دولت ایک ایسی چیز ہے جو کہ خونی رشتوں کو بھی سفید کر دیتی ہے، بھائی بھائی میں ان بن کرا دیتی ہے۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں زیادہ دولت کمانے اور لالچ کی خاطر کئی لوگ اربوں روپے سے بینک کے مقروض ہو گئے ہیں۔
ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ مشہور بھارت بزنس مین اور بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی اور ان کے بھائی جن کا رشتہ گہرا تھا، کس طرح بزنس اور مقابلے کی وجہ سے کمزور ہو گیا تھا۔
مکیش امبانی کو دنیا ان کے کاروبار کرنے کے طریقے کی وجہ سے پہچانتی ہے۔ مکیش امبانی اگرچہ کاروباری شخص ہیں مگر وہ ہر ایک سے بنا کر رکھتے ہیں۔ مکیش امبانی کے بھائی انیل امبانی کو بھارت بھر میں پزیرائی حاصل ہے۔ مکیش امبانی کو دنیا امیر ترین کاروباری شخص کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ انیل امبانی کو ایک ایسے کاروباری شخص کے طور پر دیکھتی ہے جو عیش و آرام کی زندگی گزار رہا تھا، لیکن پھر زندگی میں آنے والے اتار چڑھاؤ نے اسے تبدیل کر کے رکھ دیا۔
دیرو بھائی امبانی مکیش امبانی اور انیل امبانی کے والد تھے، جو کہ خود بھی کاروباری شخص تھے۔ دیرو بھائی امبانی نے یمن میں بطور پیٹرول پمپ اسسٹنٹ کام شروع کیا تھا۔ اور جب وہ بھارت آئے تو ان کے ہاتھوں میں صرف 500 روپے تھے۔ جبکہ بھارت میں آکر انہوں نے ریلائنس کمپنی کی شروعات کی جسے انہوں نے 1977 میں پبلک کر دیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دیرو بھائی کا یہ پودا ایک گھنا اور سائے دار درخت کی طرح بڑا ہو گیا تھا۔
2002 میں دیرو بھائی کا انتقال ہو گیا اور اپنے پیچھے 2 اعشاریہ 9 بلین ڈالرز کی کمپنی ریلائینس کو چھوڑ گئے۔ والد کی موجودگی میں کاروبار اور گھر جڑا ہوا تھا، سب اچھا جا رہا تھا، اور یہی سوچ کر دیرو بھائی نے بھی کوئی وصیت نہیں کی۔ لیکن شاید یہی وجہ دونوں بھائیوں میں مقابلے کی وجہ بنا تھا۔
دونوں بھائیوں میں اختلاف تھا کہ ریلائنس کمپنی کا مینیجنگ ڈایریکٹر اور چئیرمین کون ہوگا۔ والد کے کاروبار کو آگے بڑھانے میں مکیش امبانی نے اہم کردار ادا کیا جیسے کہ پٹل گنگا پلانٹ کو چلانے کا ہنر مکیش امبانی جانتے ہیں جبکہ بھارت کی دوسری سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ریلائنس کمپنی بھی مکیش امبانی کا لگایا ہوا درخت ہے۔ لیکن انیل امبانی چاہتے تھے کہ یہ مجھے ملے، حالانکہ اس کمپنی کو پھلنے پھولنے میں مکیش امبانی کا ہاتھ تھا۔
2004 اور 2005 میں بیٹوں کے درمیان کاروبار سے متعلق کشیدگی دیکھ کر ماں کوکیلا بین نے کاروبار کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بٹوارے میں مکیش امبانی کو پرانی کمپنیاں جن میں ریلائنس انڈسٹریز، پیٹرولئیم، انڈئین پیٹرو کیمیکل کارپوریشن، ریلائنس انڈسٹرئیل انفراسٹرکچر۔
