھ لے جا سکتے ہیں یا لا سکتے ہیں۔ مگر سعودی کنگ سلمان اپنے انڈونیشیاء کے سفر کے دوران ہواائی جہاز میں 506 ٹن کا سامان یعنی 5 لاکھ 6 ہزار کلوگرام کا سامان ساتھ لے کر گئے۔ اسی جہاز میں سعودی کنگ کی دو پرائیوٹ لیموزین اور جہاز سے اترنے کے لیے الیکٹرک سیڑھی جس پر سونا لگا ہوا تھا، موجود تھی۔
لیکن یہ سامان 7 الگ الگ ہوائی جہازوں کے ذریعے پہنچایا گیا جو کہ سعودی بادشاہ کے جہاز کے ساتھ ہی آ رہے تھے۔ اسی دورے میں کنگ کے ساتھ 1500 افراد مزید بھی آئے تھے، جن کے لیے 36 جہاز تیار کیے گئے تھے۔
جاپان یاترا میں بھی سعودی بادشاہ نے سب کو حیران کر دیا تھا، اس وقت بھی بادشاہ کے جہاز سے اترنے اور چڑھنے کے لیے 2 الیکٹرک سیڑھیاں جس پر سونا موجود تھا لائی گئی تھیں، 10 ائیر کرافٹس، 100 لیموزین کی گاڑیاں لائی گئی تھیں۔
ٹوکیو کے سب سے مہنگے ترین ہوٹلز کے 12 لگژری سوئٹس بُک کرائے گئے تھے، جبکہ بادشاہ سلمان کے ملازمین اور رشتہ داروں کے لیے کئی 5 اسٹار ہوٹلز کو خالی کرایا گیا تھا۔
فرانس پہنچنے پر بھی بادشاہ سلمان کے ساتھ 400 لگژری گاڑیاں صرف پروٹوکل کے لیے منگوائی گئی تھی۔ روس پہنچنے پر بادشاہ سلمان اپنا کھانا بھی ساتھ لائے تھے، وہ ایک ہزار کلو گرام کا کھانا ساتھ لے کر گئے تھے۔ شاہی فرنیچر اور کارپٹ بھی خاص طور پر سعودی عرب سے منگوائے گئے تھے۔ روسی دورے پر کنگ سلمان کے لگ بھگ 22 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