پچھلے 40 سالوں سے افغانستان کے حالات نہیں بدلے ہیں۔ آج بھی کم عمر افغانی بچے سگریٹ اور ٹافیوں جیسی معمولی سی چیزیں بیچنے کیلئے غیر قانونی طور پر پاکستانی سرحد پار کرتے ہیں۔ تاہم یہ افغانی بچے معمولی چیزوں کو سمگل کرنے کیلئے انتہائی اقدام اٹھا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق غیر قانونی طور پر پاکستان کی سرحد پار کرنے والے افغان بچوں کی عمریں ساتھ سے آٹھ سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ جبکہ یہ بچے سرحد پار کرنے کیلئے مال بردار ٹرکوں میں چھپ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئی ٹرکوں کے انجن سمیت دیگر جگہوں پر چھپ کر سرحد پار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم اس خواہش کے ساتھ کہ ان چیزوں کو فروخت کرکے وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں گے۔
ٹرکوں میں چھپ کر سرحد پار کرنے والے بچے کا کہنا تھا کہ میں غربت کی وجہ سے مجبور ہو کر یہ کام کررہا ہوں میرے والد بیمار ہیں۔ بچے نے بتایا کہ ہمیں سپلائرز سامان دیتے ہیں اور ہمیں جگہ بتا دیتے ہیں کہ اسے کہاں پہنچانا ہے۔
ایک اور بچے نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی جاں بحق ہوگئی تھی۔ وہ انجن کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی انتریاں باہر نکل آئیں تھیں، آپریشن بھی کیا گیا مگر وہ نہ سکیں۔
عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں کئی برس سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں بچے بے گھر ہوگئے ہیں یا جبری مشقت پر مجبور ہیں۔