چیف جسٹس گلزار احمد نے نسلہ ٹاور کو گرانے سے متعلق اس کے مکینوں کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کمشنر کراچی کو حکم دیا ہے کہ 1 مہینے میں عمارت خالی کروانے کا حکم دیا اور متعلقہ حکام سے عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔
چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے نسلہ ٹاور کو گرانے سے متعلق اس کے مکینوں کی تمام درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کمشنر کراچی کو حکم دیا ہے کہ 1 مہینے میں عمارت خالی کروانے کا حکم دیا اور متعلقہ حکام سے عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 3 رکنی بینچ نے نسلہ ٹاور کو گرانے سے متعلق کیس کی سماعت کی جس کی صدارت معزز جسٹس گلزار احمد نے کی ۔دوران سماعت نسلہ ٹاور کے مالک منیر اے ملک نے کہا کہ شہر میں نسلہ ٹاور کی طرح بہت سی عمارتیں کھڑی ہیں ، جس طرح نسلہ ٹاور بنایا گیا ، ویسے ہی بے شمار عمارتیں بنائی گئی ہیں ،گلاس ٹاور کی طرح ہمیں بھی ریلیف دیا جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں تو ساری چیزیں بکتی ہیں، اپروو پلان ہو یا لیز سب بکتا ہے، گلاس ٹاور کے اوپر تو صرف دو فلور تھے، آپ کے پلاٹ کو جہاں رکنا چاہیے تھا وہ آگے چلا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ممکن ہے 780 مربع گز سے اضافی جگہ کو گرا دیا جائے۔
مزید یہ کہ چیف جسٹس اعجازالحسن نے نسلہ ٹاور کے مکینوں کے وکیل عابد زبیری
سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ تو نسلہ ٹاور کے مالک کو پکڑیں۔