جبکہ انیل امبانی کو نئی کمپنیز جن میں ریلاینس کمیونی کیشن، اینرجی، کیپیٹل، ریلائنس نیچرل ریسورسز اور ریلائنس براڈکاسٹ نیٹ ورک ملیں، جن کا نام انیل نے تبدیل کر کے اے ڈی اے جی رکھ دیا۔
چونکہ انیل کو سن رائز سیکٹر پر عبور حاصل تھا، اسی لیے سب کا گمان تھا کہ انیل امبانی کمیش سے آگے نکل جائے گا۔ سن رائز سیکٹر کو بڑھاتے ہوئے انیل امبانی نے ایڈ لیبس فلمز کے نام سے پروڈکشن ہاؤس خرید لیا اور پھر 2007 میں یہ سب سے زیادہ سینیما کی چین کھولنے والا ادارہ بن گیا۔
دونوں بھائیوں میں مقابلہ اس وقت شروع ہوا جب مکیش امبانی نے ایشیاء کا مہنگا ترین گھر جس کی قیمت 4 ہزار کروڑ سے زائد بنتی ہے خریدا تھا۔ اسی وقت انیل امبانی نے بھی اتنی ہی رقم کا گھر بنوایا تھا جو کہ باندرا میں بنا گیا تھا۔
2010 میں معاملات اس حد تک خراب ہو گئے کہ انیل بھائی مکیش کو کورٹ تک لے گئے اور کورٹ میں شکایت کی کہ مکیش کرشنا گداوری بیسن کمپنی سے گیس کی سپلائی پرائس سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔
جبکہ 2005 کے کانٹریکٹ کے مطابق مکیش انیل کی کمپنوں کو 2۔34 ڈالرز برٹش تھرمل یونٹ پر گیس فراہم کرے گا۔ سرکاری طور پر پرائس 4۔24 ڈالرز برٹش تھرمل یونٹ مقرر کیے گئے تھے۔
جب مکیش امبانی نے ٹیلی کمیونیکشن کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنی کمپنی جیو کو متعارف کر وایا تو وہ آتے ہی چھا گئی تھی۔ شروعاتی تین سال ہی میں انیل کی کمپنی ریلائنس کمیونکیشن کے 98٪ ویلیو گھٹ گئی تھی۔ یہ صورتحال دیکھ کر انیل امبانی پریشان ہو گئے تھے۔ اسی صورتحال میں انہوں نے بگ سینیماز کارنیوال نامی کمپنی کو 7 کروڑ سے زائد روپوں میں فروخت کر دیا تھا۔
ممبئی میں تعمیراتی کام کروانے کے سلسلے میں انیل نے قرضے لیے مگر وہ پراجیکٹس بھی کامیاب نہیں ہو سکے اور منافع کے بجائے نقصان ہوا۔ اس طرح انیل امبانی ایک اندازے کے مطابق تقریبا 10 کھرب کے مقروض ہو گئے تھے، اس صورتحال نے انیل امبانی کے دیگر پراجیکٹس کو بھی متاثر کر دیا۔ اس کے مقابلے میں مکیش امبانی کی کمپنوں کو اتار چڑھاؤ کا سامنا تھا مگر وہ صورتحال کو سنبھال لیتا تھا۔
انیل امبانی کی آخری امید ریلائنس کیپیٹل جو کہ اچھا جا رہا تھا، وہ بھی کورونا صورتحال کی وجہ سے نقصان میں چلا گیا اور ٹھپ ہو گیا۔ جبکہ برطانوی عدالت کی جانب سے انیل امبانی کو 100 ملین ڈالرز جو کہ تقریبا پاکستانی 16 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر انیل امبانی نے کہا کہ میرے پاس اب دینے کو کچھ نہیں ہے۔
جبکہ ایک اور موقع ہر انیل امبانی کو عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یا تو آپ ایرکسن کمپنی کو تقریبا 4 کروڑ روپے سے زائد کی قیمت ادا کردیں یا جیل چلے جائیں۔ لیکن مکیش امبانی نے بھائی کو بچایا اور وہ قیمت خود ادا کی تھی۔